روایت: ’’ایک دفعہ حضرت عبد الرحمن بن عوفr نے سارے مدینے والوں کی دعوت کی، اسی دوران اچانک رسول اللہﷺ کی نظر ایک صحابیr پر پڑی جو کسی گہری سوچ میں تھے، آپﷺ نے پوچھا: عبد الرحمن بن عوفr نے مدینے والوں کی دعوت کی ہے اور تم یہاں بیٹھے کیا غور وفکر کر رہے ہو؟ تو وہ صحابیr کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں یہاں اسی فکر میں بیٹھا ہوں کہ کیسے آپﷺ کا ایک ایک امتی جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے؟ اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر عبد الرحمن ہزار سال بھی مدینے والوں کی دعوت کرتا رہے تو تمہارے ثواب کو نہیں پاسکتا‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک صحابیr کا بیوی کی خدمت سے خوش ہوکر ان سے کہنا کہ جو تم مانگو گی میں ضرور دوں گا، اس پر بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا، الحاصل پریشان ہوکر صحابی r بیوی کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے مشورہ کرنے گئے، راستے میں صحابی r کو ٹھوکر لگی، تو بیوی نے یہ کہہ کر طلاق کا مطالبہ چھوڑ دیا: اب تک تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچی تھی، اس لئے میں تمہیں منافق سمجھ رہی تھی، اور اب میں مطمئن ہوگئی ہوں۔
حکایت: آپﷺ کو عرب کے قافلے کی فریاد پہنچنے کا قصہ جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے عاجز ہوگیا، اور موت کے قریب تھا، اونٹ اور لوگ پیاس سے زبانیں باہر نکالے ہوئے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ کے معجزے سے قافلے والوں کےلئے ایک حبشی غلام کی مشک سے سارے قافلے کا سیراب ہونا، اور پھر غلام کی مشک کا بھر جانا، نیز آپ ﷺ کے معجزے سے اس حبشی غلام کا سفید ہوجانا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کا صرف اللہ تعالی کےلئے سیکھنا اللہ تعالی کے خوف کے حکم میں ہے، اور اس کی طلب (یعنی تلاش کےلئے کہیں جانا) عبادت ہے، اور اس کا یاد کرنا تسبیح ہے، اور اس کی تحقیقات میں بحث کرنا جہاد ہے، اور اس کا پڑھنا صدقہ ہے، اور اس کا اہل پر خرچ کرنا اللہ تعالی کے یہاں قربت ہے‘‘۔
روایت: ایک اونٹنی کا حضور اقدسﷺ کی بارگاہ میں ایک اعرابی کے حق میں درود پڑھنے کی وجہ سے گواہی دینا۔
روایت:’’ آپﷺ کا حضرت علی r کے خادم کے کان میں کہنا کہ علی r کی شہادت تیرے ہاتھ سے ہوگی‘‘۔