روایت: ’’اللہ جل جلالہ کے حکم پر ابلیس کا رسول اللہ ﷺ کے پاس جانا، اور آپ ﷺ کا ابلیس سے اس کے دشمنوں اور دوستوں کے بارے میں سوال کرنا، اور ابلیس کا بتانا کہ آپ ﷺ کی امت میں میرے پندرہ دشمن، اور دس دوست ہیں‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] تنبیه الغافلین:ص:601،رقم:952،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة1421هـ .
[2] بصائر ذوي التمييز في لطائف الطتاب العزيز:۶/۱۰۳،ت:عبد العليم الطحاوي،إحياء التراث الإسلامي ـ القاهرة،الطبعة 1393هـ .
علامہ مجد الدین فیروز آبادی l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن الله تعالى أمر إبليس أن يأتي محمدا صلى الله عليه وسلم في صورة إنسان، ويجيبه عن كل ما سأل، قال: فجاء اللعين إلى باب المسجد وعليه لباس من صوف، وبيده عكازه مثل شيخ كبير، فنظره النبي صلى الله عليه وسلم فأنكره إذ لم يسلم عليه، فقال عليه السلام: ما أنت يا شيخ! فقال: أنا إبليس، أمرني الله تعالى أن أجيبك عن كل ما تسأل، فسل ما تريد، فقال صلى الله عليه وسلم: كم أعداؤك من أمتي؟ قال: خمسة عشر، وأنت رأسهم وأولهم، والإمام العادل، والغني المتواضع، والتاجر الصدوق، والعالم المتخشع، والمؤمن الناصح، والمؤمن الرحيم القلب، والمتورع عن الحرام، والمديم على الطهارة، والذي يؤدي حق ماله، والمؤمن السخى، والمؤمن الكثير الصدقة، وحامل القرآن، والقائم بالليل، والقائم على التوبة، قال: فكم رفقاؤك من أمتي؟ قال: عشرة: السلطان الجائر، والغني المتكبر، والتاجر الخائن، وشارب الخمر، وصاحب الزنى، وصاحب الربا، والقتال، وآكل أموال اليتامى، ومانع الزكاة، والطويل الأمل، هؤلاء خواصي، قال: كيف موضع صلاة أمتي منك؟ قال: تأخذني الحمى، قال: فموضع خوضهم في العلم؟ قال: أذوب كما يذوب الرصاص، قال: فالصوم؟ قال: أصير أعمى، قال: فقراءة القرآن؟ قال: أصير أصم، قال: الحج؟ قال: إذا قيدوني، قال: الجهاد؟ قال: يجمع يداي إلى عنقي بالغل، قال: الصدقة؟ قال: منشار يوضع على رأسي فأقطع نصفين نصف إلى المشرق ونصف إلى المغرب، قال: فلم ذاك يا لعين؟ قال: لأن لهم في الصدقة ثلاث خصال، يكون الله غريما لهم، وأن يكونوا من ورثة أهل الجنة، وعصموا مني أربعين يوما، وأي مصيبة أعظم من ذلك، فقال صلى الله عليه وسلم: من أبغض الخلق إليك؟ فقال: العالم الناصح لنفسه ولأئمة المسلمين، فقال: من أحبهم إليك؟ فقال: العالم البخيل بعلمه، الشحيح بدرهمه، فقال: كم لك من الأعوان؟ فقال: أكثر من قطر المطر وورق الأشجار، ورمل القفار، فقال صلى الله عليه وسلم: اللهم اعصم أمتي، قال: فولى اللعين هاربا‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’آپ ﷺ کا دریا کے کنارے پر عصر کی نماز کے بعد اپنی امت کےلئے رو رو کر مغفرت کی دعا مانگنا، اور ایک چڑیا کا اپنی چونچ میں چند دانے ریت کے لے جا کر دریا میں ڈالنا، پھر آپ ﷺ کے پوچھنے پر جبرائیل e کا آپ ﷺ کو بتانا کہ جس طرح چڑیا کے ریت کے چند دانوں سے دریا میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی طرح آپ ﷺ کی امت کے گناہ اللہ تعالی کی رحمت کے دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘‘۔
روایت: ’’حضرت ابو دجانہ r ایک صحابی ہیں، وہ فجر کی نماز پڑھتے، اور نماز پڑھنے کے بعد جلدی اپنے گھر چلے جاتے تھے، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں فجر کی محفل میں شرکت نہیں کرتے تھے، کسی نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ ابو دجانہ r پتہ نہیں کس حال میں ہے کہ جلدی چلا جاتا ہے، جب نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم جلدی کیوں چلے جاتے ہو؟ تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی ﷺ! میرے ہمسائے کے گھر میں ایک درخت ہے جس پر پھل لگے ہوئے ہیں، مگر اس کی کچھ شاخیں میرے گھر پر آتی ہیں، اور جب رات ہوتی ہے تو شاخوں سے پھل میرے گھر میں گر جاتے ہیں، میں فجر کی نماز پڑھ کر جلدی آتا ہوں، تا کہ ان پھلوں کو اٹھا کر اس آدمی کے گھر واپس ڈال دوں، ایسا نہ ہو کہ میرے بچے جاگ جائیں، اور بلا اجازت دوسرے کے پھل کھانے کے گناہ میں ملوث ہوجائیں۔۔۔‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک میں دس فائدے ہیں: منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اور شیطان کو ناراض کرتی ہے، اور فرشتوں کی محبوب چیز ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، اور منہ کو خوشبو دار بنا تی ہے، اور بلغم کو ختم کرتی ہے، اور کڑواہٹ کو زائل کرتی ہے، اور نگاہ کو تیز کرتی ہے، اور سنت کی موافقت کرتی ہے‘‘۔
روایت: خطبۂ جمعہ میں خطیب کے چہرے کی طرف دیکھنے پر میدان مزید میں اللہ تعالی کا دیدار نصیب ہونا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن دو شخص اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، ان دونوں کو جنت میں جانے کا حکم ہوگا، وہ دونوں کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم کس وجہ سے جنت میں داخل ہونے کے مستحق ہوئے ہیں، جبکہ ہم نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ ہمیں جنت کی اجازت دیں؟ اللہ تعالی فرمائیں گے: میرے بندو داخل ہوجاؤ، میں نے قسم کھائی ہے کہ احمد ومحمد نام کا کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا‘‘۔