آپ نے قرآن کریم کے اختتام پریہ دُعا ضرور مشاہدہ کی ہوگی،جسے دعاءِ ختم قرآن یا دعاءِ ماثورہ کے عنوان سے لکھا جاتا ہے :
’’اللّهم آنس وَحْشَتِي في قَبْرِي. اللّهم ارحَمْني بالقرآن العَظِیم، واجْعَلْه لي إماماً ونُوراً وهُدىً ورَحْمَةً، اللّهم ذَکِّرْني منه ما نَسِیْتُ، وعَلِّمْنِي منه ما جَهِلْتُ، وارْزُقْنِي تِلَاوَتَه آناءَ اللیل وآناءَ النَّهار، واجْعَلْه لي حُجَّةً یا رَبَّ العَالَمِین‘‘.
تفصیل
ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص اسے محض دُعا سمجھ کر پڑھے اور دوسروں سے بیان کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے،البتہ اگر رسول اللہ ﷺ کی طرف اس دُعا کا انتساب کیا جائے، توپہلے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ یہ روایت کسی معتبر، قابلِ بیان سند سے ثابت ہے یا نہیں!
ذیل میں اِس دعا کی بحیثیت حدیث،تحقیق ذکر کی جائے گی،تا کہ یہ بات واضح ہو جائے کہ آپ ﷺ کی جانب اس کی نسبت جائز ہے یا نہیں۔
حوالہ جات
[1] انظر سلسة الأحاديث الضعيفة:6/63،رقم:2548،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1425هـ .
واضح رہے کہ مجھے ’’مسند الفردوس‘‘ فی الحال میسر نہیں ہے، اس لئے میں نے ’’سلسة الأحاديث الضعيفة‘‘ کی مذکورہ سند میں ’’سالم الحناط‘‘ لکھا ہے، اور علامہ عبد الرؤف مناوی l نے ا س راوی کا نام ’’سالم الخیاط‘‘ لکھا ہے، اور مراجعت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہی ’’سالم الخیاط‘‘ صحیح ہے، البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ تصحیف (تبدیلی) نہ ہو اور سالم کی دونوں نسبتیں ہوں، یعنی الحناط اور الخیاط ۔ واللہ اعلم۔ی
[2] انظر المُدَاوِِِِِِِِِي:حرف الهمزة1/310،رقم:282،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۹۹۶ء .
[3] فيض القدير:1/333،رقم:571 ،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية1391هـ .
[4] تنزيه الشريعة:الفصل الثالث،1/299،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[5] الفوائدالمجموعة:باب فضائل القرآن:ص:310،رقم:33،ت:عبدالرحمن بن يحيى،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۶هـ .
[6] تذكرة الموضوعات:باب فضائل القرآن...،77،كتب خانه مجيديه ملتان ـ الباكستان .
[7] ميزان الاعتدال:1/106،رقم:421،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[8] الضعفاء والمتروكين:من اسمه محمد،3/95،رقم:3170،ت:عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[9] إتحاف السادة المتقين:كتاب آداب تلاوة القرآن،الباب الثاني:5/63، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[10] المغني عن حمل الأسفار:1/226،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبة دار الطبرية ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[11] سير أعلام النبلاء:17/554،رقم:370،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية1402هـ .
[12] التقريب:199،رقم:1808،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سؤريا،الطبعة الرابعة1418هـ .
[13] النشر في القراءات العشر:الأمور المتعلقة بالختم،2/464،ت:علي محمد الصباغ،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[14]البرهان في علوم القرآن:1/475 ،ت:محمد أبو الفضل إبراهیم،دارالتراث ـ القاهرة.
[15] شعب الإيمان:3/430،رقم:1915،ت:الدكتور عبد العلي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .
[16] ميزان الاعتدال:3/268،رقم:6384،تحقيق:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[17] طبقات الشافعية الكبرى:الطبقة الخامسة،3/482،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1420هـ .
ملتی جلتی احادیث
مقدمہ
روایت: ماں کی نافرمانی پر بیٹے کی حالت ِنزع میں کلمہ سے محرومی۔
روایت: ’’فِکْرَةُ سَاعَةٍ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّیْنَ سَنَة‘‘. ایک گھڑی کا غور وفکر ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے۔
روایت: ’’اتّقُوا مَوَاضِعَ التُّهَم‘‘. تہمت کی جگہوں سے بچو۔
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورۂ فاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے: اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