التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)

روایت: ’’آپ ﷺ کے ابو طالب کے ساتھ شام کے سفر میں ابو بکر r اور بلال r کا ساتھ ہونا، اور راہب کی تنبیہ پر حضرت ابو بکر صدیق r کا نبی ﷺ کے ساتھ حضرت بلال r کو واپس بھیجنا‘‘۔

حکم: حافظ ذہبی l نے مشہور حکایت میں موجود مذکورہ زیر بحث مضمون کو ’’شدید منکر‘‘، ’’باطل‘‘ کہا ہے، حافظ ابن سید الناس l فرماتے ہیں: ’’اس کے متن میں نکارت ہے‘‘، حافظ ابن قیم الجوزیہ l نے اسے ’’شدید منکر‘‘، ’’واضح غلطی‘‘، ’’محال بات‘‘ کہا ہے، حافظ علائی l فرماتے ہیں: ’’بلاشبہ یہ غلط ہے‘‘، حافظ ابن کثیر l نے اسے ’’غریب‘‘ کہا ہے، حافظ زرکشی l فرماتے ہیں: ’’یہ واضح اوہام میں سے ہے‘‘، نیز وہ اسے راوی کے ’’ادراج‘‘میں شمار کرتے ہیں، حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ان الفاظ کو ’’منکر‘‘ کہا ہے، نیز وہ یہ بھی فرماتے ہیں: ’’آخری جملہ دوسری حدیث سے الگ کرکے اس حدیث میں مدرج کیا گیا ہے، خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ جملہ، حدیث کے راویوں میں سے کسی کا وہم ہے‘‘، اس کے علاوہ حافظ دمیاطی l، حافظ مغلطایl، علامہ محمد بن ابراہیم سلمی مناوی l، ملاعلی قاری l اور علامہ عبد الحق دہلوی l نے روایت میں حضرت ابو بکر r اور حضرت بلال r کے ذکر کو وہم قرار دیا ہے، الحاصل ابو طالب کے ساتھ آپ ﷺ کے شام کے سفر میں حضرت ابوبکرr اور حضرت بلال r کا تذکرہ، نیز حضرت ابوبکر r کا حضرت بلال r کو نبی ﷺ کے ساتھ واپس بھیجنا، یہ امور مذکورہ مشہور حکایت میں بیان کرنا درست نہیں ہیں، واللہ اعلم۔

تفصیل

روایت پر ائمہ کا کلام

حوالہ جات

[1] الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار:7/327،رقم:36541،ت:كمال يوسف الحوت،دار التاج ـ بيروت، الطبعة الأولى1409هـ .

[2] حافظ ابن ابی شیبہ l کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: 

’’حدثنا قُرَاد أبو نوح، قال: أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبيه، قال: خرج أبو طالب إلى الشام، وخرج معه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأشياخ من قريش، فلما أشرفوا على الراهب، هبطوا، فحلوا رحالهم، فخرج إليهم الراهب، وكانوا قبل ذلك يمرون به، فلا يخرج إليهم ولا يلتفت، قال: فهم يحلون رحالهم، فجعل يتخللهم حتى جاء، فأخذ بيد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: هذا سيد العالمين، هذا رسول رب العالمين، هذا يبعثه الله رحمة للعالمين، فقال له أشياخ من قريش: ما عملك؟ [ كذا في الأصل]، قال: إنكم حين أشرفتم من العقبة، لم يبق شجر ولا حجر، إلا خر ساجدا، ولا يسجد إلا لنبي .

وإني لأعرفه بخاتم النبوة، أسفل من غضروف كتفه، مثل التفاحة، ثم رجع، صنع لهم طعاما، فلما أتاهم به، وكان هو في رعية الإبل، قال: أرسلوا إليه، فأقبل وعليه غمامة تظله، قال: انظروا إليه، عليه غمامة تظله، فلما دنا من القوم، وجدهم قد سبقوا إلى فيء الشجرة عليه، فلما جلس، مال فيء الشجرة عليه، فقال: انظروا إلى فيء الشجرة، مال عليه، قال: فبينما هو قائم عليهم، وهو يناشدهم أن لا يذهبوا به إلى الروم، فإن الروم لو رأوه، عرفوه بالصفة، فقتلوه .

فالتفت فإذا هو بتسعة نفر، قد أقبلوا من الروم، فاستقبلهم، فقال: ما جاء بكم؟ قالوا: جئنا أن هذا النبي خارج في هذا الشهر، فلم يبق في طريق إلا قد بعث إليه ناس، وإنا أخبرنا خبره، فبعثنا إلى طريقك هذا، فقال لهم: ما خلفتم خلفكم أحدا هو خير منكم، قالوا: لا، إنما أخبرنا خبره، فبعثنا لطريقك هذا، قال: أفرأيتم أمرا أراد الله أن يقضيه، وهل يستطيع أحد من الناس رده؟ قالوا: لا، قال: فبايعوه، وأقاموا معه، فأتاهم، فقال: أنشدكم بالله أيكم وليه؟ قال أبو طالب: أنا، فلم يزل يناشده حتى رده أبو طالب، وبعث معه أبو بكر بلالا، وزوده الراهب من الكعك والزيت‘‘.

