روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے آدم e پر دو خوبیوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے: میرا شیطان کافر تھا، پھر اللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا، اور میری بیویاں میری مددگار ہیں، اور آدم e کا شیطان کافر تھا ، اور ان کی زوجہ نے لغزش پر ان کا ساتھ دے دیا‘‘۔
حکم:شدید ضعیف ہے، بیان نہیں کرسکتے۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة:5/488،ت:عبد المعطي قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثالثة1429هـ .
[2] تاريخ بغداد:4/531،رقم:1704،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[3] تالي تلخيص المتشابه:۲/411،رقم:248،ت:أبو عبيدة مشهور بن حسن آل سلمان،وأبو حزيفة أحمد الشقيرات،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى1417هـ .
[4] العلل المتناهية:۱/۱۷۵،ت:إرشاد الحق الأثري،إدارة ترجمان السنة ـ لاهور،الطبعة الأولى 1399هـ .
[5] انظر آكام المرجان في أحكام الجان:ص:29،ت:أحمد عبد السلام،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[6] انظرالغرائب الملتقطة من مسند الفردوس:5/969،رقم:۲۱۲۰،ت:أبوبكر أحمد جالة،جميعة دار البر ـ دبئي،الطبعة الأولى 1439هـ .
[7] دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة:5/488،ت:عبد المعطي قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثالثة1429هـ .
[8] العلل المتناهية:۱/۱۷۵،رقم:280،ت:إرشاد الحق الأثري،إدارة العلوم الأثرية ـ فيصل آباد،باكستان،الطبعة الأولى۱۳۹۹هـ .
[9] ميزان الاعتدال:4/60،رقم:8293 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[10] المغني عن حمل الأسفار:ص:378،رقم:1421،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبة دار طبرية ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[11] جامع الآثار في السير ومولد المختار:3/۵۴۳،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية ـ قطر،الطبعة الأولى1431هـ .
[12] الدر المنثور في التفسير بالمأثور:1/290،ت:عبد اﷲ بن عبد المحسن الترکي،مرکز هـجر ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱4۲۴هـ .
[13] التيسير بشرح الجامع الصغير:2/172،مكتبة الإمام الشافعي ـ الرياض .
[14] فيض القدير:۴/۴۴۰،رقم:۵۸۸۵،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية1391هـ .
[15] الجرح والتعديل:8/113،رقم:500،دائرة المعارف العثمانية ـ الهند،الطعبة الأولى1372هـ .
حافظ ذہبی l نے یہ قول ان الفاظ سے ذکر کیا ہے: ’’قال أبو حاتم: ليس بصدوق‘‘. (ميزان الاعتدال:4/۶۰،رقم: 8293 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت) .
[16] الكامل في ضعفاء الرجال:7/542،رقم:1771،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[17] الثقات:۹/۱۳۶،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الأولى1393هـ .
[18] الكامل في ضعفاء الرجال:7/542،رقم:1771،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[19] الضعفاء والمتروکین:۳/۱۰۵،رقم:۳۲۳۵،ت:أبو الفداء عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت، الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[20] الكامل في ضعفاء الرجال:7/546،رقم:1771،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[21] ذخيرة الحفاظ:۴/۲۱۰۹،رقم:۴۸۸۰،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴16هـ .
[22] سنن الدار قطني:2/432،رقم:1816،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[23] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:۲۵۱،رقم:۷۴۵،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت:۱۴۰۷هـ .
[24] جامع الآثار في السير ومولد المختار:3/۵۴۳،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية ـ قطر،الطبعة الأولى1431هـ .
[25] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:۱/۱۱۵،رقم:۲۹۶،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[26] انظر تاريخ بغداد:7/11،رقم:3092،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[27] الجرح والتعدیل:۲/1۰۷،رقم:۳۰۴،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[28] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:۱۴/۲۴۹،رقم:۷۸۲۶،ت:عادل بن سعد،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1427هـ .
[29] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۴۰۸،رقم:۸۲ ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[30] الضعفاء الكبير:۱/۵۵رقم:۴۶،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[31] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۴۰۸،رقم:۸۲ ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[32] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۴۰۹،رقم:۸۲ ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[33] الضعفاء والمتروكون:ص:۱۱۰،رقم:2۷،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الریاض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
حافظ ابو بکر برقانی l فرماتے ہیں: امام دار قطنی l ان اوراق (یعنی اس کتاب ) میں حروف معجم کی ترتیب پر اُن راویوں کو لے کر آئے ہیں جن کا ’’متروک‘‘ ہونا ہمارے اور امام دار قطنی l کے درمیان قرار پا یا ہے، حافظ ابو بکر برقانی l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’قال أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب الخوارزمي البرقاني: طالت محاورتي مع أبي منصور إبراهيم بن الحسين بن حمكان، لأبي الحسن علي بن عمر الدارقطني عفا الله عني وعنهما، في المتروكين من أصحاب الحديث، فتقرر بيننا وبينه على ترك من أثبته على حروف المعجم في هذه الورقات‘‘. (الضعفاء والمتروکون:ص:95،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ) .
