روایت: ’’علامة إعراض الله تعالى عن العبد اشتغاله بما لا يعنيه‘‘. بندہ کا غیر ضروری باتوں میں مشغول ہونا بندہ کی طرف سےاللہ تعالی کے منہ پھیر لینے کی علامت ہے۔
تفصیل
حکم: یہ روایت ہمیں مرفوعا ً سنداً نہیں مل سکی ہے، اس لئے سند ملنے تک
آپ ﷺ کی جانب منسوب کرنا موقوف رکھا جائے، البتہ بعض حضرات نے
اسے حضرت حسن بصری l (المتوفی 110ھ) اور حضرت غَرِیْف یمانی l
اور حضرت جنید بغدادی l کے قول کے طور پر نقل کیا ہے، اس لئے اسے
حضرت حسن بصری l، حضرت غَرِیْف یمانیl اور حضرت جنید
بغدادی l (المتوفی 298ھ) کے قول کے طور پر نقل کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
[1] انظر مجموعة رسائل الإمام الغزالي:ص:179،ت:إبراهيم أمين محمد،المكتبة التوفيقية ـ القاهرة .
یہی روایت امام غزالی l کی طرف منسوب رسالہ ’’أيها الولد‘‘ میں بھی موجود ہے،دیکھئے: مجموعہ رسائل امام غزالی:ص:275۔
[2] روح البيان:1/363،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
[3] التمهيد:6/328،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي،الطبعة الأولى1439هـ .
[4] الرسالة المغنية:ص:62،ت:عبد الله بن يوسف الجديع،دار العاصمة ـ الرياض،الطبعة الأولى 1409هـ .
[5] الأحاديث المائة:ص:70،مخطوط .
[6] جامع العلوم والحكم:1/294،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثامنة 1419هـ .
[7] المعين على تفهم الأربعين:ص:196،ت:دغش بن شبيب العجمي،مكتبة أهل الأثر ـ الكويت، الطبعة الأولى1433هـ .
[8] الفتح المبين:ص:302،ت:أحمد جاسم محمد المحمد،دار المنهاج ـ بيروت،الطبعة الأولى 1428هـ .
[9] شرح الشفا:1/197،ت:عبد الله محمد الخليلي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .
[10] شرح الموطا:4/94،طبع بالمطبة الخيرية ـ بمصر .
[11] طبقات المحدثين بأصبهان:3/292،ت:عبد الغفور عبد الحق حسين البلوشي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1412هـ .
[12] المؤتلف والمختلف:3/1691،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت، الطبعة الأولى1406هـ .
[13] توضيح المشتبة:6/253،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
[14] صفة الصفوة:1/519،ت:أحمد بن علي،دار الحديث ـ القاهرة،الطبعة1430هـ .
[15] المستطرف في كل فن مستظرف:1/218،دار مكتبة الحياة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
ملتی جلتی احادیث
نیند اچاٹ ہونے کی مشہور دعا:’’اللّهم غارت النجوم، وهدأت العيون....‘‘.
روایت: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے رسول! کیا میرا کالا رنگ اور میرے چہرے کی بد صورتیمیرے جنت میں داخلے سے مانع ہے‘‘، اس قصہ میں یہ بھی ہے کہ یہصحابی r اپنے نکاح کا سامان خریدنے بازار گئے، جہاں جہاد فی سبیل اللہکی آواز لگی تو یہ نکاح کا سامان لینے کے بجائے سامانِ جہاد خرید کر جہادمیں شریک ہو ئے اور وہاں شہید ہوگئے، اس قصہ کے آخر میں ہےکہان کی شہادت کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’میرا اس سے چہرا پھیرنااس وجہ سے تھا کہ میں نے حور عین بیویوں کو دیکھا جوکھلی پنڈلیوں اورآشکارہ پازیب کے ساتھ تیزی سے اس کی جانب آرہی تھیں، چنانچہ میں نے حیاء کی وجہ سے ان سے چہرا پھیر لیا ‘‘۔
روایت: ’’إن الشاب المؤمن لو يقسم على الله تعالى لأبره‘‘.اگر مومن نوجوان اللہ تعالی پر کسی بات کی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰاس کی قسم کو ضرور پورا فرماتے ہیں۔
روایت: مسنون دعا:’’اللّهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه،وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتبابه‘‘.’’اےاللہ! ہمیں حق کا حق ہونا دکھا کر اس کی پیروی کی توفیق عطاء کر،اور باطل کا باطل ہونا دکھا کر اس سے بچنے کی توفیق عطاء کر‘‘۔
روایت: ’’لكل شيء عَرُوْس و عَرُوْس القرآن الرحمن‘‘. ہر شئ کی دلہن ہوتی ہے، قرآن کی دلہن الرحمن(سورت) ہے۔