روایت: ’’بندوں کی اطاعت پر بادشاہوں کا نیک ہونا، اور نافرمانی پر بادشاہوں کا ظالم بن جانا‘‘۔
حکم: ان الفاظ یہ روایت آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، بیان نہیں کر سکتے، البتہ اسرائیلی روایت کی حیثیت سے ثابت ہے؛ اس لیے اسرائیلی روایت کہہ کر بیان کر سکتے ہیں۔
تفصیل
روایت پر کلام:
حوالہ جات
[1] المعجم الأوسط:9/9،رقم:8962،دار الحرمين ـ القاهرة، الطبعة1415هـ .
[2] حلية الأولياء:2/388،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱۴09هـ .
[3] المجروحين لابن حبان:3/72وهب بن راشد،ت:محمود إبراهيم زايد,دار المعرفة ـ بيروت .
[4] العلل الواردة في الأحاديث النبوية:6/206،رقم:1073،ت:محفوظ الرحمن زين الله،دار طيبة ـ رياض،الطبعة ۱۴05هـ .
[5] مجمع الزوائد:5/448،رقم:9272،ت:الشيخ عبد الله الدرويش،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴25هـ .
[6] حلية الأولياء:2/388،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱۴09هـ .
[7] العلل المتناهية:2/767،رقم:1281،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى .
[8] ميزان الاعتدال:4/352،رقم:9428،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ماں کی نافرمانی پر بیٹے کی حالت ِنزع میں کلمہ سے محرومی۔
روایت: ۱-’’میرےآسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندے کا دل، مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘۔ ۲-’’دل رب کا گھر ہے‘‘۔
روایت: ’’فِکْرَةُ سَاعَةٍ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّیْنَ سَنَة‘‘. ایک گھڑی کا غور وفکر ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے۔
روایت: آپ ﷺ کا وِصال سے قبل اپنی ذات پر قصاص اور بدلہ دِلوانا۔
روایت: ’’جب ابراہیم e نے لوگوں کو حج بیت اللہ کےلیے پکارا، اس کے جواب میں لوگوں نے تلبیہ کہا، چنانچہ جس نے ایک مرتبہ تلبیہ کہا ،تو وہ ایک مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو مرتبہ تلبیہ کہا، وہ دو مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو سے زائد مرتبہ تلبیہ کہا، وہ اسی حساب سے حج کرے گا‘‘۔