روایت: ’’مرنے سے پہلے مرجاؤ ‘‘، یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔
تفصیل
×هذا الحديث من أحاديث المتصوفة، معناه: إماتة الشهوات والانقطاع عن لذائذ الدنيا، ولا أعرفه من كلام النبي صلى الله عليه وسلم، ثم رأيت السخاوي قال في المقاصد: قال شيخنا ـ يعني الحافظ ابن حجر ـ أنه غير ثابت، انتهى÷[1].‘‘
[یہ حدیث، صوفیاء کی احادیث میں سے ہے، جس کے معنی ہیں :شہوتوں کو ختم کرنا، اور لذاتِ دنیا سے دور رہنا، میں اسے آپ ﷺ کے کلام کی حیثیت سے نہیں پہچانتا، پھر میں نے سخاوی l کو دیکھا جو ’’المقاصد‘‘ میں لکھتے ہیں: ہمارے شیخ، یعنی حافظ ابن حجر l کا فرمان ہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے، انتہیٰ ]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ:الصلوۃ معراج المؤمن ۔۔۔،۲/۶۲ - ۶۶۔
ملاعلی قاریl نے ’’الاسرار المرفوعۃ‘‘ (ص:۳۴۸،رقم:۵۳۹) میں روایت ’’موتوا قبل أن تموتوا‘‘ کو صوفیاء کرام کا کلام قرار دیا ہے،مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’قلت: هو من كلام الصوفية، والمعنى: موتوا اختيارا قبل أن تموتوا اضطرارا، المراد بالموت الاختياري ترك الشهوات واللَهَوَات وما يترتب عليها من الزَلاَّت والغفلات‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’دنیا کے واسطے عمل اس طرح کر، گویا کہ تو ہمیشہ زندہ رہے گا، اور آخرت کے واسطے عمل اس طرح کر گویا کہ تو کل مرنے والا ہے‘‘،یہ روایت ان لفظوں سے حدیث نہیں ہے،بلکہ اقوالِ سلف میں سے ہے۔
روایت: ’’نماز مؤمن کی معراج ہے‘‘،یہ حدیث نہیں ہے، کسی کا مقولہ ہے۔
روایت: ’’میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں‘‘، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
روایت: ’’حضورِ قلب کے بغیر کوئی نماز نہیں‘‘،یہ قصہ گوواعظوں کی حدیث ہے، میں اب تک ان الفاظ کے ساتھ اس کی اصل پر واقف نہیں ہوسکا ہوں۔
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