روایت: ’’حضور ﷺ کا ارشاد ہے: جو انسان بیوی بچوں کے ساتھ مل کر کھانا کھائے، تو دستر خوان سمیٹنے سے پہلے اللہ تعالی ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک گناہگار کی زبان سے کروٹ بدلنے کے دوران ’’یا رب‘‘ کا لفظ نکلنا، اور اس پر اللہ تعالی کا اس کی بخشش فرمانا۔
روایت: ’’اللہ تعالی کا رات کے وقت فرشتوں کی ایک جماعت کو حکم دینا کہ فلاں ناپسند بندہ کو تھپکی دے کر سلائے رکھو، فلاں محبوب بندہ کوپَر مار کر تہجد کےلئے بیدار کردو، اور فلاں فلاں مقرب بندہ کو کروٹ دے دو، وہ چاہیں عبادت کریں یا سوتے رہیں، میں ان سے راضی ہوں‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو دن آپ گناہوں کے بغیر گزاریں ایسے ہی ہے جیسے وہ دن میری صحبت میں گزارا ہو‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا دریا کے کنارے پر عصر کی نماز کے بعد اپنی امت کےلئے رو رو کر مغفرت کی دعا مانگنا، اور ایک چڑیا کا اپنی چونچ میں چند دانے ریت کے لے جا کر دریا میں ڈالنا، پھر آپ ﷺ کے پوچھنے پر جبرائیل e کا آپ ﷺ کو بتانا کہ جس طرح چڑیا کے ریت کے چند دانوں سے دریا میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی طرح آپ ﷺ کی امت کے گناہ اللہ تعالی کی رحمت کے دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘‘۔
روایت: ’’ایک مرتبہ ایک صحابی r نے نبی e سے پوچھا: اے اللہ کے نبی ﷺ! لوگوں کے دلوں میں جو مخلوق کی محبت آجاتی ہے اس کی پہچان کیا ہے؟ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’سهر الليالي وإرسال اللآلئ‘‘. انسان راتوں کو جاگتا ہے اور موتی بہاتا ہے‘‘۔