روایت:’’مسواک میں ہر بیماری سے شفاء ہے سوائے سام کے، اور سام موت ہے‘‘۔
حکم: علامہ مناویl فرماتے ہیں: ’’دیلمی l اور ان کے بیٹے نے یہ روایت بغیر سند کے ذکر کی ہے‘‘، علامہ غماریl فرماتے ہیں: ’’اس جیسی باطل بات جاہل یا زندیق ملحد ہی کہہ سکتا ہے‘‘، الحاصل اس روایت کو آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] الجامع الصغير في أحاديث البشير النذير:2/297،رقم:4840،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة التاسعة 1438هـ .
[2] فيض القدير:۴/۱۴۹،رقم:۴۸۴۰،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية1391هـ .
[3] التيسير بشرح الجامع الصغير:۲/۷۳،مكتبة الإمام الشافعي ـ الرياض .
[4] المغير على الأحاديث الموضوعة في الجامع الصغير:ص:79،دار الرائد العربي ـ بيروت،الطبعة1402هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’جب رسول اللہ ﷺ مسواک کرتے تو فرماتے: ’’اللّهم اجعل سواكي رضاك عني، واجعله طهورا وتمحيصا، وبيض به وجهي كما تبيض به أسناني‘‘. اے اللہ! میری مسواک کو میری طرف سے اپنی رضا کا سبب بنا، اور اسے پاکی اور گناہوں سے صفائی کا ذریعہ بنا، اور اس کے ذریعہ سے میرے چہرے کو ایسے چمکا دے جیسے اس کے ذریعہ سے میرے دانتوں کو چمکاتے ہیں‘‘۔
روایت:’’جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے والدین کی قبر، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کی اور سورۂ یا سین کی تلاوت کی، اس کی مغفرت کردی جاتی ہے‘‘، ایک روایت میں اس کے یہ الفاظ مذکور ہیں: ’’جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے والدین کی قبر، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کی تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے، اور اسے فرمانبردار لکھ دیا جاتا ہے‘‘، اور ایک مقام پر ہے: ’’اسے برئ الذمہ لکھ دیا جاتا ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک میں دس فائدے ہیں: منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اور شیطان کو ناراض کرتی ہے، اور فرشتوں کی محبوب چیز ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، اور منہ کو خوشبو دار بنا تی ہے، اور بلغم کو ختم کرتی ہے، اور کڑواہٹ کو زائل کرتی ہے، اور نگاہ کو تیز کرتی ہے، اور سنت کی موافقت کرتی ہے‘‘۔
روایت: مکھی کا رسول اللہﷺ کے جسم مبارک پر نہ بیٹھنا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’السواك يزيد الرجل فصاحة‘‘. مسواک انسان کی فصاحت میں اضافہ کرتی ہے‘‘۔