روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’إن الله عز وجل إذا نظر إلى عبد منهم في الصلاة غفر لمن وراءه من الناس‘‘. اللہ عز وجل جب نماز میں کسی بندہ پر نظر فرما لیں تو اس کی اور اس کے پیچھے والے لوگوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں‘‘۔
حکم: علامہ سبکیl نے اس روایت کو ان احادیث کی فہرست میں شامل کیا ہے جن کی سند انہیں نہیں مل سکی ہے، نیز حافظ عراقی l فرماتے ہیں: ’’مجھے یہ حدیث نہیں مل سکی‘‘، حافظ عراقی l کے اس قول پر علامہ ابن رسلان l اور علامہ مرتضی زبیدی l نے اعتماد کیا ہے، اس لئے اسے رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] قوت القلوب:۱/۲۰۷،ت:محمودإبراهيم محمد رضواني،دار التراث ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[2] إحياء علوم الدين:ص:1/۱۸۳،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة 1402هـ .
[3] طبقات الشافعية الكبرى:۶/296،ت:محمود محمد الطناحي وعبد الفتاح محمد الحلو،هجر،الطبعة الثانية۱۴۱۳هـ .
[4] المغني عن حمل الأسفار:1/136،رقم:535،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبة دار طبرية ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .
[5] شرح سنن أبي داود:4/163،ت:ياسر كمال،دار الفلاح ـ الفيوم،الطبعة الأولى۱۴37هـ .
[6] إتحاف السادة المتقين:3/266،مؤسسة التاريخ العربي ـ بيروت،الطبعة1414هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’إن لله ملكا على بيت المقدس ينادي كل ليلة: من أكل حراما لم يقبل منه صرف ولا عدل‘‘. بیت المقدس پر اللہ تعالی کا ایسا فرشتہ ہے جو ہر رات اعلان کرتا ہے: جس نے حرام کھایا اس کی نہ نفل قبول ہے اور نہ فرض‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: ’’إن لكل شيء سقالة، وإن سقالة القلوب ذكر الله‘‘. ہر چیز کی ایک چمک ہوتی ہے، اور دلوں کی چمک اللہ تعالی کا ذکر ہے‘‘۔
روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’إن أشد الناس عذابا يوم القيامة من جهل أهله‘‘.قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب اس شخص کو ہوگا جس نے اپنے گھر والوں کو علم سے بے خبر رکھا۔
روایت: ’’حضرت موسی e کا ایک واقعہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا: موسی e کے دل میں خیال گزرا کہ اللہ تعالی کبھی سوتا ہے؟ تو اللہ تعالی نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیجا، جس نے موسی e کو تین دن تک سونے نہ دیا، پھر موسی e کے ایک ایک ہاتھ میں بوتل دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو، یہ ٹوٹیں نہیں، حضرت موسی e انہیں لے کر حفاظت کرنے لگے، لیکن نیند غالب آگئی اور بوتلیں ہاتھ سے گر کر چورا چورا ہوگئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر اللہ تعالی نے مثال بیان کی: اگر اللہ تعالی سو جائیں تو زمین وآسمان نہیں رک سکتے‘‘۔
روایت: ’’حضور ﷺ کا ارشاد ہے: جو عورت اس لئے بنے سنورے کہ اسے کوئی غیر محرم محبت کی نظر سے دیکھے، اللہ رب العزت فیصلہ کرلیتے ہیں کہ میں قیامت کے دن اس کی طرف محبت کی نظر سے نہیں دیکھوں گا، اور جو مرد اس لئے بنے سنورے کہ اسے کوئی غیر محرم عورت محبت کی نظر سے دیکھے، اسے بھی اللہ تعالی قیامت کے دن محبت کی نظر سے نہیں دیکھےگا‘‘۔