[34] تاريخ بغداد:7/11،رقم:3092،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[35] ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين:ص:16،رقم:194،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة،الطبعة1387هـ .
[36] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۸/۲۲۵،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربيي ـ بيروت .
[37] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:۱/22،رقم:33،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[38] ذیل میں دو تنبیہات ذکر کی جائیں گی:
پہلی تنبیہ:
امام ابو بکر بزار l نے اپنی ’’مسند‘‘میں ایک روایت حضرت ابو ہریرہ r سے تخریج کی ہے، جس میں مذکورہ دو فضیلتوں کا ذکر ہے، لیکن اس میں ایک مذکور ہے، دوسری مذکور نہیں ہے، عبارت ملاحظہ ہو:
’’حدثنا صالح بن معاذ أبو بشر، قال: حدثنا إبراهيم بن صِرْمة، قال: حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فضلت على الأنبياء بخصلتين: كان شيطاني كافرا فأعانني الله عليه حتى أسلم، ونسيت الخصلة الأخرى‘‘. (البحر الذخار المعروف بمسند البزار:۱۴/۲۴۹، رقم:۷۸۲۶،ت:عادل بن سعد،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1427هـ).
حضرت ابو ہریرہ rفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے انبیاء m پر دو خوبیوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے: میرا شیطان کافر تھا، پھر اللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا، (راوی فرماتے ہیں) اور میں دوسری خصلت بھول گیا۔
حافظ ابن عساکر l نے ’’تاریخ دمشق‘‘میں حضرت ابو ہریرہ r سے منقول یہ روایت تعلیقاً نقل کی ہے، اور اس میں دوسری صفت کو بھی نقل کیا ہے، ملاحظہ ہو: ’’وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فضلت على آدم بخصلتين: كان شيطاني كافرا، فأعانني الله عليه، فأسلم، وكن أزواجي عونا لي، وكان شيطان آدم كافرا، وكانت زوجته عونا له على خطيئته‘‘. (تاريخ دمشق:69/108،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي، دار الفكر ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴18هـ) .
حضرت ابو ہریرہ rفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے آدم e پر دو خوبیوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے: میرا شیطان کافر تھا، پھر اللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا، اور آدم e کا شیطان کافر تھا ، اور ان کی زوجہ نےان کی لغزش پر اس کا ساتھ دے دیا۔
روایت پر کلام
امام ابو بکر بزار l اپنی ’’مسند‘‘میں تخریج روایت کے بعد فرماتے ہیں: ’’وهذا الحديث لا نعلم رواه عن يحيى بن سعيد، عن سعيد، عن أبي هريرة إلا إبراهيم بن صِرْمة، وليس هو بالقوي في الحديث‘‘. اور ہمیں نہیں معلوم کہ یہ حدیث یحیی بن سعید، عن سعید، عن ابی ہریرہ r کے طریق سے کسی نے روایت کی ہو، سوائے ابراہیم بن صِرْمہ کے، اور یہ حدیث میں قوی نہیں ہے۔
حافظ ہیثمیl ’’مجمع الزوائد‘‘میں یہ روایت ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’رواه البزار، وفيه إبراهيم بن صِرْمة، وهو ضعيف‘‘. اسے بزار l نے روایت کیا ہے، اور اس میں ابراہیم بن صِرْمہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ۸/۲۲۵،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربيي ـ بيروت) .
اہم نوٹ: ابراہیم بن صِرْمہ کے بارے میں ائمہ رجال کی جرح ما قبل میں تفصیل سے گزر چکی ہے، نیز امام ابو بکر بزار l کے شیخ ابو بشر صالح بن معاذ کا ترجمہ تلاش بسیار کے باوجود کتبِ رجال میں نہیں مل سکا، اور مطلقاً متنِ حدیث کے بارے میں ائمہ کے شدید اقوال آپ کے سامنے آچکے ہیں، اس لئے یہ طریق بھی زیر بحث روایت کو ضعف شدید سے نکالنے سے قاصر ہے، واللہ اعلم۔
دوسری تنبیہ:
حافظ ابن عساکر l نے ’’تاریخ دمشق‘‘میں ہی زیر بحث روایت کے ایک جزء کو عبد الرحمن بن زید سے تعلیقاً ان الفاظ سے نقل کیا ہے: ’’حدث عبد الرحمن بن زيد: أن آدم عليه السلام ذكر محمدا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إن أفضل ما فضل به علي ابني صاحب البعير، لأن زوجته كانت عونا له على دينه، وكانت زوجتي عونا لي على الخطيئة‘‘. (تاريخ دمشق:69/108،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي، دار الفكر ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴18هـ) .