حضرت ابو موسی اشعری r فرماتے ہیں: ابو طالب شام کی طرف نکلے، اور ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ اور قریش کے کچھ سردار بھی گئے، جب ان لوگوں کی اونچائی سے راہب پر نظر پڑی، تو وہ نیچے اتر گئے، پھر انہوں نے اپنے کجاووں کو کھولا، سو راہب ان کے پاس آیا، حالانکہ وہ لوگ اس سے پہلے جب اس کے پاس سے گزرتے تھے تو وہ ان کے پاس نہیں آتا تھا اور نہ التفات کرتا تھا، (سند کے راوی) کہتے ہیں: وہ اپنے کجاوے کھول رہے تھے کہ راہب ان کے بیچ سے گزر کر آیا، پھر رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ سید العالمین ہیں، یہ رب العالمین کے رسول ہیں، اللہ تعالی نے ان کو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا ہے، تو قریش کے کچھ سردروں نے کہا: آپ کیسے جانتے ہیں؟ راہب نے کہا: جب تم لوگ گھاٹی پر نموردار ہوئے تو کوئی درخت اور کوئی پتھر باقی نہیں رہا ہوگا جو سجدہ میں نہ گرا ہو، اور یہ صرف نبی کو سجدہ کرتے ہیں۔

اور میں ان کی نبوت کی مہر جانتا ہوں جو کہ ان کے مونڈھوں کی نرم جگہ کے نیچے ہے، سیب کے برابر، پھر وہ راہب واپس لوٹ گیا، ان کےلئے کھانا بنایا، جب وہ کھانا لےکر آیا اور آپ ﷺ چرنے والے اونٹوں میں تھے، کہا: ان کو بلاؤ، سو آپ ﷺ تشریف لائے تو آپ پر بادل نے سایہ کیا ہوا تھا، راہب نے کہا: ان کی جانب دیکھو، بادل نے ان پر سایہ کیا ہوا ہے، جب آپ ﷺ قوم کے پاس آئے تو آپ نے ان کو اس حالت میں پایا کہ وہ درخت کے سایہ میں بیٹھ چکے تھے، پھر جب آپ ﷺ بیٹھ گئے، تو درخت کا سایہ آپ پر آگیا، راہب نے کہا: ان کی جانب دیکھو درخت کا سایہ ان پر آگیا،(سند کے راوی) کہتے ہیں: جب تک راہب کھڑا رہا، وہ ان کو قسم دلاتا رہا کہ وہ آپ ﷺ کو روم لےکر نہ جائیں، کیونکہ روام والوں نے اگر ان کو دیکھ لیا، اور ان کی صفات کو پہچان لیا تو وہ ان کو قتل کردیں گے۔

پھر جب راہب ایک جانب متوجہ ہوا تو روم سے نو افراد آئے ہوئے تھے، راہب نے ان کو دیکھ کر کہا: کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے کہا: ہم آئے ہیں کیونکہ نبی اس شہر میں آنے والے ہیں، کوئی راستہ ایسا باقی نہیں جس کی طرف لوگوں کو نہ بھیجا گیا ہو، اور ہمیں اس کی خبر دی گئی ہے، سو ہمیں اس راستہ کی جانب بھیجا گیا ہے، راہب نے ان سے کہا: کیا تم اپنے پیچھے کسی کو چھوڑ کے آئے ہو جو تم سے بہتر ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہمیں صرف اطلاع ملی ہے سو ہمیں آپ کے اس راستہ کی جانب بھیجا گیا ہے، راہب نے کہا: تم کیا سمجھتے ہو کہ اگر اللہ کسی امر کے کرنے کا ارادہ فرمالیں تو کیا لوگوں میں سے کوئی اس کو رد کرنے کی استطاعت رکھتا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، (سند کے راوی) کہتے ہیں: انہوں نے آپ کی بیعت کرلی، اور آپ کے ساتھ ٹھہر گئے، راہب نے ان کے پاس آکر کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں! تم میں سے اس کا ولی کون ہے؟ ابو طالب نے کہا: میں، سو وہ راہب مسلسل ابو طالب کو قسم دیتا رہا حتی کہ ابو طالب نے آپ ﷺ کو واپس لوٹا دیا، اور ابو بکر r نے آپ ﷺ کے ساتھ بلال r کو بھیجا، اور راہب نے آپ ﷺ کو زاد راہ کے لئے کیک اور زیتون دیا۔

[3] كتاب الثقات:1/42،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة ۱۳۹۳هـ .

حافظ ابن حبان l روایت مکمل ہونے کے بعد فرماتے ہیں: ’’فقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة، وكانت سفرته الثانية بعدها مع ميسرة غلام خديجة‘‘.

[4] دلائل النبوة:ص:170،رقم:109،ت:محمد رواس قلعجي وعبد البر عباس،دار النفائس ـ بيروت،الطبعة الثانية 1406هـ .

[5] سنن الترمذي:6/14،رقم:3620،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1996ء .

[6] كتاب المختصر في سيرة سيد البشر صلى الله عليه وسلم:ص:40،ت:محمد الأمين بن محمد محمود أحمد الجكني،دار البخاري ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴16هـ .

[7] البحر الزخار المعروف بمسند البزار:8/97،رقم:3096،ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1424هـ .

