اس روایت کی تحقیق سے
روایت:’’جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے والدین کی قبر، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کی اور سورۂ یا سین کی تلاوت کی، اس کی مغفرت کردی جاتی ہے‘‘، ایک روایت میں اس کے یہ الفاظ مذکور ہیں: ’’جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے والدین کی قبر، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کی تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے، اور اسے فرمانبردار لکھ دیا جاتا ہے‘‘، اور ایک مقام پر ہے: ’’اسے برئ الذمہ لکھ دیا جاتا ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجود راوی ابو الیمان محمد بن نعمان بصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’هو شيخ مجهول‘‘[86].
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء‘‘[87] میں فرماتے ہیں: ’’عن يحيى بن العلاء، مجهول، ويحيى متروك الحديث، ولم يأت بالحديث غيره‘‘. محمدبن نعمان، یحیی بن علاء سے روایت کرتا ہے، اور یہ مجہول ہے، اور یحیی متروک الحدیث ہے، اور محمد بن نعمان، یحیی کے علاوہ سے حدیث نہیں لاتا۔
اس کے بعد حافظ عقیلی l ایک حدیث تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’ولا يعرف إلا به‘‘[88]. اور یہ حدیث صرف اسی سے معروف ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’المغني‘‘[89] میں محمد بن نعمان کو ’’مجهول‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[86] الجرح التعديل:۸/۱۰۸،رقم:۴۶۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[87] الضعفاء الكبير:3/316،رقم:1332،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[88] الضعفاء الكبير:3/316،رقم:1332،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[89] المغني في الضعفاء:۲/۳۸۳،رقم:۶۰۴۸،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .