روایت: ’’من صبر على سوء خلق امرأته، أعطاه الله من الأجرمثل ما أعطى أيوب على بلائه ومن صبرت على سوءخلق زوجها أعطاها الله مثل ثواب آسية امرأة فرعون‘‘.جو شخص اپنی عورت کی بداخلاقی پر صبر کرے گا تو اللہ تعالی اس کو وہ اجردیں گے جو حضرت ایوب e کو ان کی بیماری پر صبر کرنے پر دیا گیا تھا،اور جو عورت اپنے شوہر کی بداخلاقی پر صبر کرے تو اللہ تعالی اس کوفرعون کی بیوی آسیہ علیہا السلام کے ثواب کے مثل عطاء کریں گے۔
حکم: حافظ عراقی l فرماتے ہیں کہ ’’میں اس کی اصل پر واقف نہیں ہوسکا ہوں‘‘، حافظ عراقی l کے اس قول پر علامہ ابن رسلان l، علامہ پٹنی l،علامہ شوکانی lاور علامہ مرتضی زبیدی l نے اعتماد کیا ہے،نیز علامہ سبکی l نے اس روایت کو ان احادیث کی فہرست میں شامل کیا ہے جن کی سند انھیں نہیں مل سکی ہے،اس لئے اسے رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] إحياء علوم الدين:2/42،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۲هـ .
[2] المغني عن حمل الأسفار:۱/۳۹۰، رقم:۱۴۶۹،دار الطبرية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[3] شرح سنن أبي داود:2/103،ت:ياسر كمال وأحمد سليمان،دار الفلاح ـ الفيوم،الطبعة الأولى ۱۴37هـ .
[4] تذكرة الموضوعات:ص:۱۲۸،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الأولی۱۳۴۳هـ .
[5] الفوائدالجموعة:ص:۱۳۵،رقم:۵۱،ت:عبدالرحمن بن يحيی المعلي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۳۰هـ .
[6] إتحاف: ۶/۱۳۸،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الخامسة ۱۴۳۳هـ .
[7] طبقات الشافعية الكبرى:۶/۳۱۰،ت:محمود محمد الطناحي وعبد الفتاح محمد الحلو،هجر للطباعة والنشر، الطبعة الثانية۱۴۱۳هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: جس میں عاشورہ (دس محرم) کو مختلف انبیاء E حضرت آدم e،حضرت حواء علیہا السلام، حضرت ابراہیم e، حضرت اسماعیل e،حضرت موسیٰ e ، حضرت ایوب e، حضرت داؤد e،حضرت سلیمان e، حضرت عیسیٰ e اور نبی ﷺ کو پیشآنے والے بڑے بڑے واقعات کا ذکر ہے، نیز عاشورہ کے دنمختلف اعمال جیسے:غسل، سرمہ، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، مریضکی عیادت کرنا، افطار پر بڑے بڑے اجر و ثواب کا ذکر ہے۔
روایت: ’’ إنما خلقت الخلق ليربحوا علي، ولم أخلقهم لأربح عليهم‘‘. میں نے مخلوقات کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ مجھ سےنفع حاصل کریں، اور میں نے ان کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ میںان سے نفع حاصل کروں۔
روایت: ’’من صلى الفجر في جماعة، وخرج من المسجد فمر بعشرين نفسا فسلم عليهم، ثم مات في ذلك اليوم غفر له‘‘.جو شخص نمازِ فجر جماعت کے ساتھ پڑھ لے، اور مسجد سے باہر جائے اوربیس افراد پر گزرتے ہوئے اُنھیں سلام کرے، پھر اگر یہ شخصاسی دن مرگیا تو اس کی بخشش ہوجائے گی۔
روایت: ایک مرتبہ آل محمدﷺ پر چار دن بھوک کی حالت میں گزرے، آپ ﷺ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خوب گڑ گڑائے، اللہ تعالی نےحضرت عثمان r کے ذریعے وافر مقدار میں کھانا اور دیگر اشیاء بھجوائیں،پھر آپ ﷺ نے حضرت عثمان r کےلئے دعا کی: یا اللہ میں عثمانسے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔
حکایت: ابومعلق تاجرصحابیr کا ڈاکو سے حفاظت کی نماز میں ایک خاص دعا کرنا، اور فرشتہ کا اس ڈاکو کو نیزہ سے قتل کرنا۔