روایت: ’’الواجب يفضل المندوب بسبعين درجة‘‘. واجب مندوب (یعنی نفل) سے ستر درجہ افضل ہے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] المنثور في القواعد:۲/422،ت:تيسير فائق أحمد محمود،شركة دار الكويت للصحافة،الطبعة الثانية 1405هـ .
[2] التقرير والتحبير على التحرير في أصول الفقه:۲/137،ت:عبد الله محمود محمد عمر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[3] تحفة المحتاج بشرح المنهاج:1/323،ت:سيد بن محمد السناري،دار الحديث ـ القاهرة،الطبعة 1437هـ .
[4] نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج:2/105،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالثالثة1424هـ .
[5] رد المحتار على الدر المختار:1/250،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار عالم الکتب ـ الریاض،الطبعة۱۴۲۳هـ .
[6] واضح رہے کہ امام الحرمین جوینی l نے بعض علماء کے حوالہ سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ’’صحیح ابن خزیمہ‘‘میں موجود حدیثِ سلمان فارسی rسے استیناس کرتے ہوئے یہ ذکر کیا ہے: ’’فرض کا ثواب نفل کے ثواب سے ستر درجہ زائد ہوتا ہے‘‘، لیکن علامہ تاج الدین سبکی l نے مذکورہ حدیث سے اس امر کے استیناس پر تامل کا اظہار کیا ہے، چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’وقال بعض علمائنا: الفريضة يزيد ثوابها على ثواب النفل بسبعين درجة، وتمسكوا بما رواه سلمان الفارسي: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في شهر رمضان: من تقرب فيه بخصلة من خصال الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه، ومن أدى فريضة فيه كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه، فقابل النفل فيه بالفرض في غيره، وقابل الفرض فيه بسبعين فرضا في غيره، فأشعر هذا بأن الفرض يزيد على النفل بسبعين درجة من طريق الفحوى، انتهى كلام الإمام في النهاية .
فأما حديث لا يتقرب المتقربون ...، ففي صحيح البخاري، وأما حديث: عبدي أد ما افترضته عليك، [فعلى] حفظي أن شيئا منه في سنن ابن ماجة، وأما حديث سلمان فرواه ابن خزيمة في صحيحه، والبيهقي في شعب الإيمان، وقوله: فأشعر بأن الفرض يزيد بسبعين، لعل مراده بالسبعين في الحديث العدد الكبير، وذكر لفظ السبعين مبالغة، لا للتقييد بالعدد [الخاص]، ومن ثم قال الإمام: يزيد بالسبعين، ولولا ذلك لقال تسع وستين، وقوله: أشعر من جهة الفحوى لم يتبين لي وجه هذا الإشعار‘‘. (الأشباه والنظائر لتاج الدين السبكي:1/185،ت: عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴11هـ) .
اسی طرح علامہ حسن بن محمد بن محمود عطار l نے بھی اس جیسی بات فرمائی ہے، چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’(قوله: أخذا من حديث) وهو حديث سلمان مرفوعا في فضل شهر رمضان: من تقرب فيه بخصلة من خصال الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه، ومن أدى فريضة فيه كان كمن أدى سبعين فريضة في غيره، قال إمام الحرمين في النهاية: قابل النفل فيه بالفرض في غيره، وقابل الفرض فيه بسبعين فرضا في غيره، فأشعر هذا بأن الفرض يزيد على النفل بسبعين درجة من طريق الفحوى، لكن قال الحافظ ابن حجر العسقلاني: إنه حديث ضعيف، وأيضا ما ذكره في النهاية ظاهر بالنسبة للتفاوت بين فرض رمضان ونفله، وأما بالنسبة إلى الفرض والنفل الواقعين في غيره فلا، فكان الأولى للشارح أن يقول: واستأنسوا في ذلك بحديث إلخ، كما عبر به النووي حين ذكر أن ثواب الواجب كثواب سبعين مندوبا، وإلا فقوله: أخذا بعد جزمه بقوله الذي هو إلخ موهم صحة الحديث أو حسنه‘‘. (حاشية العطار على جمع الجوامع للإمام ابن السبكي:1/232،دار الكتب العلمية ـ بيروت) .
الحاصل مذکورہ الفاظ تو’’صحیح ابن خزیمہ‘‘میں نہیں ملتے، لیکن ’’صحیح ابن خزیمہ‘‘میں موجود حدیثِ سلمان فارسی rسے استیناس کرتے ہوئے بعض علماء نے انہیں ذکر کیا ہے، واللہ اعلم۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: حدیث میں ہے: ’’جو شخص اس بات پر خوش ہو کہ اس کا گھر خیر سے بھر جائے تو اسے چاہئے کہ وہ کثرت سے آیت الکرسی پڑھے، اور جو شخص وضوء کے بعد آیت الکرسی پڑھے گا تو اللہ تعالی اس کے چالس درجہ بلند کریں گے، اور ہر حرف پر ایک فرشتہ پیدا کریں گے جو قیامت کے دن تک اس کے پڑھنے والے کےلئے استغفار کرتا رہے گا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص وضوء کے بعد آیت الکرسی پڑھے تو اللہ تعالی اس کو چالیس علماء کا ثواب عطاء کریں گے، چالیس درجہ بلند کریں گے، اور چالیس حوروں سے اس کا نکاح کرائیں گے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو بندہ اذان اور اقامت کے درمیان یہ دعا پڑھ لے: ’’اللهم إني أسئلك العفو والعافية في الدنيا والآخرة‘‘. اس کو اللہ تعالی چار انعام دیں گے: 1 اللہ تعالی اسے ایسی بیماری نہیں لگنے دیں گے جس سے موت آجائے 2 اللہ تعالی اس کو تنہائی کے گناہ سے بچائیں گے 3 اللہ تعالی اس کو ظالموں سے دور رکھیں گے 4 اللہ تعالی اس کو بغیر محنت کے آسان روزی عطا فرمائیں گے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من صلى صلاة لم يدع فيها للمؤمنين والمؤمنات فصلاته خداج‘‘. جس نے نماز پڑھی اور اس میں مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کےلئے دعا نہ کی تو اس کی نماز نامکمل ہے‘‘۔
روایت:’’روي في الأخبار: وهو أن الله تعالى إذا أنزل الرحمة على الجماعة ينزلها أولا على الإمام، ثم يتجاوز عنه إلى من بحذائه في الصف الأول، ثم إلى الميامن، ثم إلى المياسر، ثم إلى الصف الثاني‘‘. اخبار میں مروی ہے: اللہ تعالی جب جماعت پر رحمت نازل فرماتے ہیں تو سب سے پہلے امام پر نازل فرماتے ہیں، پھر رحمت امام سے آگے بڑھ کر اس شخص کی جانب بڑھتی ہے جو پہلی صف میں امام کے مقابل ہو، پھر دائیں جانب، پھر بائیں جانب، پھر دوسری صف کی جانب بڑھتی ہے۔