[8]كتاب هواتف الجنان:ص:71،رقم:22،ت:إبراهيم صالح،دار البشائر ـ دمشق،الطبعة الأولى1421هـ .

[9] المستدرك على الصحيحين:2/672،رقم:4229،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۲۲هـ .

[10] تاريخ بغداد:۱۱/۵۲۹،رقم:۵۳۲۲،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .

حافظ خطیب بغدادی l تخریج روایت کے بعد لکھتے ہیں: ’’قال الأصم: سمعت العباس يقول: ليس في الدنيا مخلوق يحدث به غير قُرَاد أبي نوح، وسمع هذا أحمد ويحيى بن معين من قُرَاد، قلت: ورواه أحمد بن محمد بن يحيى بن سعيد القطان عن قُرَاد بطوله أيضا‘‘.

[11] دلائل النبوة:1/381،رقم:26،ت:مساعد بن سليمان الراشد الحميد،دار العاصمة ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴12هـ .

[12] دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة:2/24،ت:عبد المعطي قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثالثة۱۴29هـ .

[13] تاريخ دمشق:3/4،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة 1415هـ .

حافظ ابن عساکر l نے اسے متعدد طرق سے تخریج کیا ہے، زیر بحث مضمون کے علاوہ حکایت کے دیگر طرق حافظ ابن عساکر l نے تخریج کئے ہیں (تاريخ دمشق:3/۸ ،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة1415هـ) .

[14] زیر بحث مضمون کے علاوہ حکایت کے مختلف طرق حافظ ابن عساکر l ، حافظ ذہبی l اور حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l نے ذکر کئے ہیں، دیکھئے: (تاريخ دمشق:3/4،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ . تاريخ الإسلام:1/504،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ . جامع الآثار في السير ومولد المختار:3/۳۹۳،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح للبحث العلمي،الطبعة الأولى1431هـ ) .

اسی طرح امام بیہقی l نے بھی زیر بحث مضمون کے علاوہ حکایت کو مفصل سیاق سے تخریج کیا ہے، چنانچہ آپ زیر بحث روایت تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’قال أبو العباس: سمعت العباس يقول: ليس في الدنيا مخلوق يحدث به غير قُرَاد، وسمع هذا أحمد، ويحيى بن معين من قراد، قلت: وإنما أراد به بإسناده هذا موصولا، فأما القصة فهي عند أهل المغازي مشهورة، أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، قال: حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، قال: حدثنا أحمد بن عبد الجبار، قال: حدثنا يونس بن بكير، قال: قال محمد بن إسحاق:  وكان أبو طالب هو الذي [يلي] أمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بعد جده، كان إليه ومعه، ثم إن أبا طالب خرج في ركب إلى الشام تاجرا، فلما تهيأ للرحيل، وأجمع السير، ضب به رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، فأخذ بزمام ناقته، وقال: يا عم! إلى من تكلني؟ لا أب لي، ولا أم لي، فرق له أبو طالب، وقال:

والله! لأخرجن به معي، ولا يفارقني ولا أفارقه أبدا، أو كما قال، قال: فخرج به معه، فلما نزل الركب بصرى من أرض الشام، وبها راهب، يقال له: بَحِيْراء في صومعة له، وكان أعلم أهل النصرانية، ولم يزل في تلك الصومعة قط راهب، يصير علمهم عن كتاب فيه، فيما يزعمون، يتوارثونه كابرا عن كابر، فلما نزلوا ذلك العام ببَحِيْراء، وكانوا كثيرا مما يمرون به قبل ذلك، لا يكلمهم ولا يعرض لهم، حتى إذا كان ذلك العام، نزلوا به قريبا من صومعته، فصنع لهم طعاما كثيرا، وذلك فيما يزعمون عن شيء رآه وهو في صومعته في الركب حين أقبلوا، وغمامة بيضاء تظله من بين القوم، ثم أقبلوا حتى نزلوا بظل شجرة قريبا منه، فنظر إلى الغمامة حتى أظلت الشجرة، وشمرت أغصان الشجرة على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، حتى استظل تحتها، فلما رأى ذلك بَحِيْراء، نزل من صومعته، وقد أمر بذلك الطعام، فصنع، ثم أرسل إليهم فقال: إني قد صنعت لكم طعاما، يا معشر قريش! وأنا أحب أن تحضروا كلكم، صغيركم وكبيركم، وحركم وعبدكم، فقال له رجل منهم: يا بَحِيْراء! إن لك اليوم لشأنا ما كنت تصنع هذا فيما مضى، وقد كنا نمر بك كثيرا، فما شأنك اليوم؟

