التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)

روایت: ’’ إنما خلقت الخلق ليربحوا علي، ولم أخلقهم لأربح عليهم‘‘. میں نے مخلوقات کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ مجھ سےنفع حاصل کریں، اور میں نے ان کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ میںان سے نفع حاصل کروں۔

حکم: حافظ عراقی l مذکورہ روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’میں اس کی اصل پر واقف نہیں ہوسکا ہوں‘‘، نیزعلامہ مرتضی زبیدی l، علامہ ابوالقاسم قشیری l اورعلامہ شَہرَسْتَانیl نے اسےاسرائیلی روایت کے طور پر بیان کیا ہے، اس لئے اسےحضور ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں،البتہ اسرائیلی روایت کہہ کر بیان کرسکتے ہیں۔

تفصیل

حوالہ جات

[1] قوت القلوب:۳/۶۰۲،ت:محمودإبراهيم محمد رضواني،دار التراث ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[2] إحياء علوم الدين:۴/۱۵۰،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۲هـ .

[3] مفاتيح الغيب:8/187،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1401هـ .

[4] الرسالةالقشيرية:۲۵۲،ت:عبدالحليم محمود،المكتبة التوفيقيةـ القاهرة،الطبعة۲۰۰۷ء .

[5] نهاية الإقدام:۱/۲۲۴،أحمد فريد المزيدي،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۵هـ .

[6] المغنی عن حمل الأسفار:۱/۱۰۵۶،رقم:۳۸۲۴،ت:أبو محمد أشرف،مکتبة طبرية ـ الریاض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .

[7] تذكرة الموضوعات:ص:۲۲۸،إحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الأولی۱۳۴۳هـ .

’’تذکرۃ الموضوعات ‘‘ کے الفاظ ملاحظہ   ہوں: ’’يأتي كل رجل من أمتي من هذه الأمة بيهودي أو نصراني إلى جهنم، فيقول: هذا فدائي من النار، فيقال للمسلم: إنما خلقت الخلق ليربحوا علي، ولم أخلقهم لأربح عليهم‘‘.

واضح رہے کہ علامہ پٹنی ؒ نے زیر بحث روایت کے ساتھ ابتداء میں جو الفاظ نقل کئے ہیں وہ  ’’مسند احمد‘‘ وغیرہ کتب میں موجود ہیں، نیز الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہ ابتدائی حصہ  ’’صحيح مسلم‘‘میں بھی موجود ہے، ملاحظہ ہو:  ’’حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا أبو أسامة، عن طلحة بن يحيى، عن أبي بردة، عن أبي موسى، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كان يوم القيامة، دفع الله عز وجل إلى كل مسلم يهوديا، أو نصرانيا، فيقول: هذا فكاكك من النار‘‘(الصحيح لمسلم:4/2119،رقم:49،دار الكتب العلمية ـ بيروت،محمد فواد عبد الباقي،الطبعة الأولى1412هـ).

[8] إتحاف:۱۱/۳۵۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الخامسة۱۴۳۳هـ .

ملتی جلتی احادیث