روایت: ’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’المجلس الصالح يكفر عن المؤمن ألفي ألف مجلس من مجالس السوء‘‘. نیک مجلس، مؤمن کی دو لاکھ بری مجلس کا کفارہ بن جاتی ہے‘‘۔
حکم: علامہ تاج الدین سبکی l نے اس روایت کو ان احادیث کی فہرست میں شمار کیا ہے جن کی انہیں سند نہیں مل سکی ہے، نیز حافظ عراقی l فرماتے ہیں: ’’میں اس کی اصل پر واقف نہیں ہوسکا ہوں‘‘، اور علامہ مرتضی زبیدی l نے حافظ عراقی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے، الحاصل اسے آپ ﷺ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1]تنبیه الغافلین:ص:440،رقم:682،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة1421 هـ .
[2] إحياء علوم الدين:1/296،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة1402هـ .
[3] الفردوس بمأثور الخطاب:1/158،رقم:583،ت:السعيد بن بسيوني،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى 1406هـ .
حافظ ابو شجاع دیلمیl کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’راشد [ كذا في الأصل] بن وداعة: إن الله عز وجل ليكفر بالمجلس الصالح ألفي ألف مجلس من مجالس السوء، وإن الرجل ليدرك بالمجلس الصالح ما فاته ستين سنة من عمره‘‘.
[4] طبقات الشافعية الكبرى:6/313،ت:عبد الفتاح محمد الحلو ومحمود محمد الطناحي،هجر للطباعة والنشر، الطبعة الثانية1413هـ .
[5] المغني عن حمل الأسفارص:244،رقم:933،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبة دار طبرية ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .
[6] إتحاف السادة المتقين:۵/۱۹۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الخامسة143۳هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’الدعاء سلاح المؤمن، وعماد الدين، ونور السماوات والأرض‘‘. دعا مؤمن کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان وزمین کا نور ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اختلاف أصحابي رحمة‘‘. میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کا اختلاف رحمت ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من حج إلى مكة، ثم قصدني في مسجدي كتبت له حجتان مبروتان‘‘. جو شخص حج کےلئے مکہ جائے پھر میرا قصد کرکے میری مسجد میں آئے، اس کےلئے دو مقبول حج لکھے جاتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اختلاف أمتي رحمة‘‘. میری امت کا اختلاف رحمت ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی حاجیوں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب مزدلفہ کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالی تاجروں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب منی کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی اونٹ والوں کی مغفرت فرماتے ہیں، پھر جب جمرہ عقبہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی سوال کرنے والے کی مغفرت فرماتے ہیں، جو کوئی بھی اس جگہ حاضر ہوا ہو، اس کی ضرور مغفرت کردی جاتی ہے‘‘۔