فقال له بَحِيْراء: صدقت، قد كان ما تقول: ولكنكم ضيف، وقد أحببت أن أكرمكم، وأصنع لكم طعاما، تأكلون منه كلكم، فاجتمعوا إليه، وتخلف رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، [من] بين القوم لحداثة سنه، في رحال القوم تحت الشجرة، فلما نظر بَحِيْراء في القوم، ولم ير الصفة التي يعرف، ويجد عنده، فقال: يا معاشر قريش! لا يتخلف أحد منكم عن طعامي هذا، فقالوا له: يا بَحِيْرَى! ما تخلف عنك أحد ينبغي له أن يأتيك إلا غلام وهو أحدث القوم سنا، تخلف في رحالهم، قال: فلا تفعلوا، ادعوه، فليحضر هذا الطعام معكم، فقال رجل من قريش مع القوم: واللات والعزى! إن هذا للؤم بنا أن يتخلف ابن عبد الله بن عبد المطلب عن الطعام من بيننا، قال: ثم قام إليه فاحتضنه، ثم أقبل به حتى أجلسه مع القوم، فلما رآه بَحِيْراء، جعل يلحظه لحظا شديدا، وينظر إلى أشياء من جسده، قد كان يجدها عنده في صفته، حتى إذا فرغ القوم من الطعام وتفرقوا، قام بَحِيْراء، فقال له: يا غلام! أسألك باللات والعزى، إلا أخبرتني عما أسألك عنه، وإنما قال له بَحِيْراء ذلك، لأنه سمع قومه يحلفون بهما، وزعموا أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال له: لا تسلني باللات والعزى شيئا، فو الله! ما أبغضت بغضهما شيئا قط، فقال له بَحِيْراء: فبالله! إلا ما أخبرتني عما أسألك عنه، فقال: سلني عما بدا لك، فجعل يسأله عن أشياء من حاله في نومه وهيئته وأموره، فجعل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يخبره، فيوافق ذلك ما عند بَحِيْراء من صفته، ثم نظر إلى ظهره، فرأى خاتم النبوة بين كتفيه على موضعه، من صفته التي عنده، قال: فلما فرغ منه، أقبل على عمه أبي طالب، فقال له:

ما هذا الغلام منك؟ فقال: ابني، فقال له بَحِيْراء: ما هو بابنك، وما ينبغي لهذا الغلام أن يكون أبوه حيا، قال: فإنه ابن أخي، قال: فما فعل أبوه؟ قال: مات، وأمه حبلى به، قال: صدقت، قال: ارجع بابن أخيك إلى بلده، واحذر عليه اليهود، فو الله! لئن رأوه، وعرفوا منه ما عرفت، ليبغنه شرا، فإنه كائن لابن أخيك هذا شأن، فأسرع به إلى بلاده، فخرج به عمه أبو طالب سريعا حتى أقدمه مكة، حين فرغ من تجارته بالشام، فزعموا فيما يتحدث الناس أن زبيرا، وثماما، ودريسا، وهم نفر من أهل الكتاب، قد كانوا رأوا من رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في ذلك السفر الذي كان فيه مع عمه أبي طالب أشياء، فأرادوه، فردهم عنه بَحِيْراء، وذكرهم الله، وما يجدون في الكتاب من ذكره وصفته، وأنهم إن أجمعوا بما أرادوا، لم يخلصوا إليه حتى عرفوا ما قال لهم وصدقوه بما قال، فتركوه وانصرفوا، فقال أبو طالب في ذلك شعرا يذكر مسيره برسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، وما أراد منه أولئك النفر، وما قال لهم فيه بَحِيْراء، وذكر ابن إسحاق ثلاث قصائد من شعره في ذلك‘‘.

[15] جامع الأصول في أحاديث الرسول:11/2۵۹، ت:عبد القادر الأرناووط،مكتبة دار البيان ـ بيروت،الطبعة الأولى1392هـ .

’’جامع الاصول‘‘کی عبارت ملاحظہ ہو:

’’(ت ـ علي بن أبي طالب رضي الله عنه، عن أبيه) أنه حدثه قال: خرجنا إلى الشام في أشياخ من قريش، وكان معي محمد صلى الله عليه وسلم، فأشرفنا على راهب في الطريق، فنزلنا وحللنا رواحنا، فخرج إلينا الراهب، وكان قبل ذلك لا يخرج إلينا، فجعل يتخللنا، حتى جاء فأخذ بيد محمد صلى الله عليه وسلم وقال: هذا سيد العالمين، قال: فقال له أشياخ من قريش: وما علمك بما تقول؟ قال: أجد صفته ونعته في الكتاب المنزل، وإنكم حين أشرفتم لم يبق شجر ولا حجر إلا خر له ساجدا، ولا تسجد الجمادات إلا لنبي، وأعرفه بخاتم النبوة، أسفل من غضروف كتفه، مثل التفاحة، ثم رجع فصنع طعاما، فأتانا به، وكان محمد في رعية الإبل، فجاء وعليه غمامة تظله، فلما دنا وجد القوم قد سبقوه إلى شجرة، فجلس في الشمس، فمال فيء الشجرة عليه، وضحوا هم في الشمس، فبينا هو قائم عليهم يناشدهم الله! أن لا يذهبوا به إلى الروم، ويقول: إن رأوه عرفوه بالصفة وآذوه .

فبينا هو يناشدهم الله في ذلك التفت، فإذا تسعة من الروم مقبلين نحو ديره، فاستقبلهم، وقال: ما جاء بكم؟ قالوا: بلغنا عن أحبارنا أن نبيا من العرب خارج نحو بلادنا في هذا الشهر، فلم يبق طريق إلا بعث إليه بأناس، وبعثنا إلى طريقك هذا، قال: فهل خلفكم أحد خير منكم؟ قالوا: إنما اخترنا لطريقك هذه خيرة، قال لهم: أرأيتم أمرا أراد الله تبارك وتعالى أن يقضيه، هل يستطيع أحد من الناس أن يرده؟ قالوا: لا، قال: فبايعوا هذا النبي، فإنه حق، فبايعوه، وأقاموا مع الراهب، ثم رجع إلينا، فقال: أنشدكم أيكم وليه؟ قالوا: هذا يعنوني، فما زال يناشدني حتى رددته مع رجال، فكان فيهم بلال، وزوده الراهب كعكا وزيتا .

