’’ابو بکر کی فضیلت تم پر کثرتِ نماز اور روزے کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس چیزکی وجہ سے ہے جواس کے دل میں پختہ ہے‘‘۔
حکم:یہ آپ ﷺ کے قول کی حیثیت سے ثابت نہیں ہے،اس لئے آپ ﷺ کی جانب منسوب نہیں کر سکتے،البتہ مشہورقول کےمطابق یہ قول حافظ بکربن عبداللہ مُزَنِی l (متوفی ۱۰۸ھ)کاہے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] بحرالفوائدالمشهور بمعانی الأخبار:ص:۴۱،ت:محمد حسن وأحمدفرید،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة۱۴۲۰هـ .
[2] المغني عن حمل الأسفار:ص:۲۳،رقم:۷۳،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود، مكتبة دار طبرية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[3] طبقات الشافعية الكبرى:۶/۲۸۸،ت:عبد الفتاح محمد الحلو،دار إحیاء الکتب العربیةـ القاهرة، الطبعة ۱۳۸۸هـ .
[4] المنارالمنيف:ص:۱۱۵،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلاميةـ حلب،الطبعة۱۴۰۳هـ .
[5] جامع العلوم والحكم:۱/ ۱۱۶،ت:محمد الأحمدي أبو النور،دارالسلام ـ مصر،الطبعة۱۴۲۴هـ .
[6] المقاصدالحسنة،ص:۴۲۴،حرف المیم،رقم:۹۶۸،ت:عبداللطیف حسن،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة۱۴۲۷هـ .
[7] المصنوع،ص:۱۶۲،رقم:۲۸۵،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلاميةـ حلب، الطبعة ۱۴۱۴ هـ .
[8] إتقان مایحسن:ص:۵۰۴،رقم:۱۶۳۸،ت:خلیل بن محمد العربی،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة ۱۴۱۵هـ .
[9] الجد الحثيث:ص:۱۹۹،رقم:۴۲۸،ت:فواز أحمد زمرلي،دارابن حزم ـ بيروت .
بکر بن عبداللہ کے قول کی تخریج اور مصدر
حکیم ترمذیl نے’’نوادرالأصول‘‘ میں یہ روایت اس سندسےتخریج کی ہے : ’’حدثنا مؤمل بن هشام، ثنا إسماعیل بن إبراهیم، عن غالب بن القطان، عن بکربن عبدالله المُزَنِی قال: إن أبا بكررضي الله عنه لم يفضل الناس بكثرة صلاة ولا صوم، وإنما فضلهم بشيء كان في قلبه‘‘ ( نوادرالأصول : ص:۸۳۳ ، رقم:۱۱۱۸).
ملتی جلتی احادیث
ستائیس رجب کے روزے و نماز پرسو سال کے روزوں و نماز کا ثواب
صحابی r کا نماز پڑھ کر، اللہ سے نمک مانگنا
روایت: ’’جوچیز بھی اللہ نےمیرے دل میں ڈالی ،وہ ابو بکر r کے دل میں بھی ڈال دی ہے‘‘۔
روایت: ’’جس نےچالیس دن تک گوشت کھانا چھوڑدیا اس کےاخلاق برے ہوجائیں گے،اور جوشخص چالیس دن تکگوشت کھا ئے گااس کا دل سخت ہوجائے گا‘‘۔
’’میں علم کا شہر ہو ں ،ابوبکرr اس کی بنیاد ،عمر r اس کی دیوار، عثمانr اس کی چھت اور علی r اس کا دروازہ ہیں‘‘۔
بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’معاویہ r اس کا حلقہ ہے ‘‘ ۔