التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)

41 احادیث ملیں

روایت: ’’حضرت موسی e کا ایک واقعہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا: موسی e کے دل میں خیال گزرا کہ اللہ تعالی کبھی سوتا ہے؟ تو اللہ تعالی نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیجا، جس نے موسی e کو تین دن تک سونے نہ دیا، پھر موسی e کے ایک ایک ہاتھ میں بوتل دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو، یہ ٹوٹیں نہیں، حضرت موسی e انہیں لے کر حفاظت کرنے لگے، لیکن نیند غالب آگئی اور بوتلیں ہاتھ سے گر کر چورا چورا ہوگئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر اللہ تعالی نے مثال بیان کی: اگر اللہ تعالی سو جائیں تو زمین وآسمان نہیں رک سکتے‘‘۔

روایت: ’’حضور ﷺ کا ارشاد ہے: جو عورت اس لئے بنے سنورے کہ اسے کوئی غیر محرم محبت کی نظر سے دیکھے، اللہ رب العزت فیصلہ کرلیتے ہیں کہ میں قیامت کے دن اس کی طرف محبت کی نظر سے نہیں دیکھوں گا، اور جو مرد اس لئے بنے سنورے کہ اسے کوئی غیر محرم عورت محبت کی نظر سے دیکھے، اسے بھی اللہ تعالی قیامت کے دن محبت کی نظر سے نہیں دیکھےگا‘‘۔

روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من أكل طعاما وذو عين ينظر إليه، فلم يطعمه، أصابه داء يقال له النَفْس‘‘. جو شخص کھانا کھا رہا ہو اور کوئی ذو چشم جاندار اسے دیکھ رہا ہو، پھر وہ اسے کھانا نہ کھلائے ، تو وہ شخص ایسی مرض میں مبتلا ہوگا جسے ’’نَفْس‘‘ کہا جاتا ہے‘‘۔

روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’يا أبا ذر! جدد السفينة، فإن البحر عميق، وخفف الحمل، فإن السفر بعيد، واحمل الزاد، فإن العقبة طويلة، وأخلص العمل، فإن الناقد بصير‘‘. اے ابو ذر! کشتی بنا سنوار لو، کیونکہ سمند بہت گہرا ہے، اوربوجھ ہلکا رکھو، کیونکہ سفر بہت دور ہے، اور توشہ لو، کیونکہ گھاٹی لمبی ہے، اور عمل کو خالص رکھو، کیونکہ پرکھنے والا خوب نظر رکھنے والا ہے‘‘۔

روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ابو بکر r کو والد، عمر r کو مشیر، عثمان r کو سند وحجت اورتجھے مددگار بناؤں، تم چار ہو، اللہ نے لوح محفوظ میں عہد لیا ہے کہ تم سے صرف متقی مؤمن ہی محبت کر سکے گا، تم سے بغض رکھنے والا بد بخت منافق ہو گا، تم چاروں خلف رشید ہو، اور میری ذمہ داریوں کی مضبوطی ہو، اور میری امت پر حجت ہو‘‘۔

روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پر پہنچ کر سورۂ تبارک الذی پڑھے پھر چار مرتبہ کہے: ’’اللهم رب الحل والحرم والبلد الحرام، والركن، والمقام، والمشعر الحرام، بلغ روح محمد مني تحية وسلاما‘‘. اے حل، حرم، شہر حرام، رکن یمانی، مقام ابراہیم اور مشعر حرام کے پروردگار! میری طرف سے محمد ﷺ کی روح کو درود وسلام بھیج دیجئے، تو اللہ تعالی اس کے لئے دو فرشتے مقرر فرماتے ہیں، وہ دونوں محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، چنانچہ وہ دونوں آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں، اے محمد! فلاں بن فلاں نے آپ کو سلام پیش کیا ہے، تو آپ ﷺ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: میری طرف سے فلاں بن فلاں پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں‘‘۔

روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ اعتكاف عشر في رمضان كحجتين وعمرتين‘‘. رمضان میں دس دن کا اعتکاف کرنا دو حج اور دو عمروں کی طرح ہے‘‘۔

روایت: ’’شیطان مسلمان سے اس وقت تک ڈرتا رہتا ہے جب تک وہ نماز کا پابند اور اس کو اچھی طرح ادا کرتا رہتا ہے، کیونکہ خوف کی وجہ سے اس کو زیادہ جرأت نہیں ہوتی، لیکن جب وہ نماز کو ضائع کر دیتا ہے تو اس کی جرأت بڑھ جاتی ہے، اور اس آدمی کے گمراہ کرنے کی اُمنگ پیدا ہوجاتی ہے، اور پھر بہت سے مہلکات اور بڑے بڑے گناہوں میں اس کو مبتلاء کر دیتا ہے‘‘۔

روایت: ’’غار ثور میں حضرت ابو بکرr کو شدید پیاس لگی، آپﷺ سے عرض کیا، غار کے دہانے پر جاکر پینے کا حکم ہوا، حضرت ابو بکرr نے پانی پیا تو وہ شہد سے زیادہ میٹھا، دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبو والا تھاجو کہ اللہ تعالی کے حکم سے ایک فرشتے نے جنت الفردوس کی نہر سے جاری کیا تھا‘‘۔

روایت: ’’نبی e فرماتے ہیں: مجھے جبرائیل e نے قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے اتنا ڈرایا کہ میں رونے لگ گیا، میں نے کہا: اے میرے دوست جبرائیل! کیا اللہ رب العزت نے میرے اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف نہیں کردیا؟ یہ بات سن کر جبرائیل e نے جواب دیا: اے محمد ﷺ! قیامت کے دن آپ ہیبت کے ایسے احوال دیکھیں گے کہ آپ قیامت کی مغفرت کو بھول جائیں گے، نبی e یہ بات سن کر اتنا روئے کہ آپ ﷺ کے آنسوں آپ کی مبارک ریش پر بہنے لگے‘‘۔