هذه الرواية ذكرها رزين هكذا عن علي، عن أبيه، وأخرج الترمذي عن أبي موسى الأشعري، قال: خرج أبو طالب إلى الشام، وخرج معه النبي صلى الله عليه وسلم في أشياخ من قريش، وذكر نحوه هذه الرواية، وليس بين الألفاظ كثير اختلاف‘‘.

[16] سنن الترمذي:6/1۵،رقم:3620،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1996ء .

[17] البحر الزخار المعروف بمسند البزار:8/9۹،رقم:3096،ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1424هـ .

[18] المستدرك على الصحيحين:2/67۳،رقم:4229،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۲۲هـ .

[19] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:۲/615،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت  .

[20] تاريخ الإسلام:1/50۳،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ .

[21] تاريخ الإسلام:1/504،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ .

حافظ ذہبی l نے ’’سفرہ مع عمہ اِن صح‘‘ کے الفاظ سے عنوان قائم کیا، پھر روایت بطریق قُرَاد ابو نوح نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’تفرد به قراد، واسمه عبد الرحمن بن غزوان، ثقة، احتج به البخاري والنسائي، ورواه الناس عن قراد، وحسنه الترمذي، وهو حديث منكر جدا، وأين كان أبو بكر؟ كان ابن عشر سنين، فإنه أصغر من رسول الله صلى الله عليه وسلم بسنتين ونصف، وأين كان بلال في هذا الوقت؟ فإن أبا بكر لم يشتره إلا بعد المبعث، ولم يكن ولد بعد .

وأيضا فإذا كان عليه غمامة تظله، كيف يتصور أن يميل فيء الشجرة؟ لأن ظل الغمامة يعدم فيء الشجرة التي نزل تحتها، ولم نر النبي صلى الله عليه وسلم ذكر أبا طالب قط بقول الراهب، ولا تذاكرته قريش، ولا حكته أولئك الأشياخ، مع توفر هممهم ودواعيهم على حكاية مثل ذلك، فلو وقع لاشتهر بينهم أيما اشتهار، ولبقي عنده صلى الله عليه وسلم حس من النبوة، ولما أنكر مجيء الوحي إليه أولا بغار حراء، وأتى خديجة خائفا على عقله، ولما ذهب إلى شواهق الجبال، ليرمي نفسه صلى الله عليه وسلم، وأيضا فلو أثر هذا الخوف في أبي طالب ورده، كيف كانت تطيب نفسه أن يمكنه من السفر إلى الشام تاجرا لخديجة؟

وفي الحديث ألفاظ منكرة، تشبه ألفاظ الطرقية، مع أن ابن عائذ روى معناه في مغازيه، دون قوله: وبعث معه أبو بكر بلالا إلى آخره، فقال: حدثنا الوليد بن مسلم، قال: أخبرني أبو داود سليمان بن موسى، فذكره بمعناه‘‘.

اس کے بعد حافظ ذہبی l نے زیر بحث مضمون کے علاوہ حکایت کو مختلف طرق سے نقل کیا ہے۔

[22] ميزان الاعتدال:2/581،رقم:4934،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[23] حافظ ذہبی l کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو:

’’عبد الرحمن بن غَزْوان [خ، د، س، ت]  أبو نوح، قُرَاد: حدث عنه أحمد والكبار، وكان يحفظ، وله مناكير، وسئل أحمد بن صالح عن حديث لقُرَاد، عن الليث، عن مالك، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: لي مماليك، أضربهم، فقال: هذا حديث موضوع، وقال أبو أحمد الحاكم: روى عن الليث حديثا منكرا، قلت: أنكر ما له حديثه عن يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبي موسى، في سفر النبي صلى الله عليه وسلم، وهو مراهق مع أبي طالب إلى الشام، وقصة بَحِيْرا،ومما يدل على أنه باطل، قوله: ورده أبو طالب، وبعث معه أبو بكر بلالا، وبلال لم يكن خلق بعد، وأبو بكر كان صبيا، ولقُرَاد رواية عن عوف الأعرابي، وجماعة، ومن حفظه يقول فيه مجاهد بن موسى: ما كتبت عن شيخ كان أحر رأسا من عبد الرحمن بن غَزْوان، إنما كان يهدر. حدثنا شعبة، وحدثنا شعبة، وقد وثقه علي، وابن نمير، وقال يحيى: ليس به بأس، وقال ابن حبان: كان يخطئ، يتخالج في القلب منه لروايته عن الليث، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة قصة المماليك .

