روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کا صرف اللہ تعالی کےلئے سیکھنا اللہ تعالی کے خوف کے حکم میں ہے، اور اس کی طلب (یعنی تلاش کےلئے کہیں جانا) عبادت ہے، اور اس کا یاد کرنا تسبیح ہے، اور اس کی تحقیقات میں بحث کرنا جہاد ہے، اور اس کا پڑھنا صدقہ ہے، اور اس کا اہل پر خرچ کرنا اللہ تعالی کے یہاں قربت ہے‘‘۔
حکم: حافظ منذری lفرماتے ہیں: ’’اس کا مرفوع ہونا غریب جداً ہے‘‘، حافظ ابن قیم الجوزیہ lفرماتے ہیں: ’’اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں ہے، اور موقوف ہونا اصح ہے‘‘، حافظ سیوطی l فرماتے ہیں: ’’محمد بن تمیم حدیث گھڑنے والے مشہور لوگوں میں سے ایک ہے‘‘، حافظ عراقی l فرماتے ہیں: ’’بظاہر یہ حدیث محمد بن تمیم کے ہاتھوں کی ایجاد ہے‘‘، لہذا زیر بحث روایت کو رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
زیر بحث روایت تین طرق سے منقول ہے: 1 طریق معاذ بن جبل r 2 طریق انس بن مالک r 3 طریق ابو ہریرہ r
نیز طریق انس بن مالک r دو سندوں سے منقول ہے: 1 بسند محمد بن تمیم 2 بسند مسیب بن شریک۔
ذیل میں ہر ایک طریق کی تفصیل ملاحظہ ہو:
روایت بطریق معاذ بن جبل r بسند موسی بن محمد بلقاوی پر ائمہ کا کلام
روایت بطریق انس r بسند محمد بن تمیم سعدی پر ائمہ کا کلام
روایت بطریق ابو ہریرہ r بسند علی بن محمد بن عبد اللہ بن ہیثم پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] جامع بيان العلم وفضله:1/238،رقم:268،ت:أبو الأشبال الزهيري،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى1414هـ .
[2] جامع بيان العلم وفضله:1/238،رقم:268،ت:أبي الأشبال الزهيري،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى1414هـ .
[3] واضح رہے کہ زیر بحث روایت معاذ بن جبل r موقوفاً دو طرق سے مروی ہے: 1 موقوف طریق بسند ابن ابی عصمہ 2 موقوف طریق بسند کنانہ بن جبلہ۔
1 موقوف طریق بسند ابن ابی عصمہ: اس موقوف طریق کو حا فظ ابن عبد البر l نے ان الفاظ سے تخریج کیا ہے:’’حدثنيه أبو زيد عبد الرحمن بن يحيى، نا أحمد بن مطرف، نا سعيد بن عثمان الأعناقي، ثنا عبد الله بن محمد بن خالد، ثنا علي بن معبد، قال: حدثني موسى، قال: سمعت هاشم بن مخلد، قال: سمعت أبا عصمة نوح بن أبي مريم، يحدث عن رجاء بن حيوة، عن معاذ بن جبل، قال: تعلموا العلم فإن تعلمه لله خشية. وذكر الحديث بحاله سواء موقوفا على معاذ‘‘ (جامع بيان العلم وفضله:1/2۴۰،رقم:26۹،ت:أبو الأشبال الزهيري،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى1414هـ) .
