روایت: ’’جوچیز بھی اللہ نےمیرے دل میں ڈالی ،وہ ابو بکر r کے دل میں بھی ڈال دی ہے‘‘۔
حکم:من گھڑت
تفصیل
حوالہ جات
[1] مفاتيح الغيب:ج:۱۲/ ص:۲۵،دارالفکرـ بيروت،الطبعة۱۴۰۱هـ..
[2] کتاب الموضوعات:۱/ ۳۱۹،ت:عبدالرحمن محمدعثمان،المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى ۱۳۸۶هـ .
[3] المنار المنيف:ص:۱۱۵،رقم:۲۴۰،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة ۱۴۰۳هـ..
[4] الأسرارالمرفوعة: ص:۴۵۴،ت:محمد بن لطفي الصباغ،الكتب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الثانية ۱۴۰۶ هـ..
[5] الفتاوى الحديثية:ص:۱۷۳- ۱۷۴،دارالمعرفةـ بيروت .
[6] كشف الخفاء:۲/۵۱۲،ت:یوسف بن محمود الحاج أحمد،مکتبة العلم الحدیث ـ جدة،الطبعة ۱۴۲۱ هـ .
[7] تذكرةالموضوعات:ص:۹۳، كتب خانه مجيديه ـ باكستان .
[8] الفوائدالمجموعة:۳۳۵،ت:عبد الرحمن بن يحي المعلمي،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۳۰هـ .
ملتی جلتی احادیث
’’میں علم کا شہر ہو ں ،ابوبکرr اس کی بنیاد ،عمر r اس کی دیوار، عثمانr اس کی چھت اور علی r اس کا دروازہ ہیں‘‘۔
بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’معاویہ r اس کا حلقہ ہے ‘‘ ۔
حکایت:حضرت بلال r کا نبی ﷺ کو خواب میں دیکھ کر دمشق سے مدینہ آنا، پھر اذان دینا اور مدینہ والوں کی آہ وبکا۔
روایت: حضرت انس r کا تنور کی آگ سے آپ ﷺ کےرومال کے میل کچیل کو صاف کرنا،اور رومال کا نہ جلنا
روایت: حضرت سلمانr کو آپ ﷺ کا ترتیب وار چالیس احادیث بیان کرنا ،اور انہیں یاد کرنے پرانبیاء و علماء کے ساتھ حشر کی فضیلت۔
حضرت جبرائیل eکا رسالت مآب ﷺ کو جہنم کے احوال بیان کرنا،اس پرآپﷺ کا اپنی امت کے بارے میں انتہائی غم زدہ ہونا،حضرت فاطمہR کے پوچھنے پر انہیں تمام احوال بیان کرنا