قلت: الحديث في معجم أبي سعيد بن الأعرابي، حدثنا عباس الدوري، حدثنا قُرَاد ... فذكره. قال قُرَاد: وحدثنا الليث، عن بعض شيوخه، عن زياد مولى ابن عباس، حدثهم عن ابن عمر أن رجلا جلس بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إن لي مملوكين، يكذبونني، ويعصونني، فأضربهم وأشتمهم؟ قال: بحسب ما عصوك، وكذبوك، وخانوك، وعقابك إياهم، فإن كان دون ذنوبهم، كان فضلا لك، وإن كان فوق ذنوبهم، اقتص لهم منك، فجعل الرجل يبكي، فقال: أما تقرأ ﱡ ﱚ ﱛ  ﱜ ﱠ ، فقال: يا رسول الله! ما أجد خيرا من فراقهم، أشهدك أنهم أحرار، توفي سنة سبع ومائتين ببغداد‘‘. (ميزان الاعتدال:2/ 581،رقم: 4934،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت) .

[24] كتاب المختصر في سيرة سيد البشر صلى الله عليه وسلم:ص:46،ت:محمد الأمين بن محمد محمود أحمد الجكني،دار البخاري ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴16هـ .

[25] الإشارة إلى سيرة المصطفى وتاريخ من بعده من الخلفاء:ص:77،ت:محمدنظام الدين الفتيح،الدار القلم ـ دمشق،الطبعة الأولى1416هـ .

حافظ مغلطای l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وفيه وهمان، الأول: بايعوه على أي شيء؟ الثاني: أبو بكر لم يكن حاضرا، ولا كان في حال من يملك، ولا ملك بلالا إلا بعد ذلك بنحو ثلاثين عاما‘‘.

[26] حياة الحيوان الكبرى:۲/۳۷۳،ت:أحمد حسن بسج،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424 هـ .

[27] عيون الأثر في فنون المغازي والشمائل والسير:1/108،ت:محمد العيد الخطراوي ومحيي الدين مستو،مكتبة دار التراث ـ المدينة المنورة .

[28] جامع الآثار في السير ومولد المختار:3/402،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح للبحث العلمي، الطبعة الأولى1431هـ .

[29] حافظ ابن ناصرالدین  دمشقی l کی عبارت ملاحظہ ہو:

’’وذكر مغلطاي فيما أنبأونا عنه في كتابه الإشارة، أن فيه وهما ثانيا في قوله: فبايعوه، قال: بايعوه على أي شيء؟ وكذلك عده الدمياطي وهما مع الذي قبله، فكأنهما ذهبا إلى أن النبي صلى الله عليه وسلم كان المبايع، وكان حينئذ طفلا، ولم يكن بعث، فكيف يبايع؟ وليس كما ذهبا إليه، والله أعلم، وهذا الحديث عد أبو نعيم وابن منده بَحِيْرا من الصحابة، كأنهما ذهبا، والله أعلم، إلى رؤيته النبي صلى الله عليه وسلم، وقول الراوي في الحديث: فبايعوه، صحيح، أي: بايعوا بحيرا أنهم لا يقتلون النبي صلى الله عليه وسلم ولا يؤذنوه، أو نحو ذلك، فالضمير عائد على بحيرا، لا على النبي صلى الله عليه وسلم، ويعضد هذا قوله: وأقاموا معه، أنهم كانوا على دينه، والله أعلم‘‘. (جامع الآثار في السير ومولد المختار:3/402،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح للبحث العلمي،الطبعة الأولى1431هـ) .

واضح رہے کہ حافظ رزین l کے ذکر کردہ طریق علی بن ابی طالب، عن ابیہ کے مطابق ضمیر کا مرجع صریح طور پر ’’نبی ﷺ‘‘ مذکور ہے، ملاحظہ ہو: ’’... قال: فبايعوا هذا النبي، فإنه حق، فبايعوه، وأقاموا مع الراهب ...‘‘. (جامع الأصول في أحاديث الرسول:11/260، ت:عبد القادر الأرناووط،مكتبة دار البيان ـ بيروت،الطبعة الأولى1392هـ) .

[30] زاد المعاد في هدي خير العباد:1/75،ت:شعيب الأرنؤوط وعبد القادر الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الثالثة۱۴18هـ .

[31] فوائد حديثية وفيه فوائد في الكلام على حديث العمامة وحديث الغزالة والضب وغيره:ص:23،ت: أبو عبيدة مشهور بن حسن آل سلمان وأبو معاذ إياد بن عبد اللطيف القيسي، دار ابن الجوزي ـ الرياض، الطبعة الأولى1416هـ .

[32] اس کے بعد حافظ ابن قیم الجوزیہ l نے مزید دیگر امور پر تبصرہ کیا ہے، آخر میں فرماتے ہیں:

’’وأما حديث قُرَاد عبد الرحمن بن غَزْوان الذي ساقه الترمذي، فقال العباس بن محمد الدوري: وقد رواه عن عبد الرحمن ليس في الدنيا مخلوق يحدث به غير قُرَاد أبي نوح، وسمع هذا الحديث أحمد بن حنبل ويحيى بن معين من قُرَاد، قال: وإنما سمعاه من قُرَاد، لأنه من الغرائب والأفراد التي تفرد بروايتها عن يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبيه، وسمعت الحافظ أبا عبدالله محمد بن عثمان يقول: عبد الرحمن بن غَزْوان أبو نوح قُرَاد حدث عنه أحمد والكبار، وكان يحفظ، وله مناكير، وسئل أحمد بن صالح عن حديث لقُرَاد عن الليث، عن مالك، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: لي مماليك، أضربهم ... الحديث، فقال: هذا حديث موضوع، وقال أبو أحمد الحاكم: روى عن الليث حديثا منكرا .

