روایت:جنت میں جنتیوں کے سامنے حضور اکرمﷺ کا سورۂ یاسین پڑھنا، اور اللہ تبارک وتعالی کا سورۂ رحمن پڑھنا اور ایک روایت کے مطابق سورۂ انعام پڑھنا۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] قرة العيون ومفرح القلب المحزون:ص:30،مكتبة النصر ـ مصر .
[2] نزهة المجالس:2/۵۰۱،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
[3] الدرر الحسان في البعث ونعيم الجنان على هامش دقائق الأخبارللقاضي عبد الرحيم:ص:37،الحرمين ـ اندونيسيا،الطبعة الأولى1426هـ .
امام سیوطیl کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’فإذا النداء من قبل الله تعالى، ياحبيبي يا محمد! ارق المنبر، واقرأ طه ويس، فيرقي المنبر، فيقرأهما، فيزيد في الحسن على صوت داود عليه السلام سبعين ضعفا، فيطرب القوم والكراسي من تحتهم وقناديل العرش، وكذلك الملئكة تموج من الطرب، وكذلك الحور العين والولدان، ولا يبقى ذو روح إلا طرب من صوت النبي صلى الله عليه وسلم، ثم يقول الله تعالى: هل سمعتم قراءة أنبيائي ورسلي؟ فيقولون لهم: أتريدون أن تسمعوا قراءة ربكم؟ فيقولون بأجمعهم ما أشوقنا إلى ذلك، قال ابن عباس رضي الله عنهما: فعند ذلك يتلو الرب جل جلا له سورة الرحمن، وفي رواية سورة الأنعام، فإذا سمعوا قراءة الحق جل جلاله غابوا عن الوجود، وطربت الأملاك والحجب والستور والقصور والأشجار، وصفقت الأوراق، وغردت الأطيار، وتماوجت الأنهار طربا لقراءة عزيز الجبار، واهتز العرش طربا، ومال الكرسي عجبا، ولم يبق في الجنة شيء الا واهتز حنينا واشتياقا إلى الله تعالى‘‘.
[4] نزهة المجالس:2/501،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: آپ ﷺ کا بچپن میں گم ہونا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ کا پریشان ہونا، اور ایک بوڑھے کا حضرت حلیمہ کو بتوں کے پاس لے جانا، اور آپ ﷺ کا نام سن کر بتوں کا گرجانا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کا صرف اللہ تعالی کےلئے سیکھنا اللہ تعالی کے خوف کے حکم میں ہے، اور اس کی طلب (یعنی تلاش کےلئے کہیں جانا) عبادت ہے، اور اس کا یاد کرنا تسبیح ہے، اور اس کی تحقیقات میں بحث کرنا جہاد ہے، اور اس کا پڑھنا صدقہ ہے، اور اس کا اہل پر خرچ کرنا اللہ تعالی کے یہاں قربت ہے‘‘۔
روایت: ایک اونٹنی کا حضور اقدسﷺ کی بارگاہ میں ایک اعرابی کے حق میں درود پڑھنے کی وجہ سے گواہی دینا۔
روایت: نبی اکرمﷺ نے واقعۂ افک میں صحابہ کرام p سے مشورہ کیا، حضرت عمرr نے فرمایا: مجھے منافقین کے جھوٹا ہونے کا یقین ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے آپﷺ کے جسم اطہر پر مکھی کو نہیں بیٹھنے دیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ فحاشی سے ملوث عورت سے آپ کی حفاظت نہ فرمائے، حضرت عثمانr نے فرمایا: اللہ تعالی نے آپﷺ کا سایہ مبارک زمین پر نہیں پڑنے دیا تاکہ کسی کا قدم اس پر نہ پڑے، جب اللہ تعالی نے کسی کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ آپﷺ کے سایہ مبارک پر قدم رکھ سکے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کو یہ اختیار دے دے کہ وہ آپﷺ کی گھر والی کی ناموس کو خراب کردے، حضرت علیr نے فرمایا: حضرت جبرائیلe نے آپﷺ کو خبر دی تھی کہ آپﷺ کے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے، اور آپﷺ کو حکم دیا کہ اسے اتار دیں، تو اب یہ کیسے ہوسکتا ہے، کہ آپﷺ کی گھر والی ذرہ برابر بھی کسی برائی میں مبتلا ہو اور اللہ تعالی آپﷺ کو اسے جدا کرنے کا حکم نہ دے۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے معراج کی رات اپنی امت کی کچھ عورتوں کو مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا پایا: 1 ایک عورت پردہ نہ کرنے کی وجہ سے بالوں کے بل لٹکائی گئی تھی 2 ایک عورت شوہر کو تکلیف دینے کی وجہ سے زبان کے بل لٹکائی گئی تھی 3 غسل جنابت، غسل حیض نہ کرنے اور نماز کا مذاق اڑانے کی وجہ سے ایک عورت کے پیر اس کے پستانوں سے اور ہاتھ پیشانی سے بندھے ہوئے تھے 4 شوہر کے بستر میں ایذاء کا سبب بننے کی وجہ سے ایک عورت پستانوں کے بل لٹکائی گئی تھی 5 چغل خوری اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ایک عورت کاسر خنزیر کے سر کی طرح، جسم گدھے کے جسم کی طرح تھا 6 احسان جتلانے اور حسد کرنے کی وجہ سے ایک عورت کی شکل کتے کی شکل کی طرح تھی‘‘۔