اسی طرح حافظ ابو نعیم اصبہانی l نے بھی ’’حلية‘‘ میں اسے بسند ابن ابی عصمہ ان الفاظ سے تخریج کیا ہے: ’’حدثنا أبي، ثنا محمد بن إبراهيم بن يحيى، ثنا يعقوب الدورقي، ثنا محمد بن موسى المروزي أبو عبد الله، قال: قرأت هذا الحديث على هاشم بن مخلد، وكان ثقة، فقال: سمعته من أبي عصمة، عن رجل سماه، عن رجاء بن حيوة، عن معاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه، قال: تعلموا العلم، فإن تعلمه لله تعالى خشية، وطلبه عبادة، ومذاكرته تسبيح، والبحث عنه جهاد، وتعليمه لمن لا يعلم صدقة، وبذله لأهله قربة، لأنه معالم الحلال والحرام، ومنار أهل الجنة، والأنس في الوحشة، والصاحب في الغربة، والمحدث في الخلوة، والدليل على السراء والضراء، والسلاح على الأعداء، والدين عند الأجلاء، يرفع الله تعالى به أقواما، ويجعلهم في الخير قادة وأئمة، تقتبس آثارهم، ويقتدى بفعالهم، وينتهى إلى رأيهم، ترغب الملائكة في خلتهم، وبأجنحتها تمسحهم، يستغفر لهم كل رطب ويابس، حتى الحيتان في البحر وهوامه، وسباع الطير وأنعامه، لأن العلم حياة القلوب من الجهل، ومصباح الأبصار من الظلم، يبلغ بالعلم منازل الأخيار، والدرجة العليا في الدنيا والآخرة، والتفكر فيه يعدل بالصيام، ومدارسته بالقيام، به توصل الأرحام، ويعرف الحلال من الحرام، إمام العمال، والعمل تابعه، يلهمه السعداء، ويحرمه الأشقياء‘‘ (حلية الأولياء:1/238،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۶هـ ).
علامہ ابن عراق l ’’تنزیہ الشریعہ‘‘ میں موقوف طریق بسند ابن ابی عصمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ قال: ورويناه موقوفا على معاذ، فذكره من طريق أبي عصمة، عن رجاء بن حيوة، عن معاذ، وأبو عصمة أحد الكذابين، ورجاء لم يسمع من معاذ‘‘.
ابن عبد البر l فرماتے ہیں: اور یہ حدیث ہمیں حضرت معاذ r سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، (علامہ ابن عراق l فرماتے ہیں) پھر حافظ ابن عبد البر l نے اسے ابو عصمہ، عن رجاء بن حیوہ، عن معاذ r کے طریق سے ذکر کیا، اور ابو عصمہ ’’جھوٹوں میں سے ایک ہے‘‘، اور (سند کے راوی) رجاء نے معاذ r سے نہیں سنا (تنزيه الشريعة المرفوعة:1/282،رقم:111،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1401هـ) .
2 موقوف طریق بسند کنانہ بن جبلہ: یہ موقوف طریق حافظ ابو القاسم عبد الملك بن محمد بن عبد الله بن بشران l نے ’’امالی‘‘ میں ان الفاظ سے تخریج کیا ہے:
’’ أخبرنا أبو الحسن أحمد بن إسحاق بن نيخاب الطيبي، ثنا محمد بن نصر، ثنا محمد بن عبيد بن عبد الملك، عن عبد الرحمن بن عبد الله السعدي، عن كنانة بن جبلة، عن رجاء بن حيوة، عن عبد الرحمن بن غنم، عن معاذ بن جبل، قال: تعلموا العلم، فإن تعلمه لله خشية، وطلبه عبادة، ومذاكرته تسبيح، والبحث عنه جهاد، وتعليمه لمن لا يعلم صدقة، وبذله لأهله قربة، لأنه معالم الحلال والحرام، ومنار سبيل الجنة، والأنس في الوحدة، والمحدث في الخلوة، والصاحب في الغربة، والدليل على السراء والضراء، والسلاح على الأعداء، والزين عند الأخلاء، والقريب عند الغرباء، يرفع الله به أقواما فيجعلهم في الخير قادة، هداة يهتدى بهم، وأئمة في الخير تقتص آثارهم، وترمق أعمالهم، ويقتدى بفعالهم، وينتهى إلى رأيهم، ترغب الملائكة في خلتهم، وبأجنحتها تمسحهم، وفي صلاتها تستغفر لهم، حتى حيتان البحر وهوامه، وسباع البر وأنعامه، والسماء ونجومها، لأن العلم حياة القلوب من العمى، ونور الأبصار من الظلم، وقوة الأبدان من الضعف، يبلغ بالعبد منازل الأبرار، ومجالس الملوك، والدرجات العلى في الدنيا والآخرة، والفكرة فيه تعدل بالصيام، ومدارسته بالقيام، به يطاع ويعبد، وبه يعمل ونحفد، وبه يتورع ويدع، وبه توصل الأرحام، ويعرف الحلال من الحرام، إمام العلم والعلم[ كذا في الأصل] تابعه، يلهمه السعداء، ويحرمه الأشقياء‘‘ (الأمالي لابن بشران:2/21، رقم:999،ت:أحمد بن سليمان،دار الوطن ـ الرياض،الطبعة الأولى1420هـ) .