وقال الحافظ أبو عبد الله: قلت: أنكر ما له حديثه عن يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بكر بن أبي موسى في سفر النبي صلى الله عليه وسلم، وهو مراهق، مع أبي طالب إلى الشام، قصة بَحِيرا، ومما يدل على أنه باطل، قوله: فرده أبو طالب، وبعث معه أبو بكر بلالا، قال: وبلال لم يكن خلق بعد، وأبو بكر كان صبيا، وقال ابن حبان: كان يخطئ يتخالج القلب منه لروايته عن الليث، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة قصة المماليك، وقد روى الحاكم حديث عبد الرحمن بن غَزْوان هذا في المستدرك، وقال: هو على شرط مسلم، وليس كما قال: فإن مسلما إذا احتج بثقة، لم يلزمه أن يصحح جميع ما رواه، ويكون كل ما رواه على شرطه، فإن الثقة قد يغلط ويهم، ويكون الحديث من حديثه معلولا علة مؤثرة فيه مانعة من صحته، فإذا احتج بحديث من حديث غير معلول، لم يكن الحديث المعلول على شرطه، والله أعلم‘‘. (فوائد حديثية وفيه فوائد في الكلام على حديث العمامة وحديث الغزالة والضب وغيره: ص:32،ت:أبو عبيدة مشهور بن حسن آل سلمان وأبو معاذ إياد بن عبد اللطيف القيسي، دار ابن الجوزي ـ السعودية،الطبعة الأولى 1416هـ) .

[33] كتاب التنبيهات المجملة على المواضح المشكلة تحت مجلة الجامعة الإسلامية:ص: 71،رقم:10، ت:مرزوق بن هياس آل مرزوق الزهراني،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة .

[34] البداية والنهاية:3/441،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر،الطبعة الأولى1417هـ .

’’البدایہ والنہایہ‘‘ کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: 

’’هكذا رواه الترمذي عن أبي العباس الفضل بن سهل الأعرج، عن قُرَاد أبي نوح به، والحاكم والبيهقي وابن عساكر من طريق أبي العباس محمد بن يعقوب الأصم، عن عباس بن محمد الدوري به، وهكذا رواه غير واحد من الحفاظ من حديث أبي نوح عبد الرحمن بن غَزْوان الخزاعي مولاهم، ويقال له: الضبي، ويعرف بقُرَاد، سكن بغداد، وهو من الثقات الذين أخرج لهم البخاري، ووثقه جماعة من الأئمة والحفاظ، ولم أر أحدا جرحه، ومع هذا في حديثه هذا غرابة، قال الترمذي: حسن غريب، لا نعرفه إلا من هذا الوجه، وقال عباس الدوري: ليس في الدنيا أحد يحدث به غير قُرَاد أبي نوح، وقد سمعه منه أحمد بن حنبل رحمه الله ويحيى بن معين لغرابته، وانفراده، حكاه البيهقي، وابن عساكر .

قلت: فيه من الغرائب أنه من مرسلات الصحابة، فإن أبا موسى الأشعري إنما قدم في سنة خيبر سنة سبع من الهجرة، ولا يلتفت إلى قول ابن إسحاق في جعله له من المهاجرة إلى أرض الحبشة من مكة، وعلى كل تقدير فهو مرسل، فإن هذه القصة كانت، ولرسول الله صلى الله عليه وسلم من العمر فيما ذكره بعضهم ثنتا عشرة سنة، ولعل أبا موسى تلقاه من النبي صلى الله عليه وسلم، فيكون أبلغ، أو من بعض كبار الصحابة رضي الله عنهم، أو كان هذا مشهورا، مذكورا، أخذه من طريق الاستفاضة، الثاني: أن الغمامة لم تذكر في حديث أصح من هذا، الثالث: أن قوله: وبعث معه أبو بكر بلالا، إن كان عمره عليه الصلاة والسلام، إذ ذاك ثنتي عشرة سنة ...‘‘.

[35] الفصول في سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم:ص:267،ت:محمد العيد الخطراوي ومحيي الدين مستو، مؤسسة علوم القرآن ـ بيروت،الطبعة الثالثة1403هـ .

[36] الإجابة لإيراد ما استدركته عائشة على الصحابة:ص:23،ت:رفعت فوزي عبد المطلب،مكتبة الخانجي ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴۲1 هـ .

حافظ زرکشی l کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو:

’’ تنبيه جليل على وهمين وقعا في حديث الإفك في صحيح البخاري، أحدهما: قول علي رضي الله عنه: ’’وسل الجارية تصدقك، قال: فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بريرة ...‘‘، وبريرة إنما اشترتها عائشة وأعتقتها بعد ذلك، ويدل عليه أنها لما عتقت واختارت نفسها، جعل زوجها يطوف وراءها في سكك المدينة، ودموعه تتحادر على لحيته، فقال لها صلى الله عليه وسلم: لو راجعتيه، فقالت: أتأمرني؟ فقال: إنما أنا شافع، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا عباس! ألا تعجب من حب مغيث لبريرة، وبغضها له، والعباس إنما قدم المدينة بعد الفتح، والمخلص من هذا الإشكال: أن تفسير الجارية ببريرة مدرج في الحديث من بعض الرواة، فيظن أنه من الحديث، وهو نوع غامض لا ينتبه له إلا الحذاق .

