روایت: یعفور نامی دراز گوش ( گدھے) کا آپ ﷺ سے ہم کلام ہونا،اور آپﷺ کا یعفور کو بطور قاصد صحابہp کے گھروں کی طرف بھیجنا، حضورﷺ کی وفات کے بعد یعفور کا اپنے آپ کوحضورﷺکےغم میں کنویں میں گراکر جان دے دینا۔
حکم:یہ تمام مضامین من گھڑت ہیں، البتہ آپﷺ کا یعفور نامی دراز گوش ( گدھا) تھا، جس پر آپﷺ سواری فرماتے تھے۔
تفصیل
روایت بطریق ابو جعفرمحمد بن مَزْیَد پر ائمہ کا کلام
اہم نوٹ: حافظ ذہبیl کا یہ کلام تلاش بسیار کے باوجود نہیں مل سکا۔
روایت بطریق عبد اللہ بن عُطارد اُذَیْنہ طائی پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
حافظ ابن عدیl نے عبد اللہ بن اُذَیْنَہ کو ’’منکر الحدیث‘‘[60] کہا ہے۔
نیز حافظ ابن عدیl عبد اللہ بن اُذَیْنَہ کی روایات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’ولابن أذَيْنة من الحديث غير ما ذكرت مما لا يتابع عليه، ولم أر للمتقدمين فيه كلاما فأذكره‘‘[61]. اور ابن اُذَیْنَہ کی جن روایات کو میں نے ذکر کیا اس کے علاوہ بھی اس کی ایسی احادیث ہیں جن میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی، اور میں نے اس کے بارے میں متقدمین کا کلام نہیں دیکھا جس کو میں ذکر کروں۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl اور امام نقاشl فرماتے ہیں: ’’روى أحاديث موضوعة‘‘[62] .اس نے من گھڑت احادیث روایت کی ہیں۔
امام دار قطنیl نے عبد اللہ بن اذینہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[63]۔
علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[64] میں عبد اللہ بن اُذَيْنَہ کو وضاعین و متہمین کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
روایت بطریق عبد اللہ بن عُطارد اُذَیْنَہ کا حکم
حافظ ابن کثیرl نے زیر بحث روایت کو عبد اللہ بن اُذَیْنَہ کے طریق سے غریب جدا ً کہاہے، حافظ ابن کثیرl ہی ایک موقع پر فرماتےہیں: اس حدیث میں شدید نکارت ہے۔
نیز سند میں موجود راوی عبد اللہ بن اُذَیْنَہ کے بارے میں ائمہ محدثین نے شدید جرح کے الفاظ استعمال کئے ہیں(مثلا:منکر الحدیث جدا ہے، اس سے کسی صورت احتجاج جائز نہیں ہے(حافظ ابن حبانl)، ثور بن يزيد سے منکر روایات نقل کرتا ہے(حافظ ابن قیسرانیl)، منکر الحدیث(حافظ ابن عدیl)، اس نے من گھڑت احادیث روایت کی ہیں(امام حاکمl، امام نقاشl)، متروک الحدیث(امام دارقطنیl)، لہذا زیر بحث روایت کو اس طریق سے بھی رسول اللہﷺکے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے۔
تحقیق کا خلاصہ اور روایت کا حکم
حافظ ابو حاتمl اور ابن ابی حاتمl نے زیر بحث روایت کا انکار کیاہے۔
حافظ ابن حبانl فرماتے ہیں:اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اور اس کی سند لیس بشیء ہے۔
حافظ ابن جوزیl نے اسے صاف من گھڑت کہاہے۔
حافظ ابن ابی حاتمl نے زیر بحث روایت کو خبر باطل کہاہے۔
حافظ ابن ملقنl، حافظ ابن ناصر الدین دمشقیl، حافظ ابن حجر عسقلانیl، حافظ سیوطیl،علامہ تقی الدین مَقْرِیْزِیl، ملاعلی قاریl اورعلامہ خَفَاجیl نے حافظ ابن ابی حاتمl، حافظ ابن حبانl اور حافظ ابن جوزیl کے کلام پراکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابو موسی مدینیl نے اسے سندومتن کے لحاظ سے منکر جداً کہاہے۔