عبد الرحمن بن زید کہتے ہیں: حضرت آدم e نے اللہ کے رسول محمد ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: بلاشبہ مجھ پر سب سے زیادہ فضیلت میرے اونٹ والے بیٹے کو دی گئی ہے، اس لئے کہ ان کی زوجہ نے ان کے دین پر ان کی مدد کی، اور میری زوجہ نے لغزش پر میرے خلاف مدد کی۔
عبد الرحمن بن زید بظاہر ابن اسلم ہیں، جن کے بارے میں ائمہ رجال نے شدید جرح کی ہے، تفصیل کےلئے دیکھئے: کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ:5/252۔
اس لئے یہ طریق بھی زیر بحث روایت کو ضعف شدید سے نکالنے سے قاصر ہے، واللہ اعلم۔
اہم نوٹ: دو تنبیہات میں ذکر کردہ مرویات مکمل متن یا اسناد سے خالی تھیں، اس لئے ان کو ضمناً اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے، واللہ الموفق۔
[39] صحیح مسلم:4/2167،رقم:2814،ت:محمد فؤاد عبد الباقی،عیسي البابی الحلبی،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ أوحى الله إلى الدنيا: يا دنيا! اخدمي من خدمني، وأتعبي يا دنيا! من خدمك‘‘. اللہ تعالیٰ نے دنیا کی طرف وحی فرمائی، اے دنیا! تو اس کی خدمت کر جو میری خدمت کرے، اور اے دنیا! تو اسے تھکا دے جو تیری خدمت کرے‘‘۔
روایت: ’’حضرت ابو بکر صدیق r کی رفاقت حضور اقدس ﷺ کےساتھ شام کے سفر میں ہوئی تھی، جب ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، اور حضور ﷺ کی عمر شریف بیس سال کی تھی، اس سفر میں راستہ میں ایک بیری کے درخت کے پاس ان دونوں حضرات کا قیام ہوا، وہاں ایک راہب تھا، حضرت ابو بکر r اس سے ملنے تشریف لے گئے، اور حضور ﷺ درخت کے سایہ میں تشریف فرما رہے، اس راہب نے حضرت ابو بکر r سے پوچھا کہ یہ شخص جو درخت کے نیچے ہے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب، راہب نے کہا: خدا کی قسم! یہ نبی ہیں، حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے بعد سے اس درخت کے نیچے کوئی نہیں بیٹھا، یہی نبی آخر الزماں ﷺہیں، جب حضور ﷺ کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور آپ کو نبوت ملی تو حضرت ابو بکر r مسلمان ہوئے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من حج حجة الإسلام، وغزا بعدها غزوة كتبت غزاته بأربع مائة حجة، قال: فانكسرت قلوب قوم لا يقدرون على الجهاد، ولا الحج، قال: فأوحى الله عز وجل إلي: ما صلى عليك أحد إلا كتبت صلاته بأربع مائة غزاة، كل غزاة بأربع مائة حجة‘‘. جو شخص حج اسلام کرلے اور اس کے بعد جہاد کرے، تو اس کا جہاد چار سو حج کے ساتھ لکھا جائے گا، علی r فرماتے ہیں: ان لوگوں کے دل ٹوٹ گئے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اور نہ ہی حج کی، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ عزوجل نے مجھ پر وحی نازل فرمائی: جو آپ پر درود پڑھے گا، اس کا درود چار سو جہاد کے ساتھ لکھا جائے گا، ہر جہاد چار سو حج کے ساتھ‘‘۔
روایت:’’جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے عرض کیا: اے محمد! میں آپ کی امت پر عذاب کا اندیشہ رکھتا تھا، پھر جب فاتحہ نازل ہوگئی تو مجھے اطمینان ہوگیا، آپ ﷺ نے پوچھا: اے جبریل! اس کی کیا وجہ ہے؟ جیریل e نے عرض کیا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’اور ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے جس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کےلئے ان لوگوں کے الگ الگ حصے ہیں‘‘، اور فاتحہ کی سات آیتیں ہیں، سو جو شخص ان کو پڑھےگا تو ہر آیت جہنم کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر پردہ بن جائےگی، چنانچہ آپ کی امت ان دروازوں سے سلامتی کے ساتھ گزر جائےگی‘‘۔
روایت:’’یہودیوں کی ایک جماعت کا آپﷺ سے چند سوال کرنا: 1 پانچ نمازوں اور ان کے ثواب سے متعلق 2 رمضان کے تیس روزوں اور ان کے ثواب سے متعلق 3 آپﷺ کی نبیوں پر کیا فضیلت ہے؟ آپﷺ کے جوابات سننے کے بعد یہودی ایمان لے آئے‘‘۔