روایت: ”جب معاویہ r کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دو“، من گھڑت ہے۔
تفصیل
قول دہم : قال: النبي صلى الله عليه وسلم: {إذا رأیتم معاویة على منبري فاقتلوه}.
[آپ ﷺ نے فرمایا: جب معاویہ r کو میرے
منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دو ] (منقول
از فردوس دیلمی
کنوز الحقائق) انتهى۔
جواب : ”بستان المحدثین“ میں دیلمی کو تُودۂ [ ڈھیر ] موضوعات لکھا ہے[1]۔
حوالہ جات
[1] امدادالفتاویٰ : کتاب العقائدوالکلام ، رفع شبہات شیعہ متعلقہ فضائل علیؓ ، ۶/۱۳۶، مکتبہ دارالعلوم، کراچی ۔
اس روایت کو حافظ جوزقانی ؒ،حافظ خطیب بغدادی ؒ،حافظ ابن جوزی ؒ،حافظ عقیلی ؒ،حافظ ابن عدی ؒ،حافظ ذہبی ؒ،حافظ سیوطی ؒ،حافظ ابن عرّاق نے من گھڑت کہا ہے،دیکھئے: ”اللآلی المصنوعہ“(۱/ ۳۸۸) اور ”تنزيہ الشريعہ“(۲/ ۸)۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”میں اس بات پر خدا کا شکر کرتا ہوں کہ وہ میری رسالت اور علی rکی ولایت سے راضی ہے“، یہ بالکل غلط روایت ہے۔
حضرت عمر r کا اپنے بیٹے ابو شحمہ پر حد نافذ کرنے کا مشہور قصہ موضوع وباطل ہے، صحیح واقعہ دوسرا ہے۔
روایت: {لولاك لماخلقت الأفلاك} (اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا) ظاہراً موضوع معلوم ہوتی ہے۔
روایت : ”حضورﷺ نے عیسی e کی نسبت یہ فرمایا کہ اگر ان کو زیادہ یقین ہوتا تو ہوا پر چلتے “، علامہ عراقی l نے اسے منکر کہا ہے۔