حافظ سیوطی l ’’جمع الجوامع‘‘ میں موقوف طریق بسند کنانہ بن جبلہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ تعلموا العلم، فإن تعليمه لله خشية، وطلبه عبادة، ومذاكرته تسبيح، والبحث عنه جهاد. خط في المتفق والمفترق عن معاذ، وفيه كنانة بن جبلة، قال ابن معين: كذاب، وقال أبو حاتم: محله الصدق، وقال السعدى: ضعيف جدا، ورواه الديلمى وزاد: وتعليمه لمن لا يعلمه صدقة، وبذله لأهله قربة، لأنه معالم الحلال والحرام، ومنار سبيل الجنة، والأنيس في الوحشة، والصاحب في الوحدة، والمحدث في الخلوة، والدليل على السراء والضراء، والسلاح على الأعداء والزين عند الأخلاء، والقرب عند الغرباء، يرفع الله به أقواما فيجعلهم في الجنة قادة. ورواه بطوله ابن لال، وأبو نعيم عن معاذ موقوفا‘‘.
علم حاصل کرو، کیونکہ اللہ تعالی کےلئے علم حاصل کرنا خشیت کا ذریعہ ہے، اور اس کی طلب میں لگنا عبادت ہے، اور اس کا مذاکرہ کرنا تسبیح ہے، اور اس کے بارے میں جستجو کرنا جہاد ہے۔
اسے خطیب l نے ’’المتفق والمفترق‘‘ میں معاذ r سے روایت کیا ہے، اور اس میں کنانہ بن جبلہ ہے، ابن معین l فرماتے ہیں کہ یہ کذاب ہے، اور ابو حاتم l نے اس کے بارے میں ’’محلہ الصدق‘‘ کہا ہے، اور سعدی l نے اسے ’’ضعیف جداً ‘‘ کہا ہے۔
اور اسے دیلمی l نے اضافہ کے ساتھ روایت کیا ہے: اور نہ جاننے والوں کو اس کا سکھانا صدقہ ہے، اور اس کی طلب میں لگنا عبادت ہے، اور اس کا مذاکرہ کرنا تسبیح ہے، اور اس کے بارے میں جستجو کرنا جہاد ہے، اور نہ جاننے والوں کو اس کا سکھانا صدقہ ہے، اور اس کو اس کے اہل پر خرچ کرنا اللہ تعالی کی قربت کا ذریعہ ہے، اس لئے کہ یہ حلال وحرام کی نشانی ہے، اور جنت کے راستوں کا نشان ہے، اور وحشت میں جی بہلانے کی چیز ہے، اور سفر کا ساتھی ہے، اور خلوت میں بات چیت کرنے والا ہے، اور خوشحالی اور تنگ دستی میں رہنمائی کرنے والا ہے، اور دشمنوں پر اسلحہ ہے، اور دوستوں میں زینت کی چیز ہے، اور مسافروں میں قربت کی چیز ہے، اس کے ذریعے اللہ تعالی بہت سی قوموں کو بلند کرتے ہیں اور ان کو جنت میں امام بنا دیتے ہیں۔
اور ابن لالl اور ابو نعیمl نے بھی اسے طوالت کے ساتھ حضرت معاذ r سے موقوفاً روایت کیا ہے (جمع الجوامع:4/393،رقم:12786،دار السعادة ـ الأزهر،الطبعة ۱۴۲۶هـ) .
