’’حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اپنے جنازہ کو صندوق میں رکھنے کو فرمانا، اور قبر میں دفن کرنے سے منع کرنا، اور یہ فرمانا کہ اونٹنی پر رکھ دیجیو جہاں چاہے لے جاوے گی‘‘، یہ قصہ غلط ہے، بعد انتقال دفن ہوئے۔
تفصیل
’’سوال: حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اپنے جنازہ کو صندوق میں رکھنے کو فرمانا، اور قبر میں دفن کرنے سے منع کرنا، اور یہ فرمانا کہ اونٹنی پر رکھ دیجیو جہاں چاہے لے جاوے گی، صحیح ہے یا غلط ؟
جواب: یہ قصہ غلط ہے، بعد انتقال دفن ہوئے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : حضرت علی r کی تدفین سے متعلق ایک معروف روایت کی حقیقت ، ص: ۲۸،دار الکتاب لاہور ۔
حافظ ابن تیمیہ l نے ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ ( ۴/۳۰۴)میں حضرت علی r کی جانب منسوب اس وصیت کو جھوٹ قرار دیا ہے،اور کہا ہے کہ اہل علم کے نزدیک یہ معروف ہے کہ ان کی قبر کوفہ ’’قصر الامارہ‘‘ میں ہے،عبارت یہ ہے:
{الحمد لله رب العالمين، أما ما ذكر من توصية أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه إذا مات، أرْكِب فوق دابته وتُسِيِّب ويُدْفَن حيث تَبْرُك وأنه فُعِل ذلك به، فهذا كذب مختلق باتفاق أهل العلم، لم يوص علي بشيء من ذلك ولا فعل به شيء من ذلك ولم يذكر هذا أحد من المعروفين بالعلم والعدل، وإنما يقول ذلك من ينقل عن بعض الكذابين، ولا يحل أن يفعل هذا بأحد من موتى المسلمين ولا يحل لأحد أن يوصي بذلك، بل هذا مثلة بالميت ولا فائدة في هذا الفعل، فإنه إن كان المقصود تعمية قبره فلا بد إذا بركت الناقة من أن يحفر له قبر ويدفن فيه، وحينئذ يمكن أن يحفر له قبر ويدفن به بدون هذه المثلة القبيحة، وهو أن يترك ميتا على ظهر دابة تسير في البرية.
وقد تنازع العلماء في موضع قبره، والمعروف عند أهل العلم أنه دفن بقصر الإمارة بالكوفة، وأنه أخفي قبره لئلا ينبشه الخوارج الذين كانوا يكفرونه ويستحلون قتله... }.
حافظ ابن کثیر l نے بھی ’’البدایہ والنہایہ‘‘ (۱۱/۲۰) میں حافظ ابن تیمیہ l کے موافق تفصیل لکھی ہے،ملاحظہ ہو:
{والمقصود أن عليا رضي الله عنه لما مات صلى عليه ابنه الحسن فكبر عليه تسع تكبيرات، ودفن بدار الإمارة بالكوفة خوفا عليه من الخوارج أن ينبشوا عن جثته، هذا هو المشهور، ومن قال إنه حمل على راحلته فذهبت به فلا يدري أين ذهبت فقد أخطأ وتكلف ما لا علم له به، ولا يسيغه عقل ولا شرع، وما يعتقده كثير من جهلة الروافض من أن قبره بمشهد النجف فلا دليل على ذلك ولا أصل له... }.
ملتی جلتی احادیث
میت کو دفن کرنے کے بعد اول آخر سورہ ٔ بقرہ پڑھنا تو حدیث میں وارد ہے، مگر قبر پرانگلی رکھنے کا ذکر نہیں ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