حافظ ابن اثیرl، حافظ ابن حجر عسقلانیl اور علامہ دَمِیْرِیl نے حافظ ابو موسی مدینیl کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ذہبیl فرماتے ہیں:اس کو بطور فرجہ (تماشہ) کے لکھا ہے، نہ کہ بطور استدلال کے۔
حافظ مزیl نے حدیث یعفور کو ضحکہ (جس سے بکثرت ہنسا جاتا ہو) کہا ہے۔
حافظ ابن کثیرlنے زیر بحث حدیث یعفور کومنکر مردود، باطل، بے اصل، من گھڑت کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl نے اسے ’’واہی خبر‘‘ کہا ہے، لہذا اسے
رسول اللهﷺکے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں۔
اہم فائدہ:
زیر بحث من گھڑت روایت کی تفصیل تو گزر چکی ہے، تاہم قطع نظر زیر بحث روایت کے حضور ﷺ کی سواریوں میں یعفور نامی دراز گوش کا ذکر معتبر روایات میں ملتا ہے، جیساکہ حافظ ابن سعد ’’الطبقات الکبرى‘‘[65] میں تخریج فرماتے ہیں:
’’أخبرنا محمد بن عمر الأسلمي، أخبرنا أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرَة، عن زامل بن عمرو، قال: أهدى فروة بن عمرو إلى النبي صلى الله عليه وسلم بغلة يقال لها: فضة، فوهبها لأبي بكر، وحماره يعفور، فنفق منصرفه من حجة الوداع‘‘.
زامل بن عمرو فرماتے ہیں: فروہ بن عمروr نے آپﷺ کو ایک خچر ہدیہ کیا، جسے فضہ کہا جاتا تھا، آپﷺ نے وہ خچر ابو بکرr کو ہبہ کردیا، نیز اس نے اپنا دراز گوش یعفوربھی آپﷺ کوہبہ کیاتھا، اس یعفور کا حجۃ الوداع سے واپسی پر انتقال ہوا ہے۔
نیز حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’فتح الباري‘‘[66] میں فرماتے ہیں: قوله: كنت ردف النبي صلى الله عليه وسلم على حمار يقال له: عُفَيْر بالمهملة، والفاء مصغر، مأخوذ من العَفْر، وهو لون التراب كأنه سمي بذلك للونه، والعُفْرَة حمرة يخالطها بياض، وهو تصغير أعفر، أخرجوه عن بناء أصله كما قالوا سويد في تصغير أسود، ووهم من ضبطه بالغين المعجمة،, وهو غير الحمار الآخر الذي يقال له: يعفور، وزعم ابن عبدوس أنهما واحد، وقواه صاحب الهدي، ورده الدمياطي، فقال: عفير أهداه المقوقس، ويعفور أهداه فروة بن عمرو، وقيل: بالعكس، ويعفور بسكون المهملة وضم الفاء، هو اسم ولد الظبي، كأنه سمي بذلك لسرعته.
قال الواقدي: نفق يعفور منصرف النبي صلى الله عليه وسلم من حجة الوداع، وبه جزم النووي عن ابن الصلاح، وقيل: طرح نفسه في بئر يوم مات رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقع ذلك في حديث طويل ذكره ابن حبان في ترجمة محمد بن مرثد [كذا في الأصل، والصواب: محمد بن مزيد] في الضعفاء، وفيه أن النبي صلى الله عليه وسلم غنمه من خيبر، وأنه كلم النبي صلى الله عليه وسلم، وذكر له أنه كان ليهودي، وأنه خرج من جده ستون حمارا لركوب الأنبياء، فقال: ولم يبق منهم غيري، وأنت خاتم الأنبياء، فسماه يعفورا، وكان يركبه في حاجته، ويرسله إلى الرجل، فيقرع بابه برأسه فيعرف أنه أرسل إليه، فلما مات النبي صلى الله عليه وسلم جاء إلى بئر أبي الهيثم بن التَيِّهان، فتردى فيها فصارت قبره, قال ابن حبان: لا أصل له، وليس سنده بشيء‘‘.