اہم نوٹ: حافظ سیوطی l کی عبارت میں گزرا کہ حافظ خطیب l کی کتاب ’’المتفق والمفترق‘‘ میں موجود طریق میں کنانہ بن جبلہ موجود ہے، تاہم حافظ خطیب l کی کتاب ’’المتفق والمفترق‘‘ میں یہ روایت اس طور پر تخریج کی گئی ہے:
’’ أخبرني الحسن بن محمد الخلال والحسين بن علي الطناجيري، عن إبراهيم بن الهيثم الثقفي عن معاذ بن جبل رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تعلموا العلم، فإن تعليمه لله خشية، وطلبه عبادة، ومذاكراته تسبيح، والبحث عنه جهاد‘‘ (المتفق والمفترق:1/326،رقم:156،ت:محمد صادق آيدن الحامدي، دارالقاري ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
اس عبارت میں کنانہ بن جبلہ موجود نہیں ہے، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ سند میں سقط ہے، نیز اس میں یہ روایت مرفوعاً ذکر کی گئی ہے، بظاہر یہاں تصحیف ہوئی ہے، واللہ اعلم۔
یہ بھی واضح رہے کہ ’’المتفق والمفترق‘‘ کی سند میں موجود راوی ابراہیم بن ہیثم ثقفی کا ترجمہ تلاش بسیار کے باوجود کتب رجال میں نہیں مل سکا۔
[4] التقييد والإيضاح:ص:60،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1389هـ .
[5] اہم فائدہ: واضح رہے کہ اہل اندلس کے ہاں حسن کا اطلاق مستطرف (پسندیدہ) غریب کے معنی میں بھی ہوتا ہے، چنانچہ علامہ غماری l ’’المغیر‘‘ میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهذا من اطلاق لفظ الحسن على المستطرف الغريب، ولو كان باطلا، وذلك كان معروفا بين أهل الأندلس، وأنهم لا يقصدون الحسن الاصطلاحي‘‘.
اور یہ بھی لفظِ حسن کو مستطرف غریب پر اطلاق کرنے کی قبیل سے ہے، اگرچہ وہ باطل ہی کیوں نہ ہو، اور یہ اطلاق اہل اندلس کے درمیان معروف تھا، اور اس سے ان کی اصطلاحی حسن مراد نہیں ہوتی (المغیر:ص:34،دار الرائد العربي ـ بيروت،الطبعة 1402هـ) .
حضرت شیخ عبد الفتاح ابو غدہ l نے ’’التعلیقات الحافلہ‘‘ میں علامہ غماری l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔ (التعليقات الحافلة على الأجوبة الفاضلة:ص:137،دار السلام ـ القاهرة،الطبعة الخامسة1428هـ) .
[6] الشذا الفياح من علوم ابن الصلاح:1/125،ت:صلاح فتحي هلل،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .
[7] فتح المغيث بشرح ألفية الحديث:1/121،ت:علي حسين علي،مكتبة السنة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1424هـ .
[8] النكت الوفية بما في شرح الألفية:1/294،ت:ماهر ياسين الفحل،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1428هـ .
[9] تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي:1/177،ت:أبو قتيبة نظر محمد الفاريابي، مكتبة الكوثر ـ الرياض، الطبعة الثانية1415هـ .
[10] الترغيب والترهيب:۱/۵۲،رقم:۸ ،ت:إبراهيم شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .
[11] مدارج السالكين:3/246،رقم:268،ت:محمد المعتصم بالله البغدادي،دار الكتاب العربي ـ بیروت،الطبعة السابعة۱۴23هـ.
[12] مفتاح دار السعادة:۱/337،ت:عبد الرحمن بن حسن بن قائد،دار عالم الفوائد للنشر والتوزيع،الطبعة الأولى ۱۴32هـ.
[13] مفتاح دار السعادة:۱/۵۰۸،ت:عبد الرحمن بن حسن بن قائد،دار عالم الفوائد للنشر والتوزيع،الطبعة الأولى ۱۴32هـ.
[14] توضيح الأفكار:۱/13،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[15] الجرح التعديل:۸/۱۶۱،رقم:۷۱۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[16] الجرح التعديل:۸/۱۶۱،رقم:۷۱۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[17] سؤالات البرذعي لأبي زرعة:ص:212،رقم:365،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .
