{عند ذكر أولياء الله تنزل الرحمة}. اللہ کے اولیاء کے تذکروں میں اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے‘‘، یہ کسی بزرگ کا مقولہ ہے، غالباً حدیث نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: {عند ذكر أولياء الله تنزل الرحمة}. حدیث ہے یا نہیں؟ اگر حدیث ہے تو کس کتاب کی ؟
جواب: {عند ذكر أولياء الله} الخ کسی بزرگ کا مقولہ ہے، غالباً حدیث نہیں ہے[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :چند اقوال واحادیث کی تحقیق وتخریج،۱۸/۱۴۷ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
حافظ سخاویl ’’المقاصد الحسنہ ‘‘ (ص :۳۳۸) میں فرماتے ہیں: ’’حافظ ابن حجر عسقلانی l فرماتے ہیں کہ مجھے یہ روایت آپ ﷺکے ارشاد کے طور پر یاد نہیں، اور ان سے پہلے ان کے شیخ حافظ عراقی l نے ’’احیاء‘‘ کی تخریج میں کہا ہے کہ اس کی اصل آپﷺکے ارشادات میں نہیں ملتی، اور یہ سفیان ابن عیینہ l کا قول ہے، یہی بات حافظ ابن جوزی l نے بھی کہی ہے‘‘۔
حافظ سخاوی l کے ان اقوال پر علامہ عجلونی l نے ’’ کشف الخفاء‘‘ (۲ /۸۱)میں، علامہ محمد بن درویش الحوتl نے ’’اسنی المطالب‘‘ (ص:۱۸۹) میں، علامہ ابن دیبع l نے ’’تمییز الطیب‘‘ (ص:۱۲۵) میں، علامہ نجم الدین غزی l نے ’’اتقان‘‘(ص:۲۹۰) میں، اور علامہ پٹنی l نے ’’تذکرۃ الموضوعات‘‘ (ص:۱۹۳) میں اکتفاء کیاہے۔
حافظ سخاوی l مزید یہ بھی فرماتے ہیں : ’’ابوعمرو بن نُجَیْد نے جعفر بن حمدان سے پوچھا کہ میں احادیث کس نیت سے لکھوں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیا تم یہ خیال رکھتے ہو کہ نیک لوگوں کے تذکرہ میں رحمت نازل ہوتی ہے ؟ ابوعمرو نے کہا کہ جی ہاں ! ابن حمدان نے کہا رسول اللہﷺ تو نیک لوگوں کے سردار ہیں‘‘۔
لیکن ملا علی قاری l نے ’’الاسرار المرفوعہ‘‘ (ص:۲۴۹) میں حافظ سخاوی l کے اس قول کو نقل کرنے کے بعد لکھاہے : ’’اگر یہ لفظ دو واو کے ساتھ ’’تروُون‘‘ ہو تو یہ کسی نہ کسی درجہ میں اس پر دلالت کررہاہے کہ یہ حدیث ہے اور اس کی کوئی اصل موجود ہے، اور اگر یہ ’’ترون‘‘ رؤیہ سے ہو، خواہ مجہول ہو یا معروف، تو پھر اس پر دلالت نہ ہوگی کہ یہ حدیث ہے اوراس کی کوئی اصل ہے، کیونکہ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ تم اعتقاد کرتے ہو یا گمان کرتے ہو۔
اسی طرح ملا علی قاری l ہی نے ’’المصنوع ‘‘ (ص:۱۲۵)میں اسے سفیان ابن عیینہ l کا قول قرار دیا ہے۔
علامہ عبدالکریم غزی l ’’الجد الحثیث‘‘ (ص:۱۴۹)میں اور علامہ شوکانیl ’’الفوائد المجموعہ‘‘ (ص:۳۱۹)میں لکھتے ہیں کہ حافظ عراقی l اور حافظ ابن حجر عسقلانی l نے اسے بے اصل کہاہے۔
علامہ قاؤقجی l نے ’’اللؤلؤالمرصوع‘‘ (ص:۱۲۴)میں حافظ عراقی l کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
{من عرف نفسه فقد عرف ربه}. ’’جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، کسی بزرگ کا قول ہے۔
{لولاك لما خلقت الأفلاك}. اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور اس کا مضمون محققین کے نزدیک صحیح ہے۔
{لاتجعلوا بطونكم مقابر الحيوانات}. اپنے پیٹ کو جانوروں کی قبر نہ بناؤ‘‘، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔
{العلم علمان: علم الأبدان و علم الأديان}. ’’علم کی دو قسمیں ہیں: جسمانی علوم اور دینی علوم‘‘، یہ حدیث نہیں۔
{لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندہ کا دل مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘، ان الفاظ سے اس حدیث کی کچھ اصل نہیں ہے،البتہ اس کے ہم معنی ایک دوسری حدیث ثابت ہے۔