روایت: ’’ایک مرتبہ ایک صحابی r نے نبی e سے پوچھا: اے اللہ کے نبی ﷺ! لوگوں کے دلوں میں جو مخلوق کی محبت آجاتی ہے اس کی پہچان کیا ہے؟ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’سهر الليالي وإرسال اللآلئ‘‘. انسان راتوں کو جاگتا ہے اور موتی بہاتا ہے‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ایک صحابی r رسول کا آپ ﷺ کی خدمت میں آکر اپنے اونٹ کے بارے میں شکایت کرنا کہ وہ مجھے پوری رات سونے نہیں دیتا، اور اونٹ کا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ کہنا میں ان کو اس وجہ سے سونے نہیں دیتا کہ مجھے اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں ان کی نماز فوت نہ ہوجائے‘‘۔
روایت: ’’حضور ﷺ کا ارشاد ہے: جو انسان بیوی بچوں کے ساتھ مل کر کھانا کھائے، تو دستر خوان سمیٹنے سے پہلے اللہ تعالی ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جنتی جس وقت میں نماز پڑھتے ہوں گے، جب وہ وقت ہوگا تو جتنے جنت کے درخت ہوں گے ان تمام درختوں کے پتوں میں سے اللہ اکبر کی آواز آنی شروع ہو جائےگی، جنتی بھی اللہ اکبر کہیں گے، حور وغلمان سب اللہ اکبر کہیں گے، اس اللہ اکبر کی آواز سے جنتی پہچان لیں گے کہ اس وقت فجر کی نماز پڑھا کرتے تھے، ہم اس وقت ظہر کی نماز پڑھا کرتے تھے، عصر کی نماز پڑھا کرتے تھے، اور جب شام کا وقت ہوگا تو عرش کے پردے گرا دیے جائیں گے‘‘۔
روایت: ’’حضرت ابو دجانہ r ایک صحابی ہیں، وہ فجر کی نماز پڑھتے، اور نماز پڑھنے کے بعد جلدی اپنے گھر چلے جاتے تھے، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں فجر کی محفل میں شرکت نہیں کرتے تھے، کسی نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ ابو دجانہ r پتہ نہیں کس حال میں ہے کہ جلدی چلا جاتا ہے، جب نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم جلدی کیوں چلے جاتے ہو؟ تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی ﷺ! میرے ہمسائے کے گھر میں ایک درخت ہے جس پر پھل لگے ہوئے ہیں، مگر اس کی کچھ شاخیں میرے گھر پر آتی ہیں، اور جب رات ہوتی ہے تو شاخوں سے پھل میرے گھر میں گر جاتے ہیں، میں فجر کی نماز پڑھ کر جلدی آتا ہوں، تا کہ ان پھلوں کو اٹھا کر اس آدمی کے گھر واپس ڈال دوں، ایسا نہ ہو کہ میرے بچے جاگ جائیں، اور بلا اجازت دوسرے کے پھل کھانے کے گناہ میں ملوث ہوجائیں۔۔۔‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’السواك يزيد الرجل فصاحة‘‘. مسواک انسان کی فصاحت میں اضافہ کرتی ہے‘‘۔