ومن نظائره ما وقع في الترمذي وغيره من حديث يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبيه، قال: خرج أبو طالب إلى الشام، وخرج معه النبي صلى الله عليه وسلم في أشياخ من قريش، فذكر الراهب، وقال في آخرها: فرده أبو طالب، وبعث معه أبو بكر بلالا، وزوده الراهب من الكعك والزبيب، فهذا من الأوهام الظاهرة، لأن بلالا إنما اشتراه أبو بكر بعد مبعث النبي صلى الله عليه وسلم...‘‘.

[37]  كشف المناهج والتناقيح في تخريج أحاديث المصابيح:5/222،رقم:4784،ت:محمد إسحاق محمد إبراهيم،الدار العربية للموسوعات ـ بيروت،الطبعة1425هـ .

[38]  الإصابة في تمييز الصحابة:1/476،رقم:796،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .

اس کے بعد حافظ ابن حجر عسقلانی l تحریر فرماتے ہیں:

’’وأخرج ابن مندة من تفسير عبد الغني بن سعيد الثقفي، أحد الضعفاء المتروكين بأسانيده، عن ابن عباس أن أبا بكر الصديق صحب النبي صلى الله عليه وسلم، وهو ابن ثمان عشرة سنة، والنبي صلى الله عليه وسلم ابن عشرين، وهم يريدون الشام في تجارة، حتى إذا نزل منزلا فيه سدرة قعد في ظلها، ومضى أبو بكر إلى راهب يقال له: بَحِيْرا، يسأله عن شيء، فقال له: من الرجل الذي في ظل السدرة؟ فقال: محمد بن عبد الله بن عبد المطلب، فقال: هذا والله! نبي، ما استظل تحتها بعد عيسى بن مريم إلا محمد، ووقع في قلب أبي بكر التصديق، فلما بعث نبي الله صلى الله عليه وسلم اتبعه .

فهذا إن صح يحتمل أن يكون في سفرة أخرى بعد سفرة أبي طالب، وفي شرف المصطفى لأبي سعيد النيسابوري أنه صلى الله عليه وسلم مر ببَحِيرا أيضا لما خرج في تجارة خديجة ومعه ميسرة، وأن بَحِيرا قال له: قد عرفت العلامات فيك كلها إلا خاتم النبوة، فاكشف لي عن ظهرك، وأنه كشف له عن ظهره فرآه، فقال: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أنك رسول الله النبي الأمي الذي بشر به عيسى بن مريم، ثم ذكر القصة مطولة جدا، فالله أعلم، وإنما ذكرته في هذا القسم، لأن تعريف الصحابي لا ينطبق عليه، وهو مسلم لقي النبي صلى الله عليه وسلم مؤمنا به، ومات على ذلك، فقولنا: مسلم يخرج من لقيه مؤمنا به قبل أن يبعث، كهذا الرجل، والله أعلم‘‘.

[39]  إمتاع الأسماع بما للنبي صلى الله عليه وسلم من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع:8/177،ت:محمد عبد الحميد النميسي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1420هـ .

[40] مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:11/۶5،رقم:5918،ت:جمال عيتاني،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۲۲ هـ .

[41] ملا علی قاری l کی مزید عبارت ملاحظہ ہو: ’’وقال في ميزان الاعتدال: قيل: مما يدل على بطلان هذا الحديث قوله: وبعث معه أبو بكر بلالا، [وبلال لم يخلق بعد، وأبو بكر كان صبيا اهـ. . وضعف الذهبي هذا الحديث لقوله: وبعث معه أبو بكر بلالا]، فإن أبا بكر إذ ذاك ما اشترى بلالا، وقال الحافظ ابن حجر في الإصابة: الحديث رجاله ثقات، وليس فيه سوى هذه اللفظة، فيحتمل أنها مدرجة فيه، منقطعة من حديث آخر، وهما من أحد رواته، كذا في المواهب اللدنية‘‘.(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:11/۶5،رقم:5918،ت:جمال عيتاني، دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۲۲ هـ) .

[42]  شرح الشفاء:1/634،ت:عبد الله محمد الخليلي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴21هـ .

[43]إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون المعروف بالسيرة الحلبية:1/14۳،المطبعة الأزهرية ـ مصر،الطبعة الثالثة1351هـ .

[44] واضح رہے کہ حافظ رزین l کے ذکر کردہ طریق علی بن ابی طالب، عن ابیہ کے مطابق ضمیر کا مرجع صریح طور پر ’’نبی ﷺ‘‘ مذکور ہے، ملاحظہ ہو: ’’... قال: فبايعوا هذا النبي، فإنه حق، فبايعوه، وأقاموا مع الراهب ...‘‘. (جامع الأصول في أحاديث الرسول:11/260، ت:عبد القادر الأرناووط،مكتبة دار البيان ـ بيروت،الطبعة الأولى1392هـ) .

[45] لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح:۹/488،ت:تقي الدين الندوي،دار النوادر ـ دمشق،الطبعة الأولى1435هـ .

ملتی جلتی احادیث