روایت: نبی اکرمﷺ نے واقعۂ افک میں صحابہ کرام p سے مشورہ کیا، حضرت عمرr نے فرمایا: مجھے منافقین کے جھوٹا ہونے کا یقین ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے آپﷺ کے جسم اطہر پر مکھی کو نہیں بیٹھنے دیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ فحاشی سے ملوث عورت سے آپ کی حفاظت نہ فرمائے، حضرت عثمانr نے فرمایا: اللہ تعالی نے آپﷺ کا سایہ مبارک زمین پر نہیں پڑنے دیا تاکہ کسی کا قدم اس پر نہ پڑے، جب اللہ تعالی نے کسی کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ آپﷺ کے سایہ مبارک پر قدم رکھ سکے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کو یہ اختیار دے دے کہ وہ آپﷺ کی گھر والی کی ناموس کو خراب کردے، حضرت علیr نے فرمایا: حضرت جبرائیلe نے آپﷺ کو خبر دی تھی کہ آپﷺ کے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے، اور آپﷺ کو حکم دیا کہ اسے اتار دیں، تو اب یہ کیسے ہوسکتا ہے، کہ آپﷺ کی گھر والی ذرہ برابر بھی کسی برائی میں مبتلا ہو اور اللہ تعالی آپﷺ کو اسے جدا کرنے کا حکم نہ دے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] تفسير النسفي:2/492،ت:يوسف علي بديوي،دار الكلم الطيب ـ بيروت،الطبعة 1419هـ .
[2] نزهة المجالس:2/417،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
’’نزہۃ المجالس ‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’ قال عمر: أنا قاطع بكذب المنافقين، لأن الله تعالى عصمك عن وقع الذباب على جلدك لأنه يقع على النجاسة، فكيف لا يعصمك عن صحبة من هو ملطخ بمثل هذه الفاحشة‘‘.
[3] تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس:۱/۴۷۶،المطبعة الوهبيةـ مصر،الطبعة۱۲۸۳هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ایک دفعہ حضرت عبد الرحمن بن عوفr نے سارے مدینے والوں کی دعوت کی، اسی دوران اچانک رسول اللہﷺ کی نظر ایک صحابیr پر پڑی جو کسی گہری سوچ میں تھے، آپﷺ نے پوچھا: عبد الرحمن بن عوفr نے مدینے والوں کی دعوت کی ہے اور تم یہاں بیٹھے کیا غور وفکر کر رہے ہو؟ تو وہ صحابیr کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں یہاں اسی فکر میں بیٹھا ہوں کہ کیسے آپﷺ کا ایک ایک امتی جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے؟ اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر عبد الرحمن ہزار سال بھی مدینے والوں کی دعوت کرتا رہے تو تمہارے ثواب کو نہیں پاسکتا‘‘۔
روایت: ’’جس عورت کی شادی ہوجائےاور وہ اپنے ماں باپ کی زیارت کی نیت کرلے کہ میں اپنے ماں باپ سے ملنے جارہی ہوں، اور خاوند سے اجازت لے کر جائے، اور دل میں یہ ہو کہ اس عمل سے اللہ راضی ہوں گے، تو اللہ تعالی ہر قدم پر اس عورت کو سو نیکیاں عطاء فرماتے ہیں، سو گناہ معاف فرماتے ہیں اور جنت میں سو درجے بلند کرتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’جس شخص کو یہ پسند ہوکہ وہ اللہ تعالی کا ہم نشین بنے، تو اس کو چاہیے کہ وہ صوفیہ کی ہم نشینی اختیار کرے‘‘۔
حضرت عمر بن الخطاب r کا خواب میں دیکھنا کہ نبی کریم ﷺپر بارش ہورہی ہے، آپ ﷺ کے جہاں قدم مبارک ہیں وہاں حضرت ابوبکر r کا سر ہے، بارش کا جو پانی نبی اکرم ﷺپر آرہا ہےوہ سارا کا سارا ابوبکر صدیقr پر آرہا ہے، نیز حضرت عمر rکا اپنے آپ کو بھی قریب کھڑے دیکھنا، اور ابوبکر rسے چھینٹوں کا اڑکر حضرت عمر r پر پڑنا۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: ’’ الحمد لله على النعمة أمان لزوالها‘‘ .کسی نعمت پر اللہ تعالی کی حمد کرنا اس نعمت کے زائل ہوجانے سے حفاظت ہے‘‘۔