معاذ بن جبلr کا قول:(میں آپ ﷺ کے پیچھے درازگوش پر سوار تھا، جسے عفیر کہا جاتا ہے)۔ عُفَیر مہملہ کے ساتھ ہے، اور فاء مصغر ہے، یہ عَفْر سے ماخوذ ہے، اور عَفْر مٹی کا رنگ ہے، گویا کہ اس (درازگوش) کا نام اس کے رنگ کی وجہ سے پڑا، اور عُفْرَہ ایسی سرخی کو کہتے ہیں جس میں سفیدی ملی ہو، اور (عُفَیر) اعفر کی تصغیر ہے، اس کو اس کی اصل بناء سے خارج کیا گیا ہے، جیسے سُوَید کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی تصغیر اسود سے ہے، اور اس شخص کو وہم ہوا ہے جس نے اسے (یعنی عفیر کو) غین معجمہ کے ساتھ ضبط کیا ہے، اور یہ (عُفَیر) اس دوسرے درازگوش کے علاوہ ہے جسے یعفور کہا جاتا ہے، اور ابن عبدوس کا خیال یہ ہے کہ وہ دونوں ایک ہی ہیں، اور اس قول کو صاحب ہدی نے قوی کہاہے، اور دِمْیَاطِیl نے اسے رد فرمایا ہے، (دِمْیَاطِیl)فرماتے ہیں: عفیر مقوقس نے ہدیہ کیا تھا،اور یعفور فروہ بن عمروr نے ہدیہ کیا تھا، اور اس کے برعکس بھی کہا گیا ہے، اور یعفور سکون مہملہ اور فاء کے ضمہ کے ساتھ ہے، اور یہ ہرن کے بچہ کا نام ہے، گویا کہ یعفور کو اس کی تیز رفتاری کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے۔
واقدی فرماتےہیں:حجۃ الوداع سے واپسی پر اس کا انتقال ہوگیا تھا،اور اسی پر نوویl نے ابن صلاحl سے جزم نقل کیا ہے،اور کہا گیا ہے کہ اس نے اپنے آپ کوحضور ﷺ کی وفات کے دن ایک کنویں میں پھینک دیا تھا، اور یہ بات ایک طویل حدیث میں واقع ہے، جسے ابن حبانl نے ’’ضعفاء ‘‘ میں محمد بن مَزْیَد کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے۔
اوراس میں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے خیبر میں غنیمت میں حاصل کیا تھا، اور وہ آپ ﷺ سے ہم کلام ہوا تھا، اوراس نے آپ ﷺ سے اس بات کا ذکربھی کیا کہ وہ ایک یہودی شخص کی ملکیت تھا، اور اس کے دادا (کی نسل)سے ساٹھ درازگوش انبیاء E کی سواری کے لئے پیدا ہوئے ہیں،پھر کہا کہ میرے علاوہ کوئی باقی نہیں رہا،اور آپ آخری نبی ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے اس کانام یعفور رکھ دیا،اور آپﷺ ضرورت کے وقت اس پر سواری کرتے تھے، اور کسی شخص کی طرف اس کو روانہ کرتے تھے، تو وہ اپنے سر سے دروازے کو مارتا تھا جس سے وہ شخص سمجھ جاتا تھا کہ اسے آپ ﷺنے میری جانب بھیجا ہے، جب آپ ﷺ کا انتقال ہوا تو وہ ابو الہیثم بن تَیّہانr کے کنویں کے پاس آیا اور اس میں گر گیا،اور یہی کنواں اس کی قبر بن گیا، ابن حبانl فرماتے ہیں:اس (حدیث) کی کوئی اصل نہیں ہے، اور اس کی سند ’’لیس بشیء‘‘ ہے۔
[1] تاريخ مدينة دمشق:4/232،رقم:1008،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة1415هـ .
[2] المجروحين:2/308،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[3] البداية والنهاية:9/41،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1418هـ .
[4] المجروحين:2/308،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[5] چنانچہ علامہ ابن ناصر الدین دمشقی l’’جامع الآثار‘‘میں تحریر فرماتے ہیں: ’’وهذا الحديث الذي ذكره القاضي عياض مختصرا، رواه أبو طاهر المُخَلِّص فقال: حدثني أبو الحسن الأسدي ابن عم بشر بن موسى، حدثنا أبو جعفر محمد بن مَزْيَد، حدثنا عبد الله بن محمد بن عبيد ابن أبي الصهباء، حدثنا أبو حذيفة موسى بن مسعود، عن عبد الله بن حبيب الهذلي، عن أبي عبد الله السُلَمِي، عن أبي منظور، قال: لما فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر... ‘‘(جامع الآثار في السير ومولد المختار:8/71،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،وزارة الأوقاف ـ قطر،الطبعة الأولى1431هـ).
