روایت:ایک بالشت سے زائد مسواک پر شیطان کا سواری کرنا
حکم: علامہ سفَّارینی l فرماتے ہیں: ’’یہ کلام ساقط ہے، اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ میری معلومات کے مطابق یہ کہیں وارد نہیں ہے‘‘، اور شیخ عبد الفتاح ابو غدہ l نے زیر بحث اور چند دوسری روایات کے متعلق فرمایا ہے: ’’ان حضرات کی ذکر کردہ ان مرویات کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے، اور نہ ہی ان کا کوئی نقلی یا عقلی اعتماد ہے، یہ چیزیں بعض فقہاء نے ’’نفرت دلانے‘‘ اور ’’کراہت پیدا کرنے‘‘کے باب میں کہی ہیں، کاش! وہ ان کو ذکر ہی نہ کرتے، کیونکہ مومن یہ چیزیں اتباع اور رسول کریم ﷺ کی سنت پر چلتے ہوئے اختیار کرتا ہے، اور محبت پیدا کرنے اور رغبت دلانے کےلئے سنت ہی کافی ہے، اگر یہ فقہاء یہ کہہ دیتے کہ ان چیزوں کا کرنا نبی ﷺ سے وارد نہیں ہوا ہے، تو یہ اُن کے ذکر کردہ ان امراض واغراض سے بہتر تھا، جن کی کوئی سند اور قبولیت نہیں ہے، لیکن علماء میں اللہ تعالی کی یہ سنت چلی آرہی ہے کہ ان کی ہر نوع میں متساہل ہوتے ہیں، الحاصل یہ فقہاء کے تساہلات میں سے ہے، اس سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے‘‘، نیز زیر بحث روایت سنداً نہیں ملتی، اور ایسی خبر صرف آپ ﷺ کے ارشاد ہی سے معلوم ہوسکتی ہے، اس لئے اس کو بیان نہ کیا جائے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] مختصر السواك:ص:۸ ،مخطوط من الشاملة .
’’مختصر السواک‘‘ کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’الفصل السادس في مقدار طول السواك: لا يزيدن طول السواك على شبرٍ أو دون الشبر ولو قدر إصبع، فإن ما زاد على شبر ركب عليه الشيطان يلعب به، فأقصد فيه، واقتصر منه على طول شبر، فإن ذلك أدين وأجمل، وفيه السنة، وفي عمل السنة أثابة الله تعالى عليه، يروى عن الربيع بن خيثم أنه مر على رجل يستاك، ومعه سواك قدر ذراع، فقال الربيع: يا هذا! أما علمت أن ما زاد على شبر لعب الشيطان به، وصار مركبه، فقطع منه حتى صار شبرا وأقل من شبر، ويروي إبراهيم النخعي رحمه الله أنه قال: قدر السواك شبرا أو دونه لمن استاك، فهذه قصدة فاقتصر عليه، فإن في زيادته فحشا ومتلفا ولا خير فيه‘‘.
[2] عجالة المحتاج إلى توجيه المنهاج:ص:9۹،ت:عز الدين هشام بن عبد الكريم البدراني،دار الكتاب ـ الأردن،الطبعة1421هـ .
’’عجالۃ المحتاج‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’ولا تضع السواك، إذا وضعته بالأرض عرضا، ولكن انصبه نصبا، فإنه يروى عن سعيد بن جبير أنه قال: من وضع سواكه بالأرض عرضا فجن من ذلك، فلا يلومن إلا نفسه، قال: ولا تزيد في طول سواكك على شبر ولو قدر إصبع، فما زاد عليه يركب عليه الشيطان، واقتصر على شبر ودونه، فإن ذلك السنة‘‘.
[3] تحفة السلاك في فضائل السواك:ص:۳۹،ت:راشد بن عامر بن عبد الله الغفيلي،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1436هـ .
’’تحفۃ السلاک‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’فعن الحكيم الترمذي رضي الله عنه: قدر شبر فما دونه، وما زاد عليه ركب عليه الشيطان‘‘.
[4] جامع الرموزشرح مختصر الوقاية المسمى بالنقاية:ص:15،مطبع مظهر العجايب ـ كلكته،الطبعة1274هـ .
’’جامع الرموز‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وقال الحكيم الترمذي: لا يزاد على الشبر، وإلا فالشيطان ركب عليه‘‘.
[5] الدر المختار:ص:120،ت:عبد المنعم خليل إبراهيم،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[6] إفادة الخير في الاستياك بسواك الغير ومعه أحكام السواك من السعاية:ص:6۶،ت:صلاح محمد أبو الحاج،مركز أنوار العلماء للدراسات،الطبعة الأولى 1441هـ .
[7] شرح الزرقاني على مختصر سيدي خليل:1/129،ت:عبد السلام محمد أمين،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1422هـ .
[8] تحفة النساك في فضائل السواك:ص:۵۴،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت .
[9] حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:ص:۶۷،ت:محمد عبد العزيز الخالدي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[10] كشف اللثام شرح عمدة الأحكام:1/266،ت:نور الدين طالب،دار النوادر ـ دمشق،الطبعة الأولى1428هـ .
[11] انظر تعليق تحفة النساك في فضائل السواك:ص:55،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت .
ملتی جلتی احادیث
روایت:جس میں مسواک کے تقریباً چوّن (۵۴) فضائل مذکور ہیں۔
روایت:جس میں مسواک کے چوبیس (۲۴) فضائل مذکور ہیں۔
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک میں دس فائدے ہیں: منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اور شیطان کو ناراض کرتی ہے، اور فرشتوں کی محبوب چیز ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، اور منہ کو خوشبو دار بنا تی ہے، اور بلغم کو ختم کرتی ہے، اور کڑواہٹ کو زائل کرتی ہے، اور نگاہ کو تیز کرتی ہے، اور سنت کی موافقت کرتی ہے‘‘۔
روایت:’’مسواک میں ہر بیماری سے شفاء ہے سوائے سام کے، اور سام موت ہے‘‘۔
روایت: ’’جب رسول اللہ ﷺ مسواک کرتے تو فرماتے: ’’اللّهم اجعل سواكي رضاك عني، واجعله طهورا وتمحيصا، وبيض به وجهي كما تبيض به أسناني‘‘. اے اللہ! میری مسواک کو میری طرف سے اپنی رضا کا سبب بنا، اور اسے پاکی اور گناہوں سے صفائی کا ذریعہ بنا، اور اس کے ذریعہ سے میرے چہرے کو ایسے چمکا دے جیسے اس کے ذریعہ سے میرے دانتوں کو چمکاتے ہیں‘‘۔