روایت: ’’دنیا مردار ہے اور اس کے چاہنے والے کتے ہیں‘‘۔
حکم: یہ روایت ان الفاظ سے آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے؛ اس لیے بیان نہیں کر سکتے، البتہ اس مضمون کی دوسری روایت آپ ﷺ اور حضرت علیr سے ثابت ہے، ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
تفصیل
محدثین کرامl نے جس طرح آنحضر ت ﷺ کے ہر گوشۂ حیات کو محفوظ رکھا ہے، اسی طرح آپ ﷺ کے جانثار صحابہp کے اقوال وافعال کو ہر رطب ویابس سے صاف رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ pکا قول وفعل بھی شریعت کا حصہ ہے، لیکن یہاں ایک انتہائی نازک اور حساس پہلو یہ ہے کہ صحابہp کے اقوال، آپﷺ کے ارشادات سے ممتاز رہیں،تاکہ مسائل کے استنباط اور دیگر شرعی امور میں التباس واقع نہ ہو، چنانچہ محدثینِ کرام اور فقہائے عظام نے ان نصوصِ شریعت کو ہمیشہ خلط ہونے سے محفوظ رکھا ہے،اسی طرح اقوال سلف بھی اسلامی تاریخ کا ایک مستند اور قابلِ فخرذخیرہ ہے، انہیں بھی علمائے امت نے امتیازی شان کے ساتھ زینت بخشی ہے،چنانچہ جہاں کہیں بھی ارشاداتِ صحابہp یااقوالِ سلف کو آپ ﷺ کے فرامین کے ساتھ خلط کیا گیا ہے، محدثینِ کرام نے ان روایات کا تعاقب فرمایا ہے، کتب مشتہرات (زبان زد عام روایات پر مشتمل کتب)میں علمائے کرامl کی ان خدمات کا بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
اسی فریضے کے پیشِ نظر ذیل میں ایک ایسی ہی مشہورروایت پیش کی جائے گی، جس کے الفاظ آپ سے ثابت نہیں ہیں،ایسی روایت کا حکم محدثین کرام کے نزدیک یہ ہے کہ اسے آپ کی جانب منسوب نہیں کیا جائے؛ کیونکہ آپ ﷺ کی جانب صرف ایسا کلام ہی منسوب ہو سکتا ہے،جو معتبر سند سے ثابت ہو،البتہ اس روایت کے معنی پر مشتمل دیگر مرفوع (آپ ﷺ کا قول) اور موقوف (صحابی کا قول) روایات ثابت ہیں (تفصیل آگے آئے گی)۔
دورانِ تحقیق لفظ ِمرفوع اور لفظِ موقوف کثرت سے استعمال ہوگا،اس لئے ذَیل میں ان اصطلاحات کی عام فہم تعریف لکھی جائے گی۔
حا فظ ابن الصلاح lاپنے ’’مقدّمة‘‘ میں[1] حدیثِ مرفوع اور حدیثِ موقوف کی تعریف ان لفظوں سےکی ہے۔
’’وهو ما أضِیْفَ إلى رسولِ اﷲ صلى الله عليه وسلم خَاصّةً‘‘.
جو بات(قول، فعل، تقریر) خاص آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کی جائے، وہ مرفوع ہے۔
’’وهو ما یُرْوَى عن الصحابة رضي اﷲ عنهم مِنْ أفعالِهم وأقوالِهم ونحوِها...‘‘.
اور صحابیr سے منقول اقوال اور افعال وغیرہ موقوف کہلاتے ہیں۔۔۔‘‘۔
حوالہ جات
[1] مقدمة ابن الصلاح:النوع السادس...،ص:116،ت:الدكتور عبد اللطيف والشيخ ماهر ياسين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[2] حلية الأولياء:8/238،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱۴09هـ .
[3] أسد الغابة:زهد علي رضي الله وعدله،4/96،ت:الشيخ علي محمد المعوض والشيخ أحمد الموجود، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[4] أسد الغابة:زهد علي رضي الله وعدله،4/96،ت:الشيخ علي محمد المعوض والشيخ أحمد الموجود، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[5] سير أعلام النبلاء:16/163،ت:شعيب الأرنؤط،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴04هـ .
[6] تاريخ الإسلام:7/745،رقم:10864،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 2005ء .
[7] تاريخ الإسلام:7/651،رقم:7844،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 2005ء .
[8] الجرح التعديل:باب العين،5/53،رقم:7550،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1422هـ .
[9] ميزان الاعتدال:4/462،رقم:9856،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[10] لسان المیزان:8/548،رقم:8679،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[11] البحرالزخار:13/89،رقم:6444،ت:محفوظ الرحمن زین الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة، الطبعة۱۴24هـ .
[12] مجمع الزوائد:باب ترك الدنيا لأهلها،10ٍ/446،رقم:17859،ت:الشيخ عبد الله الدرويش،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .
[13] الدرر المنتثرة:149،رقم:229،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1408هـ .
[14]إتقان ما يحسن:ص:208،رقم:789،ت:الدكتور يحيي مراد،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 2004ء .
[15] الجد الحثيث:100،رقم:165،ت:فواز أحمد زمرلي،دار ابن حزم ـ بيروت .
[16] كشف الخفاء:حرف الدال،1/468،رقم:1313ت:عبد الحميد الهندواني،المكتبة العصرية ـ بيروت، الطبعة1427هـ .
[17] المصنوع:شذرات في بيان بعض الاصطلاحات،ص:18،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،ایچ ـ ایم ـ سعید کمپنی کراچی .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’الناس کلّهم مَوْتَى إلاّ العالمون...‘‘. علماء کے علاوہ تمام لوگ بے جان ہیں۔۔۔‘‘۔
روایت: ’’جب ابراہیم e نے لوگوں کو حج بیت اللہ کےلیے پکارا، اس کے جواب میں لوگوں نے تلبیہ کہا، چنانچہ جس نے ایک مرتبہ تلبیہ کہا ،تو وہ ایک مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو مرتبہ تلبیہ کہا، وہ دو مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو سے زائد مرتبہ تلبیہ کہا، وہ اسی حساب سے حج کرے گا‘‘۔
مقدمہ
روایت: ’’بندوں کی اطاعت پر بادشاہوں کا نیک ہونا، اور نافرمانی پر بادشاہوں کا ظالم بن جانا‘‘۔
روایت: ’’جو شخص ’’لا إله إلّا اﷲ‘‘ کہے اور اسے کھینچ کر پڑھے (یعنی لمبا کرے) تو اس شخص کے چار ہزار گناہ کبیرہ ختم (یعنی معاف)ہوجاتے ہیں‘‘۔