عنوانِ تحقیق: کھانے سے قبل دعا: ’’بِسْمِ اللهِ وَعَلَى بَرَکَةِ الله‘‘.
تفصیل
تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ اس دعا میں لفظ ’’علی‘‘ ثابت نہیں ہے، اس لیے اسے لفظ ’’علی‘‘ کے بغیر پڑھنا چاہیے، نیز دعا کا حوالہ دینے میں تسامح ہوتی ہے، ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
آپ نے اورادِ مسنونہ پر مشتمل مختلف کتابیں دیکھی ہوں گی، تقریباً ہر کتاب میں کھانے سے قبل یہ ہی مسنون دُعالکھی جاتی ہے: ’’بِسْمِ اﷲ وَعَلَی بَرَکَةِ اﷲ‘‘. در اصل یہ مسنون دعا،ایک مفصل حدیث میں مذکور ہے،البتہ بعض کتابوں میں اس دُعا کے حوالے سے دواَہم تسامحات(بھول چوک) موجود ہیں:
۱-دعا کا حوالہ دینے میں تسامح
۲- کلماتِ دعا میں تسامح
ذیل میں انہیں تسامحات کے حوالے سے تحقیق ذکر کی جائے گی۔
حوالہ جات
[1] سلاح المؤمن:ماجاء في التسمية عند الأكل والشرب:393،رقم:721،ت:محيي الدين أديب مستو، دار ابن كثير ـ بیروت،الطبعة الأولى1414هـ .
[2] و ضرب بيده إلى كذا:أهوى ـ كذا في لِسَان العَرَب:ضرب،1/634،ت:عامر أحمد حيدر،دار الكتب العلمية ـ بیروت،الطبعة الأولى2003ء .
[3] الجواهر الحسان (تفسير الثعالبي):سورة التكاثر:5/623،ت:الدكتور عبد الفتاح أبو سنة،إحياء التراث العربي ـ بیرت .
[4] حصن الحصين:ص:161 ،حواشي مولانا محمد إدريس،الناشر گابا سنز اردو بازار ـ کراتشی .
[5] تفسير مظهري:سورة التكاثر:10/336،دار إحياء التراث العربي ـ بیرت .
[6] مستدرك حاكم:كتاب الأطعمة:4/146،رقم:7178،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1422هـ .
[7] المعجم الأوسط:2/266،رقم:2247،ت:طارق بن عوض اﷲ،دار الحرمین ـ القاهرة،الطبعة ۱۴۱۵هـ .
[8] شعب الإيمان:6/330،رقم:4283،ت:مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .
[9] المعجم الأوسط:2/266،رقم:2247،ت:طارق بن عوض اﷲ،دار الحرمین ـ القاهرة،الطبعة ۱۴۱۵هـ .
[10] الكَفَاف:هو الذي لايفضل عن الشيء، ويكون بقدر الحاجة إليه، كذا في النهاية لابن الأثير:باب الكاف مع الفاء،4/690،ت:أبو عبد الله عبد السلام علوش،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[11] حصن الحصين:ص:161 ،حواشي مولانا محمد إدريس،الناشر گابا سنز اردو بازار ـ کراتشی .
ملتی جلتی احادیث
روایت: بچے کی بسم اﷲ پر، اس بچے کی، اس کے والدین کی اور اس کے اُستاد کی بخشش۔
مقدمہ
روایت: آپ ﷺ کا وِصال سے قبل اپنی ذات پر قصاص اور بدلہ دِلوانا۔
آپ نے قرآن کریم کے اختتام پریہ دُعا ضرور مشاہدہ کی ہوگی،جسے دعاءِ ختم قرآن یا دعاءِ ماثورہ کے عنوان سے لکھا جاتا ہے :
’’اللّهم آنس وَحْشَتِي في قَبْرِي. اللّهم ارحَمْني بالقرآن العَظِیم، واجْعَلْه لي إماماً ونُوراً وهُدىً ورَحْمَةً، اللّهم ذَکِّرْني منه ما نَسِیْتُ، وعَلِّمْنِي منه ما جَهِلْتُ، وارْزُقْنِي تِلَاوَتَه آناءَ اللیل وآناءَ النَّهار، واجْعَلْه لي حُجَّةً یا رَبَّ العَالَمِین‘‘.
روایت: ماں کی نافرمانی پر بیٹے کی حالت ِنزع میں کلمہ سے محرومی۔