”روایت کہ آپ ﷺ نے بلی کو ڈرانے کے لئے روئی کے گالے سے مارا تھا“، یہ درست نہیں ہے۔
تفصیل
بعض عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اگر بلی نقصان بھی کرے تو بس صرف موصل [كذا في الأصل] میں گالا روئی کا باندھ کر مارنا درست ہے، جناب پیغمبر خدا ﷺ نے اسی طرح مارا تھا، سو یہ مسئلہ اور حدیث دونوں غلط ہیں[1]۔
حوالہ جات
[1] غلط مسئلے : متفرق غلط وفاسد خیالات ومسائل ، ص :۲۴، عمران اکیڈمی، لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
حکایت: ”چاند اور سورج کے گہن کے وقت کھانا پینا منع ہے“، اس کی کوئی اصل نہیں۔
حکایت کہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ نہ رکھیں، کیونکہ یزید کی ماں نے روزہ رکھا تھا، یہ بھی محض بے اصل ہے۔
روایت: ”بدھ کے روز کتاب شروع کر نے کا اہتمام۔۔۔“،اس بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔
روایت: ”آپ ﷺ سے شین ادا نہ ہو سکتا تھا“، یہ درست نہیں ہے۔
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