روایت: ’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’إنما المعلم [أب لكم]، مثل الوالد لولده‘‘. معلم تمہارا باپ ہی ہے، جیسے: والد اپنے بیٹے کےلئے‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’خير الآباء من علمك‘‘. تمہارا بہترین والد وہ ہے جس نے تمہیں علم سکھایا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’الآباء ثلاثة: أب ولدك، وأب علمك، وأب رباك‘‘.باپ تین ہیں: (ایک) وہ باپ ہے جس سے تمہاری ولادت ہوئی، (دوسرا) باپ وہ ہے جس نے تمہیں علم سکھایا، (تیسرا) باپ وہ ہے جس نے تمہاری تربیت کی ہے‘‘، اور بعض مقامات پر یہ بھی ہے: ’’وأب زوجك‘‘. اور وہ باپ جس نے اپنی بیٹی تمہیں نکاح میں دی‘‘۔
روایت: روزِ محشر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو حکم ہوگا: تم اپنی امتوں کو پیش کرو، نبی ﷺ امت کے نیک لوگوں کو حاضر کریں گے، لیکن ارشاد ہوگا کہ بے نمازی، تارکِ زکوۃ، ماں باپ کے نافرمان، پڑوسی پر ظلم کرنے والے، اور جھوٹ بولنے والوں کو لاؤ تاکہ اللہ تعالی کی مغفرت وکرم کا اظہار ہوسکے۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! اللہ جل شانہ سخاوت کو پسند کرتا ہے چاہے وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، اور اللہ تعالی بہادری کو پسند کرتا ہے چاہے وہ سانپ اور بچھو ہی کے مارنے میں کیوں نہ ہو‘‘، بعض مقامات پر یہی قول حضرت عمران بن حصین r کو مخاطب بنا کر فرمایا گیا ہے۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من صلى صلاة لم يدع فيها للمؤمنين والمؤمنات فصلاته خداج‘‘. جس نے نماز پڑھی اور اس میں مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کےلئے دعا نہ کی تو اس کی نماز نامکمل ہے‘‘۔