التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)

روایت: ’’آپ ﷺ کا دریا کے کنارے پر عصر کی نماز کے بعد اپنی امت کےلئے رو رو کر مغفرت کی دعا مانگنا، اور ایک چڑیا کا اپنی چونچ میں چند دانے ریت کے لے جا کر دریا میں ڈالنا، پھر آپ ﷺ کے پوچھنے پر جبرائیل e کا آپ ﷺ کو بتانا کہ جس طرح چڑیا کے ریت کے چند دانوں سے دریا میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی طرح آپ ﷺ کی امت کے گناہ اللہ تعالی کی رحمت کے دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘‘۔

تفصیل

روایت: ’’ایک مرتبہ نبیeلشکر کے ساتھ واپس تشریف لارہے تھے، دریا کے کنارے آپﷺ نے پڑاؤ ڈالا، عصر کی نماز ادا کی، عصر کی نماز کے بعد اللہ تعالی کے پیارے حبیب ﷺ نے رو رو کر امت کی مغفرت کے لئے دعا مانگی، اے اللہ! میری امت کو بخش دیجیے، ان کی خطائیں معاف کر دیجیے، آپﷺ نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی چڑیا آئی اور اس نے ریت کے چند دانے اپنے منہ میں ڈالے، اور دریا کے پانی کی طرف اڑ کر چلی گئی، پھر دوبارہ آئی، پھر چند دانے ریت کے چونچ میں ڈالے پھر دریا کی طرف چلی گئی، جب اس نے دو چار دفعہ ایسا کیا تو اللہ کے پیارے حبیبﷺ متوجہ ہوئےکہ یہ چڑیا کر کیا رہی ہے؟اتنے میں جبرئیل e آئے نبیﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل یہ کیا معاملہ ہے؟ جبرائیل e نے کہا: اے اللہ کے نبیﷺ!اس سارے معاملے کو اللہ نے مجسم کرکے دکھایا۔  

آپﷺ نے رو رو کر دعا مانگی، اللہ میری امت کے گناہوں کو معاف فرما دیجیے، رب کریم نے آپ کو مجسم شکل میں یہ بات دکھا دی کہ دیکھئے جس طرح اس چڑیا کی چونچ میں ایک دو دانے ہی تو ریت کے آتے ہیں اور یہ ان دانوں کو لے جاکر دریا میں جب ڈالتی ہے تو دریا کو ریت کے ان دانوں کا پتہ ہی نہیں چلتا، اے میرے حبیبﷺ! آپ کی امت کے گناہ ریت کے ان دانوں کی طرح ہیں اور میری رحمت تو اس دریا کے مانند ہے، جس طرح ریت کے دانے دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے، اسی طرح آپ کی امت کے گناہ میری رحمت کے دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے، میں قیامت کے دن آپ کو خوش کردوں گا‘‘۔

حوالہ جات

[1]  صحيح مسلم:1/191،رقم:346،ت:محمد فواد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1412هـ .

ملتی جلتی احادیث