[6] ميزان الاعتدال:4/67،رقم:8323 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[7] لسان الميزان:7/591،رقم:7397،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[8] المجروحين:2/308،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[9] البداية والنهاية:9/41،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1418هـ .
[10] تاريخ مدينة دمشق:4/232،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة1415هـ .
[11] البداية والنهاية:9/41،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1418هـ .
[12] المجروحين:2/308،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ.
’’المجروحین‘‘ کی سند ملاحظہ ہو: ’’محمد بن مَزْيَد أبو جعفر مولى بني هاشم من أهل بغداد، يروي عن أبي حذيفة موسى بن مسعود، عن عبد الله بن حبيب الهُذَلي، عن أبي عبد الرحمن السُلَمِي، عن أبي منظور وكانت له صحبة، قال: لما فتح... ‘‘.
[13] تاريخ مدينة دمشق:4/232،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة1415هـ .
[14] البداية والنهاية:9/41،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1418هـ.
’’البدایہ والنہایہ‘‘ کی سند ملاحظہ ہو: ’’فقال أبو محمد عبد الله بن حامد: أخبرنا أبو الحسين أحمد بن حمدان السِجْزِي، حدثنا عمر بن محمد بن بُجَيْر، حدثنا أبو جعفر محمد بن مَزْيَد إملاء، أنا أبو عبد الله محمد بن عقبة بن أبي الصهباء، حدثنا أبو حذيفة، عن عبد الله بن حبيب الهُذَلي، عن أبي عبد الرحمن السُلَمي، عن أبي منظور، قال: لما فتح الله... ‘‘.
[15] تاريخ مدينة دمشق:4/232،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة1415هـ .
[16] البداية والنهاية:9/41،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1418هـ .
[17] ميزان الاعتدال:4/34،رقم:8162 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[18] المجروحين:2/308،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[19] تذكرة الحفاظ:ص:262،رقم:648،ت:حمدي عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[20] کتاب الموضوعات:ص: 209،رقم:556،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1429هـ .
[21] ميزان الاعتدال:4/34،رقم:8162 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[22] تلخيص الموضوعات:ص: 88 ،رقم:201، ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1419هـ .
[23] لسان الميزان:7/591،رقم:7397،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[24] اللآلئ المصنوعة:1/253،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[25] مناهل الصفا:ص:133،رقم:624،ت:سمير القاضي،دار الجنان ـ بيروت،الطبعة الأولى1408هـ .
[26] تنزيه الشريعة المرفوعة:1/326،رقم:11،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .
[27] شرح الشفا:1/643،ت:عبد الله محمد الخليلي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .
[28] نسيم الرياض:4/61،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .
[29] أسد الغابة:6/298،رقم:6291،ت:علي محمد معوض وعادل أحمد عبد الموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1424هـ .
[30] أسد الغابة:6/298،رقم:6291،ت:علي محمد معوض وعادل أحمد عبد الموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1424هـ .
[31] الإصابة:7/321،رقم:10584،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1415هـ .
[32] حياة الحيوان الكبرى:1/356،ت:أحمد حسن بسج،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[33] إمتاع الأسماع:7/226،ت:محمد عبد الحميد النميسي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1420هـ .
[34] البداية والنهاية:8/383،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1418هـ .
[35] الفصول في سيرة الرسول:ص:259،ت:محمد العيد الخطراوي ومحيي الدين مستو،مؤسسة علوم القرآن ـ بيروت، الطبعة الثالثة1403هـ .
[36] التوضيح لشرح الجامع الصحيح:17/508،ت:دار الفلاح،وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية ـ قطر،الطبعة الأولى1429هـ .
[37] جامع الآثار۸/۷۲،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية ـ قطر،الطبعة الأولى1431هـ .
[38] الإصابة:7/321،رقم:10584،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعةالأولى1415هـ .
[39] أشرف الوسائل:ص:251،ت:أبو الفوارس أحمد بن فريد،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1419هـ .
