رمضان کے آخری جمعہ میں خطبہ الوداع (الوداع الوداع یا شہر رمضان!) پڑھنا بدعت ہے۔
تفصیل
’’سوال: پڑھنا آخر جمعہ کو ماہ رمضان المبارک میں، الوداع الوداع یا شہر رمضان! اور الوداع الوداع یا سنت التراویح ! اور اشعار فارسی یا اردو یا عربی کا، ہر جمعہ میں یا آخر جمعہ ماہ رمضان المبارک میں، درصورتیکہ عوام الناس خطبۃ الوداع آخر جمعۃ رمضان المبارک کو سنت بلکہ قریب واجب جانتے ہوں کیسا ہے؟ آیا حسبِ زعم ان کے سنت یا مستحب یا بخلاف اس کے بدعت ہے، بدلائل عقلیہ ونقلیہ از کتبِ معتبرہ جواب ارقام فرمایا جاوے، بینوا تو جروا ۔
جواب: یہ خطبہ بدعت ہے کہ مرثیہ اورا شعار قرون مشہو د لہا بالخیر میں خطبہ میں منقول نہیں، علی الخصوص جب اس فعل کو ضروری جانا جاوے کہ مؤکد جاننا کسی امر مستحب کا بھی داخل تعدی حدود اللہ اور بدعتِ ضلالہ ہے، چہ جائیکہ امرِ محدث، اور پھر غیر زبان عربی میں خطبہ پڑھنا مکروہ ہے، بہر حال یہ فعل عوام جہلاء خطباء کا اور سنت جاننا اس کا بدعتِ ضلالہ واجب ا لترک ہے، فقط واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : الوداع کا خطبہ پڑھنا، ص: ۱۳۸، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
علامہ ابو الحسنات عبد الحی لکھنوی l نے لکھا ہے کہ یہ مروجہ طریقہ بدعت سے خالی نہیں،دیکھئے: فتاویٰ عبد الحی l (ص:۵۳۴)۔
ملتی جلتی احادیث
’’جمعہ کی شب اور جمعہ کے روزاور رمضان میں مسلمان کو عذاب قبر نہیں ہوتا، اور پیر کی روایت کوئی معلوم نہیں‘‘۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
’’جس نے سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم تئیسں رمضان کی رات کو پڑھی تو وہ جنت والوں میں سے ہوگا‘‘، اغلب یہ ہے کہ یہ روایت من گھڑت ہے۔
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث قبول ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں ثواب سمجھے بغیر عمل کرلے،بشرطیکہ ضعفِ شدید نہ ہو اور وہ عمل کسی اصل شرعی کے تحت داخل ہو۔
مشہور قضاءِ عمری کی نماز بے اصل ہے۔