روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’إن أشد الناس عذابا يوم القيامة من جهل أهله‘‘.قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب اس شخص کو ہوگا جس نے اپنے گھر والوں کو علم سے بے خبر رکھا۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل وعيون الأقاويل في وجوه التأويل:6/161،ت:عاد ل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،مكتبة العبيكان ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .
[2] السراج المنير في الإعانة على معرفة بعض معاني كلام ربنا الحكيم الخبير:4/331،مطبعة بولاق ـ مصر .
[3] روح البيان:10/58،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
[4] روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني:14/351،ت:علي عبد الباري عطية،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[5] مجمع الزوائد:۵/ ۳۷۳،رقم:۹۰۴۷،ت:عبد الله محمد درويش،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[6] مجمع الزوائد:۵/۳۷۵،رقم:۹۰۵۳،ت:عبد الله محمد درويش،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’نبی ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں یہ آیت پڑھی جائے شیطان اس گھر سے تین دن یا تیس دن دور رہتا ہے، اور اس گھر میں چالیس راتوں تک کوئی جادو گرنی اور جادو گر داخل نہیں ہوسکتا، اے علی! تم اپنے اہل وعیال اور اپنے پڑوسیوں کو آیۃ الکرسی سکھاؤ، اس سے بڑی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’من مس كف امرأة ليس منها بسبيل، وضع في كفه جمرة يوم القيامة، حتى يفصل بين الخلائق‘‘. جس نے کسی ایسی عورت کے ہاتھ کو چھوا جسے چھونے کی کوئی سبیل نہ ہو، تو روزِ قیامت اس کی ہتھیلی پر انگارہ رکھا جائےگا، یہاں تک کہ مخلوق کے مابین فیصلہ ہوجائے‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’رحم الله رجلا قال: يا أهلاه! صلاتكم، صيامكم، زكاتكم، مسكينكم، يتيمكم، جيرانكم، لعل الله يجمعهم معه في الجنة‘‘. اللہ اس شخص پر رحم فرمائےجو کہے: اے گھر والو! اپنی نماز، اپنی زکوۃ، اپنے مسکین، اپنے یتیم، اپنے پڑوسی کی دیکھ بھال کرو، شاید اللہ تعالی اس کے ساتھ ان کو جنت میں اکٹھا کردے‘‘۔
روایت:’’نبی eنے ارشاد فرمایا: میں نے ایک عورت کو دیکھا جسے لایا گیا اور اسے میزان کے ایک پلڑے پر ڈالا گیا، اور دوسرے پلڑے پر احد پہاڑ کو رکھا گیا، تو وہ عورت احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری نکلی، لوگوں نے کہا: ہم نے تو کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ ایک عورت احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہو، ان کو بتایا گیا اس عورت کے بارہ بچے فوت ہوگئے، یہ آہیں لئے جاتی تھی اور آنسوں کو روک لیتی تھی اس کے صبر کی وجہ سے اللہ تعالی نے اسے احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری کردیا‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’إن الله عز وجل إذا نظر إلى عبد منهم في الصلاة غفر لمن وراءه من الناس‘‘. اللہ عز وجل جب نماز میں کسی بندہ پر نظر فرما لیں تو اس کی اور اس کے پیچھے والے لوگوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں‘‘۔