[18] الجرح التعديل:۸/۱۶۱،رقم:۷۱۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[19] انظر لسان الميزان:8/217،رقم:8030 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[20] الضعفاء الكبير:۴/۱۶۹،رقم:۱۷۴۳،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .
[21] المجروحين:۲/۲۴۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[22] انظر لسان الميزان:8/21۸،رقم:8030 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[23] انظر لسان الميزان:8/21۸،رقم:8030 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[24] انظر لسان الميزان:8/21۸،رقم:8030 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[25] الكامل في الضعفاء:۸/۶۴،رقم:۱۸۲۹،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[26] الضعفاء والمتركون:369،رقم:524،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[27] العلل الواردة:1/۱22،ت:محفوظ الرحمن زين الله السلفي،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴05هـ .
[28] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/79،رقم:208،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[29] السنن الكبرى للبيهقي:3/۳۹۵،رقم:۶۱۳۱،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[30] الأنساب:12/391،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الاولى۱397هـ .
[31] المغني في الضعفاء:۲/۴۴۲،رقم:۶۵۲۱،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
[32] ميزان الاعتدال:۴/۲19،رقم:۸۹15 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[33] ميزان الاعتدال:۴/۲۲۱،رقم:۸۹۲۲ ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[34] التقييد والإيضاح:ص:60،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1389هـ .
[35] جامع الآثار في السير و مولد المختار:۴/۴۳۶،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح ـ الفيوم،الطبعة الأولى1431هـ .
[36] جامع الآثار في السير و مولد المختار:۳/۹۵،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح ـ الفيوم،الطبعة الأولى1431هـ .
[37] لسان الميزان:5/62،رقم:4556،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
’’لسان المیزان‘‘ کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’ـ ز ـ عبد الجليل المدني، عن حبة العرني، وعنه: أبو طاهر المقدسي بخبر باطل، أورده ابن عساكر في ترجمة أبي بكر الصديق، وفيه: أن عليا قال: لما حضر أبو بكر قال لي: إذا مت [فاغسلوني] واذهبوا بي إلى البيت الذي فيه النبي صلى الله عليه وسلم، فإن رأيتم الباب يفتح فأدخلوني، وإلا ردوني إلى مقابر المسلمين، قال علي: فبادرت فقلت: يا رسول الله! هذا أبو بكر يستأذن، فرأيت الباب قد فتح، وسمعت قائلا يقول: أدخلوا الحبيب إلى حبيبه، فإن الحبيب إلى الحبيب مشتاق. وقال ابن عساكر: هذا منكر، وأبو طاهر هو موسى بن محمد بن عطاء كذاب، وعبد الجليل مجهول‘‘.
حافظ سیوطی l نے بھی ’’جمع الجوامع‘‘ میں حافظ ابن عساکر l کا یہی قول نقل کیا ہے(انظر جمع الجوامع:14/369 ، رقم:649،دار السعاده،الطبعة1426هـ ) .
[38] تنزيه الشريعة:۱/1۲۱،رقم:۳۹۰،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۰۱هـ .
[39] الضعفاء الكبير:۳/۷۸،رقم:1045،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[40] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/171،رقم:4039،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
’’تاریخ یحیی بن معین بروایۃ الدوری‘‘ میں عبد الرحیم کی جگہ عبد الرحمن لکھا ہے، جبکہ دیگر کتب: ’’الکامل‘‘، ’’الجرح والتعدیل‘‘ اور ’’الضعفاء الکبیر‘‘ میں بطریق عباس دوری ’’عبد الرحیم‘‘ مذکور ہے۔(انظر الکامل فی الضعفاء:6/493،رقم:1420،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت . وانظر الضعفاء الكبير:3/78،رقم:1045،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ . وانظر الجرح والتعديل:5/339،رقم:1603، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ) .
[41] انظر تاريخ بغداد:۱2/367،رقم:5717،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[42] التاريخ الكبير:۵/۳۶۸،رقم:۷۹۱۵،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[43] التاريخ الصغير:2/231،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[44] الضعفاء للبخاري:ص:۸۱ ،رقم:۲۳۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[45] أحوال الرجال:ص:334،رقم:360،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوى،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .
