روایت:جس میں مسواک کے چوبیس (۲۴) فضائل مذکور ہیں۔
حکم: حافظ ابن دقیق العید l فرماتے ہیں: ’’اس کے متن میں نکارت ہے، اور یہ موقوف ہے، مرفوع نہیں ہے‘‘،حافظ ابن ملقنl نے حافظ ابن دقیق العید l کے کلام پر اعتماد کیا ہے، حافظ عراقی l فرماتے ہیں: ’’خالد بن معدان کا ابو درداء r سے سماع نہیں ہے، اور حدیث کے متن میں نکارت ہے، اور یہ موقوف ہے‘‘،حافظ ابن حجر عسقلانیl فرماتے ہیں: ’’اس کی کوئی اصل نہیں ہے، نہ کسی صحیح طریق میں، اور نہ ہی کسی ضعیف طریق میں‘‘، علامہ لکھنویl نے حافظ ابن حجر l کے کلام پر اعتماد کیا ہے، الحاصل اسے رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] الإمام في معرفة أحاديث الأحكام:1/349،مخطوط من الشاملة .
[2] الإمام في معرفة أحاديث الأحكام:1/351،مخطوط من الشاملة .
[3] البدر المنير:۲/۲۷،ت:مصطفى أبو الغيط وعبد الله بن سليمان وياسر بن كمال،دار الهجرة ـ الرياض، الطبعة الأولى1425هـ .
[4] فيض القدير:۴/4۵1،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية1391هـ .
[5] تلخيص الحبير:1/248،ت:عادل أحمد عبد الموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[6] أحكام السواك من السعاية:ص:61،ت:صلاح محمد أبو الحاج،مركز أنوار العلماء للدراسات،الطبعة الأولى1441هـ .
[7] صحیح ابن خزیمة:1/70،رقم:135،ت:محمد مصطفى الأعظمی،المکتب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة ۱۴۰۰هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:جس میں مسواک کے تقریباً چوّن (۵۴) فضائل مذکور ہیں۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’السواك يزيد الرجل فصاحة‘‘. مسواک انسان کی فصاحت میں اضافہ کرتی ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک میں دس فائدے ہیں: منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اور شیطان کو ناراض کرتی ہے، اور فرشتوں کی محبوب چیز ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، اور منہ کو خوشبو دار بنا تی ہے، اور بلغم کو ختم کرتی ہے، اور کڑواہٹ کو زائل کرتی ہے، اور نگاہ کو تیز کرتی ہے، اور سنت کی موافقت کرتی ہے‘‘۔
روایت:ایک بالشت سے زائد مسواک پر شیطان کا سواری کرنا
روایت: ’’جب رسول اللہ ﷺ مسواک کرتے تو فرماتے: ’’اللّهم اجعل سواكي رضاك عني، واجعله طهورا وتمحيصا، وبيض به وجهي كما تبيض به أسناني‘‘. اے اللہ! میری مسواک کو میری طرف سے اپنی رضا کا سبب بنا، اور اسے پاکی اور گناہوں سے صفائی کا ذریعہ بنا، اور اس کے ذریعہ سے میرے چہرے کو ایسے چمکا دے جیسے اس کے ذریعہ سے میرے دانتوں کو چمکاتے ہیں‘‘۔