التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو الحسن عمرو بن زیاد بن عبد الرحمن بن ثوبان باہلی مولی رسول اللہ ﷺ

ایک روایت میں تذکرہ

ابو الحسن عمرو بن زیاد بن عبد الرحمن بن ثوبان باہلی مولی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو الحسن عمرو بن زیاد بن عبد الرحمن بن ثوبان باہلی مولی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[18] میں عمرو بن زیاد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’قال لنا محمد بن يوسف: قدم علينا هذا الشيخ من الري، وذكر أنه كان ببغداد، وكان يذكر أحمد بن حنبل، وأنه يعرفه، وذكر أبا زرعة الرازي، وأملى علينا أحاديث فأنكرها بعض من كان معنا من أصحابنا، فكتبنا إلى أبي زرعة، وبعثنا إليه بحديثه، فكتب إلينا أبو زرعة: إن هذه الأحاديث موضوعة، وإن الرجل كذاب‘‘.

محمد بن یوسف نے ہمیں کہا: ری سے ہمارے پا س یہ شیخ آیا، اس نے بتایا کہ وہ بغداد سے ہے، اور وہ احمد بن حنبلl کا ذکر کررہے تھے کہ یہ ان کو جانتے ہیں، اور ابو زرعہ رازیl کا بھی ذکر کیا، اور ہمیں کچھ احادیث کی املاء کروائی، تو ہمارے اصحاب میں سے بعض نے اس کا انکار کیا، ہم نے ابو زرعہl کو خط لکھا، اور ہم نے اس کی احادیث ابو زرعہl کی طرف بھیج دیں، ابو زرعہl نے ہمیں خط لکھا: یہ احادیث من گھڑت ہیں اور یہ شخص کذاب ہے۔

حافظ ابن ابی حاتمl  ’’الجرح والتعدیل‘‘[19] میں لکھتے ہیں:  ’’سألت أبي عنه: فقال: قدم الري فرأيته ووعظته فجعل يتغافل كأنه لا يسمع، كان يضع الحديث، قدم قزوين فحدثهم بأحاديث منكرة أنكر عليه على الطنافسي، وقدم الأهواز فقال: أنا يحيى بن معين، هربت من المحنة، فجعل يحدثهم ويأخذ منهم فأعطوه مالا، وخرج إلى خراسان، وقال أنا من ولد عمر، وخرج إلى قزوين وكان على قزوين رجل باهلي، فقال: أنا باهلي، وكان كذابا (أفاكا)، قال: كتبت عنه، ثم رميت به‘‘.

میں نے اپنے والد سے عمرو بن زیاد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ ری آیا تھا، میں نے اسے دیکھا تھا اور میں نے اسے نصیحت کی تھی، وہ خود کو غافل ظاہر کرتا تھا گویا کہ وہ سن ہی نہیں رہا، وہ حدیث گھڑتا تھا، قزوین آکر ان کو منکر احادیث بیان کیں، تو طنافسیl نے اس پر انکار کیا، اور اہواز آکر کہا کہ میں یحیی بن معین ہوں، میں آزمائش سے بھاگ کر آیا ہوں، پھر اس نے ان کو احادیث سنانی شروع کردیں اور ان سے لینا شروع کردیا، تو لوگوں نے اسے مال دیا، اور خراسان کی طرف جا کر کہا کہ میں عمر کی اولاد میں سے ہوں، اور قزوین کی طرف گیا اور وہ قزوین میں باہلی شخص بنا ہوا تھا، کہنے لگا کہ میں باہلی ہوں، اور وہ کھلم کھلا جھوٹا تھا، ابو حاتم l نے کہا: میں نے اس سے روایت لکھی تھی، پھر میں نے اسے ترک کردیا۔

حافظ خطیب بغدادی l نے ’’تاريخ بغداد‘‘[20] میں اور علامہ عبد الکریم قزوینی l نے ’’التدوین‘‘[21]  میں حافظ ابو حاتم l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن حبانl نے عمرو بن زیاد کو ’’ثقات ‘‘[22] میں ذکر کیا ہے۔

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، يسرق الحديث، ويحدث بالبواطيل‘‘. منکر الحدیث ہے، حدیث میں سرقہ کرتا ہے، اور باطل روایات بیان کرتا ہے۔

حافظ دار قطنیl ’’الضعفاء‘‘[24] میں فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث‘‘. یہ حدیث گھڑتا ہے۔

حافظ ابن مندہ l فرماتے ہیں: ’’عمرو بن زياد يعرف بالتأله، متروك الحديث‘‘[25]. عمرو بن زیاد عبادت میں معروف تھا، یہ متروک الحدیث ہے۔

حافظ ابو الحسن ابن القطان فاسی l ’’إحكام النظر‘‘[26] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعمرو بن زياد هذا غاية في الضعف، في حد من اتهم بالكذب‘‘. اور عمرو بن زیاد ضعف کے انتہائی درجہ پر ہے، ان لوگوں کی حد میں ہے جو جھوٹ بولنے میں متہم ہیں۔

حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[27] میں اسی طریق کے تحت عمرو بن زیاد کو ’’وضاع‘‘ اور ایک دوسرے مقام پر ’’ كذاب‘‘کہا ہے[28]۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl نے ’’لسان‘‘[29] میں ایک مقام پر عمرو بن زیاد کو ’’وضاع‘‘، اور ’’الإصابة‘‘[30] میں ایک روایت کے تحت ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[31] میں عمرو بن زیاد کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔

حوالہ جات

[18] الضعفاء الكبير:3/275رقم:1281،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[19] الجرح والتعدیل:۵/۲۳۳،رقم:۱۱۰۷،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[20] تاريخ بغداد:1۴/1۱۳،رقم:۶۶۱۷،ت:بشار عواد معروف،دارالغرب الإسلامي ـ بیرت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[21] التدوين في أخبارقزوين:۳/4۶۵،ت:عزيز الله العطاردي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱۴۰4هـ .

[22] الثقات:۸/۴۸۸،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعةالأولى1393هـ .

[23] الكامل في الضعفاء:۶/۲۵۹،رقم:۱۳۱۶،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[24] الضعفاء والمتروکون:ص:۳۰۵،رقم:۳۹۱،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[25] لسان الميزان:6/208،رقم:5803،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[26] إحكام النظر في أحكام النظر بحاسة البصر:ص:220،رقم:116،ت:إدريس الصمدي،دار القلم ـ دمشق، الطبعة الأولى۱۴33هـ .

[27] تلخيص الموضوعات: ص:346،رقم:940،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[28] تلخيص الموضوعات: ص:152،رقم:330،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[29] لسان الميزان:6/296،رقم:5977،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[30] الإصابة:۲/۱۵،رقم:۱۵۷۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .

[31] تنزيه الشريعة:۱/93،رقم:352،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