[40] السيرة الحلبية(إنسان العيون):3/68،مطبعة محمد علي صبيح ميدان الأزهر ـ مصر،الطبعة1353هـ .
[41] كتاب المجروحين:2/309،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[42] تذكرة الحفاظ:ص:262،رقم:648،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،ط:دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى 1415هـ .
[43] الضعفاء والمتروكين:3/99،رقم: 3193،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[44] ميزان الاعتدال:4/67،رقم:8323 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[45] المغني في الضعفاء:2/264،رقم: 5974،ت:نورالدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .
[46] ديوان الضعفاء والمتروكين:ص:374،رقم:3973،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة،الطبعة1387هـ .
[47] لسان الميزان:7/591،رقم:7397،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[48] تنزيه الشريعة:1/113،رقم:263،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .
[49] دلائل النبوة:2/386،رقم:288،ت:محمد رواس قلعه جي وعبد البر عباس،دار النفائس ـ بيروت،الطبعة الثانية1406هـ .
[50] البداية والنهاية:8/383،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1418هـ .
[51] البداية والنهاية:9/389،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1418هـ .
[52] المجروحين:2/19،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[53] المجروحين:2/19،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[54] الضعفاء والمتروكين:2/115،رقم: 1983،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[55] ميزان الاعتدال:2/391،رقم:4204،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[56] ديوان الضعفاء والمتروكين:ص:211،رقم:2117،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة،الطبعة1387هـ .
[57] المغني في ضعفاء الرجال:1/472،رقم:3101،ت:نورالدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .
[58] لسان الميزان:4/432،رقم:4153،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[59] تذكرة الحفاظ:ص:104،رقم:234،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى 1415هـ .
[60] الكامل في الضعفاء:5/358،رقم:1021،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[61] الكامل في الضعفاء:5/359،رقم:1021،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[62] لسان الميزان:4/432،رقم:4153،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[63] لسان الميزان:4/432،رقم:4153،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[64] تنزيه الشريعة:۱/۷۲،رقم:۳۶،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .
[65] الطبقات الكبرى:1/491،دار صادر ـ بيروت .
[66] فتح الباری:6/59،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،المكتبة السلفية .
ملتی جلتی احادیث
روایت: آپ ﷺ کا زمزم کے کنویں میں لعاب دہن ڈال کر فرمانا کہ امت اس سے برکت حاصل کرے۔
روایت: جس میں عاشورہ (دس محرم) کو مختلف انبیاء E حضرت آدم e،حضرت حواء علیہا السلام، حضرت ابراہیم e، حضرت اسماعیل e،حضرت موسیٰ e ، حضرت ایوب e، حضرت داؤد e،حضرت سلیمان e، حضرت عیسیٰ e اور نبی ﷺ کو پیشآنے والے بڑے بڑے واقعات کا ذکر ہے، نیز عاشورہ کے دنمختلف اعمال جیسے:غسل، سرمہ، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، مریضکی عیادت کرنا، افطار پر بڑے بڑے اجر و ثواب کا ذکر ہے۔
روایت: ایک مرتبہ آل محمدﷺ پر چار دن بھوک کی حالت میں گزرے، آپ ﷺ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خوب گڑ گڑائے، اللہ تعالی نےحضرت عثمان r کے ذریعے وافر مقدار میں کھانا اور دیگر اشیاء بھجوائیں،پھر آپ ﷺ نے حضرت عثمان r کےلئے دعا کی: یا اللہ میں عثمانسے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔
روایت: ’’من صلى الفجر في جماعة، وخرج من المسجد فمر بعشرين نفسا فسلم عليهم، ثم مات في ذلك اليوم غفر له‘‘.جو شخص نمازِ فجر جماعت کے ساتھ پڑھ لے، اور مسجد سے باہر جائے اوربیس افراد پر گزرتے ہوئے اُنھیں سلام کرے، پھر اگر یہ شخصاسی دن مرگیا تو اس کی بخشش ہوجائے گی۔
روایت: موت کے وقت نماز کا اہتمام کرنے والے سے فرشتہ کا قریب ہونا،شیطان کا دور ہونا اور اسے ملک الموت کا کلمہ کی تلقین کرنا۔