روایت: ’’ إنما خلقت الخلق ليربحوا علي، ولم أخلقهم لأربح عليهم‘‘. میں نے مخلوقات کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ مجھ سےنفع حاصل کریں، اور میں نے ان کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ میںان سے نفع حاصل کروں۔
حکم: حافظ عراقی l مذکورہ روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’میں اس کی اصل پر واقف نہیں ہوسکا ہوں‘‘، نیزعلامہ مرتضی زبیدی l، علامہ ابوالقاسم قشیری l اورعلامہ شَہرَسْتَانیl نے اسےاسرائیلی روایت کے طور پر بیان کیا ہے، اس لئے اسےحضور ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں،البتہ اسرائیلی روایت کہہ کر بیان کرسکتے ہیں۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] قوت القلوب:۳/۶۰۲،ت:محمودإبراهيم محمد رضواني،دار التراث ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[2] إحياء علوم الدين:۴/۱۵۰،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۲هـ .
[3] مفاتيح الغيب:8/187،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1401هـ .
[4] الرسالةالقشيرية:۲۵۲،ت:عبدالحليم محمود،المكتبة التوفيقيةـ القاهرة،الطبعة۲۰۰۷ء .
[5] نهاية الإقدام:۱/۲۲۴،أحمد فريد المزيدي،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۵هـ .
[6] المغنی عن حمل الأسفار:۱/۱۰۵۶،رقم:۳۸۲۴،ت:أبو محمد أشرف،مکتبة طبرية ـ الریاض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[7] تذكرة الموضوعات:ص:۲۲۸،إحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الأولی۱۳۴۳هـ .
’’تذکرۃ الموضوعات ‘‘ کے الفاظ ملاحظہ ہوں: ’’يأتي كل رجل من أمتي من هذه الأمة بيهودي أو نصراني إلى جهنم، فيقول: هذا فدائي من النار، فيقال للمسلم: إنما خلقت الخلق ليربحوا علي، ولم أخلقهم لأربح عليهم‘‘.
واضح رہے کہ علامہ پٹنی ؒ نے زیر بحث روایت کے ساتھ ابتداء میں جو الفاظ نقل کئے ہیں وہ ’’مسند احمد‘‘ وغیرہ کتب میں موجود ہیں، نیز الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہ ابتدائی حصہ ’’صحيح مسلم‘‘میں بھی موجود ہے، ملاحظہ ہو: ’’حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا أبو أسامة، عن طلحة بن يحيى، عن أبي بردة، عن أبي موسى، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كان يوم القيامة، دفع الله عز وجل إلى كل مسلم يهوديا، أو نصرانيا، فيقول: هذا فكاكك من النار‘‘(الصحيح لمسلم:4/2119،رقم:49،دار الكتب العلمية ـ بيروت،محمد فواد عبد الباقي،الطبعة الأولى1412هـ).
[8] إتحاف:۱۱/۳۵۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الخامسة۱۴۳۳هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’من صلى الفجر في جماعة، وخرج من المسجد فمر بعشرين نفسا فسلم عليهم، ثم مات في ذلك اليوم غفر له‘‘.جو شخص نمازِ فجر جماعت کے ساتھ پڑھ لے، اور مسجد سے باہر جائے اوربیس افراد پر گزرتے ہوئے اُنھیں سلام کرے، پھر اگر یہ شخصاسی دن مرگیا تو اس کی بخشش ہوجائے گی۔
روایت: جس میں عاشورہ (دس محرم) کو مختلف انبیاء E حضرت آدم e،حضرت حواء علیہا السلام، حضرت ابراہیم e، حضرت اسماعیل e،حضرت موسیٰ e ، حضرت ایوب e، حضرت داؤد e،حضرت سلیمان e، حضرت عیسیٰ e اور نبی ﷺ کو پیشآنے والے بڑے بڑے واقعات کا ذکر ہے، نیز عاشورہ کے دنمختلف اعمال جیسے:غسل، سرمہ، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، مریضکی عیادت کرنا، افطار پر بڑے بڑے اجر و ثواب کا ذکر ہے۔
حکایت: ابومعلق تاجرصحابیr کا ڈاکو سے حفاظت کی نماز میں ایک خاص دعا کرنا، اور فرشتہ کا اس ڈاکو کو نیزہ سے قتل کرنا۔
روایت: ’’من صبر على سوء خلق امرأته، أعطاه الله من الأجرمثل ما أعطى أيوب على بلائه ومن صبرت على سوءخلق زوجها أعطاها الله مثل ثواب آسية امرأة فرعون‘‘.جو شخص اپنی عورت کی بداخلاقی پر صبر کرے گا تو اللہ تعالی اس کو وہ اجردیں گے جو حضرت ایوب e کو ان کی بیماری پر صبر کرنے پر دیا گیا تھا،اور جو عورت اپنے شوہر کی بداخلاقی پر صبر کرے تو اللہ تعالی اس کوفرعون کی بیوی آسیہ علیہا السلام کے ثواب کے مثل عطاء کریں گے۔
روایت: یعفور نامی دراز گوش ( گدھے) کا آپ ﷺ سے ہم کلام ہونا،اور آپﷺ کا یعفور کو بطور قاصد صحابہp کے گھروں کی طرف بھیجنا، حضورﷺ کی وفات کے بعد یعفور کا اپنے آپ کوحضورﷺکےغم میں کنویں میں گراکر جان دے دینا۔