التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)

روایت:’’نبی eنے ارشاد فرمایا: میں نے ایک عورت کو دیکھا جسے لایا گیا اور اسے میزان کے ایک پلڑے پر ڈالا گیا، اور دوسرے پلڑے پر احد پہاڑ کو رکھا گیا، تو وہ عورت احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری نکلی، لوگوں نے کہا: ہم نے تو کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ ایک عورت احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہو، ان کو بتایا گیا اس عورت کے بارہ بچے فوت ہوگئے، یہ آہیں لئے جاتی تھی اور آنسوں کو روک لیتی تھی اس کے صبر کی وجہ سے اللہ تعالی نے اسے احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری کردیا‘‘۔

تفصیل

زیر بحث روایت سنداً آپ ﷺ کے قول کے طور پر نہیں مل سکی، تاہم یہی روایت بکر بن عبد اللہ کے قول کے طور پر ملتی ہے، ملاحظہ ہو:

حافظ سیوطیl ’’فضل الجلد‘‘[1] میں فرماتے ہیں:

’’وأخرج حميد بن زنجويه، عن بكر بن عبد الله، قال: رئي لامرأة أنها أتي بها إلى كفة الميزان، فوضعت فيه، ووضع في الكفة الأخرى جبل أحد، فرجحت به، فقال الناس: ما رأينا مثل هذا قط، فقيل: إنه توفي لها اثنا عشر من الولد، فكانت تكظم الزفرة، وترد العبرة‘‘.

بکر بن عبد اللہ lفرماتے ہیں: ایک عورت کو خواب میں دکھایا گیا کہ اسے میزان کے پلڑے کی طرف لایا گیا، اور اس میں رکھ دیا گیا، اور دوسرے پلڑے پر احد پہاڑ کو رکھا گیا، تو وہ عورت احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری نکلی، لوگوں نے کہا: ہم نے تو کبھی ایسا نہیں دیکھا، تو کہا گیا کہ اس عورت کے بارہ بچے فوت ہوگئے، یہ آہیں لئے جاتی تھی اور آنسوں کو روک لیتی تھی۔

حوالہ جات

[1] فضل الجلد عند فقد الولد:ص:11،مخطوط .

ملتی جلتی احادیث