روایت: ’’آپ ﷺ کا دریا کے کنارے پر عصر کی نماز کے بعد اپنی امت کےلئے رو رو کر مغفرت کی دعا مانگنا، اور ایک چڑیا کا اپنی چونچ میں چند دانے ریت کے لے جا کر دریا میں ڈالنا، پھر آپ ﷺ کے پوچھنے پر جبرائیل e کا آپ ﷺ کو بتانا کہ جس طرح چڑیا کے ریت کے چند دانوں سے دریا میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی طرح آپ ﷺ کی امت کے گناہ اللہ تعالی کی رحمت کے دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘‘۔
تفصیل
روایت: ’’ایک مرتبہ نبیeلشکر کے ساتھ واپس تشریف لارہے تھے، دریا کے کنارے آپﷺ نے پڑاؤ ڈالا، عصر کی نماز ادا کی، عصر کی نماز کے بعد اللہ تعالی کے پیارے حبیب ﷺ نے رو رو کر امت کی مغفرت کے لئے دعا مانگی، اے اللہ! میری امت کو بخش دیجیے، ان کی خطائیں معاف کر دیجیے، آپﷺ نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی چڑیا آئی اور اس نے ریت کے چند دانے اپنے منہ میں ڈالے، اور دریا کے پانی کی طرف اڑ کر چلی گئی، پھر دوبارہ آئی، پھر چند دانے ریت کے چونچ میں ڈالے پھر دریا کی طرف چلی گئی، جب اس نے دو چار دفعہ ایسا کیا تو اللہ کے پیارے حبیبﷺ متوجہ ہوئےکہ یہ چڑیا کر کیا رہی ہے؟اتنے میں جبرئیل e آئے نبیﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل یہ کیا معاملہ ہے؟ جبرائیل e نے کہا: اے اللہ کے نبیﷺ!اس سارے معاملے کو اللہ نے مجسم کرکے دکھایا۔
آپﷺ نے رو رو کر دعا مانگی، اللہ میری امت کے گناہوں کو معاف فرما دیجیے، رب کریم نے آپ کو مجسم شکل میں یہ بات دکھا دی کہ دیکھئے جس طرح اس چڑیا کی چونچ میں ایک دو دانے ہی تو ریت کے آتے ہیں اور یہ ان دانوں کو لے جاکر دریا میں جب ڈالتی ہے تو دریا کو ریت کے ان دانوں کا پتہ ہی نہیں چلتا، اے میرے حبیبﷺ! آپ کی امت کے گناہ ریت کے ان دانوں کی طرح ہیں اور میری رحمت تو اس دریا کے مانند ہے، جس طرح ریت کے دانے دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے، اسی طرح آپ کی امت کے گناہ میری رحمت کے دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے، میں قیامت کے دن آپ کو خوش کردوں گا‘‘۔
حوالہ جات
[1] صحيح مسلم:1/191،رقم:346،ت:محمد فواد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1412هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’نبی ﷺ نے ایک مرتبہ جہاد سے واپس تشریف لاتے ہوئے دریا کے کنارے پڑاؤ ڈالا، آپ ﷺاپنی ضرورت سے فارغ ہوئے اور آپﷺ نے اسی وقت تیمم فرما لیا، ایک صحابیr نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیﷺ! وہ سامنے پانی ہے، فرمایا: ہاں، کیا معلوم کہ یہاں سے وہاں جانے تک میری زندگی ساتھ دے گی یا نہیں؟ اس لئے میں نے احتیاطاً تیمم کرلیا ہے، پھر آپ ﷺ نے جاکر وضو فرمایا اور نماز ادا کی‘‘۔
روایت: ’’ایک صحابی r رسول کا آپ ﷺ کی خدمت میں آکر اپنے اونٹ کے بارے میں شکایت کرنا کہ وہ مجھے پوری رات سونے نہیں دیتا، اور اونٹ کا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ کہنا میں ان کو اس وجہ سے سونے نہیں دیتا کہ مجھے اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں ان کی نماز فوت نہ ہوجائے‘‘۔
روایت: ’’اللہ جل جلالہ کے حکم پر ابلیس کا رسول اللہ ﷺ کے پاس جانا، اور آپ ﷺ کا ابلیس سے اس کے دشمنوں اور دوستوں کے بارے میں سوال کرنا، اور ابلیس کا بتانا کہ آپ ﷺ کی امت میں میرے پندرہ دشمن، اور دس دوست ہیں‘‘۔
روایت: حضرت موسیٰe کا بے اولاد عورت کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ پیغام دینا کہ تمہاری قسمت میں اولاد نہیں ہے، پھر فقیر کو صدقہ دینے سے اللہ تعالی کا اس کو چار بیٹے عطا کرنا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنی اہلیہ سے ہمبستر ہو اور وہ یہ نیت کرے کہ اگر یہ حاملہ ہوگئی تو میں اس بچے کا نام محمد رکھوں گا، تو اللہ اسے لڑکا عطا فرمائیں گے، اور جس گھر میں محمد نام کا شخص ہوگا اللہ اس گھر میں خیر وبرکت فرمائیں گے‘‘۔