التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)

روایت: ’’ایک صحابی r رسول کا آپ ﷺ کی خدمت میں آکر اپنے اونٹ کے بارے میں شکایت کرنا کہ وہ مجھے پوری رات سونے نہیں دیتا، اور اونٹ کا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ کہنا میں ان کو اس وجہ سے سونے نہیں دیتا کہ مجھے اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں ان کی نماز فوت نہ ہوجائے‘‘۔

حکم: سنداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے۔

تفصیل

’’حدیث پاک میں آیا ہے کہ ایک صحابی r نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبیﷺ! میں آپ کی خدمت میں ایک بات عرض کرنے کےلئے حاضر ہوا ہوں، پوچھا کیا بات ہے؟ عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میرا ایک اونٹ ہے، میں سارا دن محنت مزدوری کرتا ہوں، اس اونٹ پر سامان لادتا ہوں، اور میں اس کے دانے پانی کا پورا پورا خیال رکھتا ہوں، لیکن جب میں رات کو آکر سوتا ہوں تو کبھی کبھی وہ ایسی درد ناک آواز نکالتا ہے کہ میری آنکھ نہیں لگتی، اب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں آپ دعا فرمادیجئے کہ اونٹ مجھے رات کو سونے دیا کرے۔

نبی اکرم ﷺ نے جب یہ بات سنی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہم نے مدعی کی بات سن لی ہے، اب ہم مدعا علیہ کو بھی بلائیں گے، چنانچہ اس اونٹ کو بلانے کا حکم دیا گیا، وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آکر التحیات کی شکل میں بیٹھ گیا، نبی اکرم ﷺ نے اونٹ سے فرمایا: تیرا مالک تیری شکایت بیان کررہا ہے کہ وہ تیرے دانے پانی کا خیال رکھتاہے، لیکن تو اس کا خیال نہیں رکھتا، اور رات کو ایسی آوازیں نکالتا ہے جس سے تیرے مالک کی نیند خراب ہوتی ہے، یہ کیا معاملہ ہے؟

یہ سن کر اونٹ کے آنکھوں میں آنسوں آگئے، اور کہنے لگا: اے اللہ تعالی کے محبوب ﷺ! معاملہ یہ ہے کہ ہم دونوں سارا دن محنت مزدوری کرتے ہیں، یہ میرا خیال رکھتا ہے، میں ان کا خیال رکھتا ہوں، یہ بوجھ لادتے ہیں اور میں لے کر پہنچاتا ہوں، یہ مجھے دانہ پانی بھی دیتے ہیں، ہم دونوں ایک دوسرے کے اچھے ساتھی ہیں۔

نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اچھے ساتھی ہوتو پھر اس کو سونے کیوں نہیں دیتے؟ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے نبی ﷺ! معاملہ یہ ہے کہ کئی مرتبہ تھکے ہوئے گھر آتے ہیں، مغرب کے بعد کھانا کھا تے ہیں، اس وقت کبھی کبھی ان پر نیند غالب آجاتی ہے، تو دل میں سوچتے ہیں کہ میں تھوڑی دیر کےلئے کمر سیدھی کرلوں، پھر میں اٹھ کر عشاء کی نماز پڑھ لوں گا، لیکن جب کمر سیدھی کرنے کےلئے لیٹتےہیں تو نیند گہری ہوجاتی ہے، انہوں نے عشاء کی نماز نہیں پڑھی ہوتی، رات کو کافی دیر ہوجاتی ہے، چونکہ میں قریب ہوتا ہوں اس لئے مجھے نیند نہیں آتی کہ اگر ان کی نماز کی قضاء ہوگئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اللہ تعالی مجھ سے پوچھ لے کہ تونے اپنے ساتھی کو کیوں نہیں جگایا تھا، تاکہ وہ میرے حکم کی پابندی کرلیتا، اے میرے محبوب ﷺ! میرے اوپر بھی تھکاوٹ کی وجہ  سے نیند کا غلبہ ہوتا ہے، مگر میں اللہ تعالی کی جلالت شان کی وجہ سے ڈرتا ہوں اور درد ناک آوازیں نکالتا ہوں کہ میرے مالک اٹھ جا، اور اپنے مالک کی بندگی کرلے‘‘۔

ملتی جلتی احادیث