غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)
40 احادیث ملیں
روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’قلوب بمنزلہ برتن کے ہیں، اور بہترین برتن وہ ہیں جو خیر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہیں، علم کا جمع کرنا مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی تجھ کو حفاظت کرنی پڑتی ہے، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، مال کا نفع اس کے زائل ہونے (خرچ کرنے) سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن علم کا نفع ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے‘‘۔
روایت: حدیث شریف میں آیا ہے: ’’ایک مرتبہ دو شیطانوں کی آپس میں ملاقات ہوئی، ان میں ایک شیطان موٹا تھا اور دوسرا دبلا پتلا، موٹے شیطان نے پتلے شیطان سے پوچھا: تو اتنا کمزور کیوں ہے؟ اس نے کہا کہ میری ذمہ داری ایک ایسے مسلمان پر لگی ہوئی ہے، اس کی زبان پر ہر دم اللہ تعالی کا نام رہتا ہے، جب وہ کھانا کھاتا ہے تو اللہ تعالی کا نام لیتا ہے، جب پانی پیتا ہے تو اللہ تعالی کانام لیتا ہے، اس طرح وہ سارے کھانے پینے کی چیزوں میں اللہ تعالی کا نام لیتا ہے، تو جس چیز کو وہ اللہ تعالی کا نام لیکر کھاتا ہے اس چیز میں میرا کوئی حصہ نہیں رہتا، نتیجہ یہ کہ میں دن رات بھوکا رہتا ہوں، تو بھوکا رہ کر کمزور ہی ہونا ہے، اس کے بعد موٹے شیطان نے کہا: میری ذمہ داری ایک ایسے بندے کے ساتھ ہے جو اللہ تعالی کا نام ہی نہیں جانتا، وہ بغیر اللہ تعالی کا نام لئے کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے، تو جب وہ اللہ تعالی کا نام لئے بغیر کھاتا ہے تو میں بھی اس کے ساتھ کھانا کھا لیتا ہوں، اور مجھے خوب کھانے کو مل رہا ہے، اس لئے میں کھا کر خوب موٹا ہورہاہوں‘‘۔
روایت: حدیث میں ہے: ’’جو شخص اس بات پر خوش ہو کہ اس کا گھر خیر سے بھر جائے تو اسے چاہئے کہ وہ کثرت سے آیت الکرسی پڑھے، اور جو شخص وضوء کے بعد آیت الکرسی پڑھے گا تو اللہ تعالی اس کے چالس درجہ بلند کریں گے، اور ہر حرف پر ایک فرشتہ پیدا کریں گے جو قیامت کے دن تک اس کے پڑھنے والے کےلئے استغفار کرتا رہے گا‘‘۔
روایت: حدیث پاک میں ہے:’’اللہ تعالی نے اسرافیل e کو حکم دیا ہوا ہے کہ اگر تم دنیا میں کسی بندہ کو سنو کہ وہ میرا نام لے رہا ہے تو سننے کے بعد صور پھونکنے میں چالیس سال کی تاخیر کردینا‘‘۔
روایت: روزِ محشر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو حکم ہوگا: تم اپنی امتوں کو پیش کرو، نبی ﷺ امت کے نیک لوگوں کو حاضر کریں گے، لیکن ارشاد ہوگا کہ بے نمازی، تارکِ زکوۃ، ماں باپ کے نافرمان، پڑوسی پر ظلم کرنے والے، اور جھوٹ بولنے والوں کو لاؤ تاکہ اللہ تعالی کی مغفرت وکرم کا اظہار ہوسکے۔
روایت: لوگوں کا حساب کتاب عرفات میں ہوگا۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’الوضوء على الوضوء نور على نور‘‘. وضوء پر وضو ء کرنا نورعلی نور ہے‘‘۔
روایت: ’’اللہ تعالی نے آسمان وزمین کی تخلیق کے دن سے ایک فرشتہ تخلیق کررکھا ہے، اور اسے حکم دیا ہے کہ وہ آواز کھینچ کر ’’لاالہ الا اللہ‘‘کہے، اس کی آواز اور سانس نہ ٹوٹے، اور وہ اس کی تکمیل نہ کرے، جب وہ اسے مکمل کرلے تو اسرافیل e کو حکم دیا جائےگا کہ صور پھونک دے، اور قیامت قائم ہوجائےگی‘‘۔
روایت: ’’الواجب يفضل المندوب بسبعين درجة‘‘. واجب مندوب (یعنی نفل) سے ستر درجہ افضل ہے۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ جل شانہ شبہات کے ہجوم میں گہری نظر کو محبوب رکھتا ہے، اور شہوتوں کے نزول کے وقت عقل کامل کو محبوب رکھتا ہے‘‘۔