[46] الجرح التعديل:5/340،رقم:1603،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[47] سؤالات أبي عبيد الآجري:۱/۳۹۳،رقم:۷۶1،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[48] سؤالات أبي عبيد الآجري:۱/۳۹۳،رقم:۷۶۰،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[49] الضعفاء والمتروكين:ص:161،رقم:389،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .
[50] إكمال تهذيب الكمال:۸/۲۶۰،رقم:3283،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[51] انظر إكمال تهذيب الكمال:8/260،رقم:3283،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[52] انظر إكمال تهذيب الكمال:8/260،رقم:3283،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[53] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/294،رقم:646،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .
[54] الضعفاء الكبير:۳/۷۸،رقم:1045،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[55] الجرح والتعدیل:۵/۳۴۰،رقم:۱۶۰۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[56] علل الحدیث لابن أبي حاتم:1/551،رقم:100،ت:سعد بن عبد اﷲ عبد الحمید وخالد بن عبد الرحمن الجریسي،مکتبة الملک الفهد ـ الریاض،الطبعة۱۴۲۷هـ .
[57] المجروحين:۲/۱۶۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[58] الكامل في ضعفاء الرجال:۶/۴۹۵،رقم:۱۴۲۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[59] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۷۷،رقم:۱۴۳،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[60] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۷3،رقم:۱۴۵،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[61] شعب الإيمان:5/297،رقم:3455،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .
[62] شعب الإيمان:۶/۴۵،رقم:3۸۵۳،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .
[63] التمهيد:13/105،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي،الطبعة الأولى1439هـ.
[64] انظر إكمال تهذيب الكمال:8/260،رقم:3283،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[65] ذخيرةالحفاظ:ص:1838،رقم:4220، ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[66] معجم الشيوخ:3/1133،رقم:1475،ت:وفاء تقي الدين،دارالبشائرـ دمشق،الطبعة الأولى۱۴۲۱هـ .
[67] سير أعلام النبلاء:8/358،رقم:102،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثالثة1405هـ .
[68] الكاشف:1/۶۵۰،رقم:۳۳۵۵،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[69] البدر المنير:۲/۱۳۳،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان، دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .
[70] تلخيص الحبير:۱/۲۶۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[71] تلخيص الحبير:4/463،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[72] مجمع الزوائد:۴/۲۵۲،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[73] تنزيه الشريعة:1/۷۹،رقم:۱۶۳،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .
[74] الزيادات على الموضوعات:1/۱۹۷،رقم:230،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[75] الزيادات على الموضوعات:1/۱۹۸،رقم:230،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[76] تنزيه الشريعة:۱/۲۸۲،رقم:۱۱۱،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[77] المجروحين:2/۳۰۶،ت:محمود إبراهيم زايد,دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[78] الأنساب:10/207،رقم:3043،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى ۱397هـ .
[79] الضعفاء والمتروکین:۳/44،رقم:2904،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[80] ميزان الاعتدال:3/494،رقم:7290،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[81] المغني في الضعفاء:2/272،رقم:5342،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[82] الكشف الحثيث:ص:221، رقم:632،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[83] تنزيه الشريعة:۱/۱۰۲،رقم:۶۳،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۰۱هـ .
[84] انظر تاریخ الإسلام:۶/190،رقم:۴۹۲،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .
[85] لسان الميزان:7/21،رقم:6567،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[86] لسان الميزان:7/21،رقم:6567،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[87] سؤالات مسعود السجزي للحاكم:ص:139،رقم:137،ت:موفق بن عبد الله،دار الغرب الإسلامي ـ بیرت،الطبعة الأولى1408هـ .
[88] تاريخ مدينة دمشق:۵۴/۲۳۴،رقم:6758،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[89] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/82 ،رقم:232،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[90] تاريخ بغداد:۱۵/۵۸۸،رقم:7252،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[91] الكشف والبيان:3/33،رقم:32،ت:أبو محمد بن عاشور،دار إحياء التراث العربي ـ بیرت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[92] الطبقات الكبرى:۷/۲۳۹،رقم:۳۴۹۰،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[93] معرفة الرجال برواية ابن محرز:1/67،رقم:130،ت:محمد كامل القصار،مطبوعات مجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .
