روایت:’’نبی eنے ارشاد فرمایا: میں نے ایک عورت کو دیکھا جسے لایا گیا اور اسے میزان کے ایک پلڑے پر ڈالا گیا، اور دوسرے پلڑے پر احد پہاڑ کو رکھا گیا، تو وہ عورت احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری نکلی، لوگوں نے کہا: ہم نے تو کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ ایک عورت احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہو، ان کو بتایا گیا اس عورت کے بارہ بچے فوت ہوگئے، یہ آہیں لئے جاتی تھی اور آنسوں کو روک لیتی تھی اس کے صبر کی وجہ سے اللہ تعالی نے اسے احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری کردیا‘‘۔
تفصیل
زیر بحث روایت سنداً آپ ﷺ کے قول کے طور پر نہیں مل سکی، تاہم یہی روایت بکر بن عبد اللہ کے قول کے طور پر ملتی ہے، ملاحظہ ہو:
حافظ سیوطیl ’’فضل الجلد‘‘[1] میں فرماتے ہیں:
’’وأخرج حميد بن زنجويه، عن بكر بن عبد الله، قال: رئي لامرأة أنها أتي بها إلى كفة الميزان، فوضعت فيه، ووضع في الكفة الأخرى جبل أحد، فرجحت به، فقال الناس: ما رأينا مثل هذا قط، فقيل: إنه توفي لها اثنا عشر من الولد، فكانت تكظم الزفرة، وترد العبرة‘‘.
بکر بن عبد اللہ lفرماتے ہیں: ایک عورت کو خواب میں دکھایا گیا کہ اسے میزان کے پلڑے کی طرف لایا گیا، اور اس میں رکھ دیا گیا، اور دوسرے پلڑے پر احد پہاڑ کو رکھا گیا، تو وہ عورت احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری نکلی، لوگوں نے کہا: ہم نے تو کبھی ایسا نہیں دیکھا، تو کہا گیا کہ اس عورت کے بارہ بچے فوت ہوگئے، یہ آہیں لئے جاتی تھی اور آنسوں کو روک لیتی تھی۔
حوالہ جات
[1] فضل الجلد عند فقد الولد:ص:11،مخطوط .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’غار ثور میں حضرت ابو بکرr کو شدید پیاس لگی، آپﷺ سے عرض کیا، غار کے دہانے پر جاکر پینے کا حکم ہوا، حضرت ابو بکرr نے پانی پیا تو وہ شہد سے زیادہ میٹھا، دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبو والا تھاجو کہ اللہ تعالی کے حکم سے ایک فرشتے نے جنت الفردوس کی نہر سے جاری کیا تھا‘‘۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: حضرت داؤدe اللہ تعالی کے سامنے چالیس دن روتے رہے اور چالیس دن گزرنے کے بعد کہا: اے اللہ! میرے اس رونے دھونے پر آپ رحم نہیں فرماتے؟ اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی اور فرمایا: اے داؤد! تجھے اپنا رونا یاد ہے اور اپنی غلطی تجھے یاد نہیں؟‘‘۔
روایت : ثعلبہ بن حاطب کا آپ ﷺ سے کہنا کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے مالدار بنا دیں، پھر آپ ﷺ کا ثعلبہ کےلئے مالدار ہونے کی دعا فرمانا، اور مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ثعلبہ کا مدینہ سے دور چلے جانا، حتی کہ نمازوں میں بھی حاضر نہ ہونا، اور پھر زکوۃ دینے سے اعراض کرنا، اس کے بعد نادم ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں زکوۃ لانا، آپ ﷺ کا اسے قبول نہ کرنا، پھر حضرت ابو بکر r ، حضرت عمر r اور حضرت عثمان r کا بھی زکوۃ قبول نہ کرنا، اور حضرت عثمان r کے زمانہ میں ثعلبہ کا انتقال ہونا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ابو بکر r کو والد، عمر r کو مشیر، عثمان r کو سند وحجت اورتجھے مددگار بناؤں، تم چار ہو، اللہ نے لوح محفوظ میں عہد لیا ہے کہ تم سے صرف متقی مؤمن ہی محبت کر سکے گا، تم سے بغض رکھنے والا بد بخت منافق ہو گا، تم چاروں خلف رشید ہو، اور میری ذمہ داریوں کی مضبوطی ہو، اور میری امت پر حجت ہو‘‘۔