{العلم علمان: علم الأبدان و علم الأديان}. ’’علم کی دو قسمیں ہیں: جسمانی علوم اور دینی علوم‘‘، یہ حدیث نہیں۔
تفصیل
{ .... العلم علمان الخ} اولاً یہ حدیث نہیں، بعد تسلیم وفرض اس کے حدیث ہونے کے، وہ خود تفرقہ کرتی ہے کہ علم کی دو نوع ہیں، اور علم اَبْدَان جو فن طب ہے علم دین سے جدا ہے، کیونکہ ہر نوع دوسری نوع سے متبائن اور ضد ہوتی ہے، بہر حال علم اَبْدَان کا علم دین کا غیر اور ضد ہونا، اس سے واضح ہوگیا، اور بالا [اوپر]واضح ہوگیا کہ جس علم کی تحصیل کا حکم ہے، وہ علم دین کا ہی ہے، فقط!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : علم سے مراد علم دین ہے، طلب علم سے اسی کی ترغیب دی گئی، ص: ۳۹۹، دار الکتاب لاہور۔
علامہ صغانی l نے ’’موضوعات‘‘ (ص:۳۸)میں، ملا علی قاری l نے ’’اسرار المرفوعہ‘‘ (ص: ۲۴۷) میں،اور علامہ پٹنی l نے ’’ تذکرة الموضوعات‘‘ (ص:۱۸)میں،علامہ شوکانیl نے ’’الفوائد المجموعہ‘‘ (ص:۳۱) میں اس روایت کو من گھڑت کہا ہے،نیز ربیع بن سلیمان l نے اسے امام شافعی l کا قول کہا ہے،تفصیل کے لئے دیکھئے :کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ، حصہ دوم،ص:۲۹۶۔
ملتی جلتی احادیث
{أوتيت علم الأولين والآخرين}. مجھے اولین وآخرین کا علم ملا ہے‘‘، یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نظر سے نہیں گزری۔
{عند ذكر أولياء الله تنزل الرحمة}. اللہ کے اولیاء کے تذکروں میں اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے‘‘، یہ کسی بزرگ کا مقولہ ہے، غالباً حدیث نہیں ہے۔
آیت: {يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا}. کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ بالکل غلط ہے۔
{لولاك لما خلقت الأفلاك}. اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور اس کا مضمون محققین کے نزدیک صحیح ہے۔
{لاتجعلوا بطونكم مقابر الحيوانات}. اپنے پیٹ کو جانوروں کی قبر نہ بناؤ‘‘، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