[94] تاريخ عثمان بن سعيد الدارمي:ص:214،رقم:796،ت:أحمد محمد نور سيف،دار المأمون للتراث ـ دمشق .
[95] تاریخ بغداد:۱۵/۱۷۷،رقم:۷۰۷۵،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[96] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۱۲۲،رقم:۱۸۷۳،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[97] تاریخ بغداد:۱۵/۱۷۶،رقم:۷۰۷۵،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[98] العلل ومعرفة الرجال:۲/۵۵۸،رقم:3۶۳۸،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[99] انظر الجرح التعديل:8/294،رقم:1353،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[100] التاريخ الكبير:7/286، رقم:11127،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .
[101] التاريخ الصغير:2/219،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[102] الضعفاء الصغير:ص:115،رقم:361،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[103] أحوال الرجال:ص:33۲،رقم:3۶۰،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد، باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .
[104] الكنى و الأسماء:ص:3۶۳،رقم:۱۳۲۷،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[105] تاریخ بغداد:۱۵/۱۷۷،رقم:۷۰۷۵،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[106] الجرح التعديل:8/294،رقم:1353،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[107] الضعفاء والمتروکین:ص:۲۳۸،رقم:۵۷۱،ت:محمد إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[108] تاریخ بغداد:۱۵/۱۷8،رقم:۷۰۷۵،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[109] تاریخ بغداد:۱۵/۱۷8،رقم:۷۰۷۵،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[110] المجروحين:۳/۲۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[111] الأسامي والكنى:3/409،رقم:2745،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ .
[112] الضعفاء والمتروکون:ص:۳۶۰،رقم:۵۰۸،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[113] سنن الدار قطني:5/507،رقم:4747،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .
[114] المقتنى في سرد الكنى:1/۲۷۰،رقم:۲۶۰۲،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .
[115] المغني في الضعفاء:2/407،رقم:6253،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[116] ديوان الضعفاء:ص:387،رقم:412،ت:حماد بن محمدالانصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[117] الفقيه والمتفقة:1/100،رقم:50،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن يوسف العزازي،دار ابن الجوزي ـ الرياض، الطبعة الأولى1417هـ .
[118] تنزيه الشريعة:1/282،رقم:111،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .
[119] الإكمال في رفع الإرتياب:4/415،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .
’’الاکمال‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وأما سينان: بكسر السين المهملة، وبعد الياء نون، فهو محمد بن المغيرة بن سينان الهمذاني، روى: عن مكي بن إبراهيم، روى عنه: حامد بن محمد الرفاء الهروي، وأبو القاسم علي بن محمد بن عبد الله بن الهيثم بن بختيار بن خرزاذ بن سين بن سينان، أصبهاني يعرف بابن أبي السري، روى عن سليمان بن أحمد الطبراني وحدث ‘‘.
[120] توضيح المشتبة:5/240،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
’’توضیح المشتبہ‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وسينان: قرية بمرو، قلت: هي بكسر المهملة، ثم مثناة تحت ساكنة، ثم نون مفتوحة تليها ألف، قال: ومحمد بن المغيرة بن سينان الهمذاني، عن مكي بن إبراهيم. وعلي بن محمد بن عبيد الله بن الهيثم الأصبهاني صاحب الطبراني، من أجداده سينان، قلت: الهيثم هو ابن بختيار بن خرزاذ بن سين بن سينان، وكنية علي المذكور أبو القاسم، وهو ابن أبي السري‘‘.
[121] تبصير المنتبه بتحرير المشتبه:2/710،ت:علي محمد البجاوي،المؤسسة المصرية العامة .
’’ تبصیر المنتبہ‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’سين، بلفظ الحرف: محمد بن عبد الله بن سين أبو عبد الله الأصبهاني، عن مطين . وأبو القاسم علي بن محمد بن عبد الله بن الهيثم بن سين، روى عن الطبراني‘‘.
[122] إنباه الرواة على أنباه النحاة:2/310،رقم:491،ت:محمد أبو الفضل إبراهيم،دار الفكر العربي ـ القاهرة،الطبعة الأولى1406هـ .
[123] جزء فيه ذكر أبي القاسم سليمان بن أحمد بن أيوب الطبراني:ص:51،ت:أبي هاشم إبراهيم بن منصور الهاشمي الأمير،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الثانية1428هـ .
’’جزء‘‘ مذکور کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وأما ما قال أبو العباس بن عقدة الحافظ الكوفي: لأبي القاسم الطبراني من فضائله وشمائله، فقد رأيت بخط معروف، قال: سمعت أبا القاسم عمر بن محمد بن عبد الله بن الهيثم الوراق، قال: سمعت أبا جعفر بن أبي السري الديميري، واسمه: محمد بن عبد الله بن الهيثم، قال: لقيت أبا العباس بن عقدة الكوفة في سنة ثلاث وعشرين وثلاثمائة، فسألته أن يعيد ما فاتني من المجلس، فامتنع وشددت عليه، فقال: من أي البلد أنت؟ قلت: من أهل أصبهان، فقال: لماذا تضمرون العداوة لأهل بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقلت له: لا تقل هذا يا شيخ! الآن أهل أصبهان فيهم متفقهة ومتقون وفاضلون ومتشيعة، فقال: شيعة معاوية؟ قلت: لا، والله! إلا شيعة علي بن أبي طالب رضي الله عنه، وما فيهم أحد إلا وعلي أعز عليه من عينه وأهله وولده، فأعاد علي ما فاتني، ثم قال لي: سمعت من سليمان بن أحمد الطبراني، فقلت: لا أعرفه، فقال: يا سبحان الله! أبو القاسم ببلدكم، وأنت لا تسمع منه، وتؤذيني هذا الأذى بالكوفة، ما أعرف لأبي القاسم نظير، سمعت منه، وسمع مني، وسمعنا من مشايخنا‘‘.
[124] المنتخب من معجم شيوخ السمعاني:ص:1302،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار عالم الكتب ـ الرياض، الطبعة الأولى1417هـ .
[125] تاريخ دمشق:22/167،ت:محب الدين أبي سعيد عمربن غرامة،دار الفكرـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[126] ائمہ کرام کے کلام میں مذکور موقوف طرق کے بارے میں کلام طریق معاذ بن جبل r کے تحت گزر چکا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک شخص کا غرائب علم سیکھنے کےلئے آنا، اور آپ ﷺ کا اس سے چند سوالات کرنا، مثلاً حق تعالی کی معرفت، موت کی پہچان، پھر آپ ﷺ کا جواب میں ارشاد فرمانا کہ پہلے اس پر پختگی اختیار کرو، پھر آکر غرائب علم سیکھنا۔
روایت: ’’ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: ’’ابن آدم خلقتك لعبادتي فلا تلعب، وتكفلت برزقك فلا تتعب، فاطلبني تجدني، فإن وجدتني وجدت كل شيء، وإن فتك فاتك كل شيء، وأنا أحب إليك من كل شيء‘‘.اے ابن آدم! تجھے میں نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا، لہذا تو کھیل کود میں مت لگ، اور تیری روزی کا ذمہ میں نے لیا ہے لہذا تو مت تھک، تو مجھے طلب کر، تو مجھے پا لے گا، اگر تونے مجھے پالیا تو تونے ہر چیز کو پالیا، اور اگر میں تجھے نہ ملا تو تجھے کوئی شئ نہ ملی، اور میں تیرے لئے ہر شئ سے زیادہ محبوب ہوں‘‘۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: ’’ الحمد لله على النعمة أمان لزوالها‘‘ .کسی نعمت پر اللہ تعالی کی حمد کرنا اس نعمت کے زائل ہوجانے سے حفاظت ہے‘‘۔
روایت: ’’جس شخص کو یہ پسند ہوکہ وہ اللہ تعالی کا ہم نشین بنے، تو اس کو چاہیے کہ وہ صوفیہ کی ہم نشینی اختیار کرے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ الدنيا حلم، وأهلها عليها مجازون ومعاقبون‘‘. دنیا ایک خواب ہے، اور اہل دنیا کو اس پر جزا اور سزا دی جائے گی‘‘۔