روایت:’’نبی ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں یہ آیت پڑھی جائے شیطان اس گھر سے تین دن یا تیس دن دور رہتا ہے، اور اس گھر میں چالیس راتوں تک کوئی جادو گرنی اور جادو گر داخل نہیں ہوسکتا، اے علی! تم اپنے اہل وعیال اور اپنے پڑوسیوں کو آیۃ الکرسی سکھاؤ، اس سے بڑی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی‘‘۔
حکم: حافظ ابن حجر عسقلانی l فرماتے ہیں: ’’مجھے یہ روایت نہیں مل سکی‘‘، نیز یہ روایت تلاش بسیار کے باوجود مذکورہ الفاظ وسیاق کے ساتھ سند اً نہیں ملتی، اس لئے سند ملنے تک اسے بیان کرنا موقوف رکھا جائے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] الكشف والبيان:۲/۲۲۸،رقم:۱۸۷،ت:أبو محمد بن عاشور،دار إحياء التراث العربي ـ بیرت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[2] الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل وعيون الأقاويل في وجوه التأويل:۱/۴۸۴،ت:عاد ل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،مكتبة العبيكان ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .
[3] الأجوبة المرضية:2/665،رقم:175،ت:محمد إسحاق محمد إبراهيم،دار الراية ـ الرياض،الطبعة الأولى 1418هـ .
[4] مفاتيح الغيب:۷/۲،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1401هـ .
[5] تفسير النسفي (مدارك التنزيل وحقائق التأويل):۱/۲۱۱،ت:يوسف علي بديوي،دار الكلم الطيب ـ بيروت، الطبعة الأولى1419هـ .
[6] البحر المحيط في التفسير:۲/۶۰۷،ت:زهير جعيد،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1431هـ .
[7] اللباب في علوم الكتاب:4/326،رقم:98،ت:عاد ل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[8] روح البيان:1/406،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
[9] تفسير غرائب القرآن ورغائب الفرقان:2/12،ت:زكريا عميرات،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1416هـ .
[10] الكافي الشاف في تخريج أحاديث الكشاف:ص:40،رقم:145،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[11] صحیح مسلم:۱/556،رقم:258،ت:محمد فؤاد عبد الباقی،عیسي البابی الحلبی ـ مصر،الطبعة الأولى 1412هـ .
[12] صحيح الإمام البخاري:4/123،ت:محمد زهير بن ناصر الناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1422هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’إن أشد الناس عذابا يوم القيامة من جهل أهله‘‘.قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب اس شخص کو ہوگا جس نے اپنے گھر والوں کو علم سے بے خبر رکھا۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’رحم الله رجلا قال: يا أهلاه! صلاتكم، صيامكم، زكاتكم، مسكينكم، يتيمكم، جيرانكم، لعل الله يجمعهم معه في الجنة‘‘. اللہ اس شخص پر رحم فرمائےجو کہے: اے گھر والو! اپنی نماز، اپنی زکوۃ، اپنے مسکین، اپنے یتیم، اپنے پڑوسی کی دیکھ بھال کرو، شاید اللہ تعالی اس کے ساتھ ان کو جنت میں اکٹھا کردے‘‘۔
روایت: ’’حضرت موسی e کا ایک واقعہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا: موسی e کے دل میں خیال گزرا کہ اللہ تعالی کبھی سوتا ہے؟ تو اللہ تعالی نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیجا، جس نے موسی e کو تین دن تک سونے نہ دیا، پھر موسی e کے ایک ایک ہاتھ میں بوتل دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو، یہ ٹوٹیں نہیں، حضرت موسی e انہیں لے کر حفاظت کرنے لگے، لیکن نیند غالب آگئی اور بوتلیں ہاتھ سے گر کر چورا چورا ہوگئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر اللہ تعالی نے مثال بیان کی: اگر اللہ تعالی سو جائیں تو زمین وآسمان نہیں رک سکتے‘‘۔
روایت: حدیث قدسی: اللہ تعالی کا اپنے نبی شعیا e کے واسطہ سے آسمان وزمین کو مخاطب کرکے نبیﷺ کی شان بیان کرنا۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: حضرت داؤدe اللہ تعالی کے سامنے چالیس دن روتے رہے اور چالیس دن گزرنے کے بعد کہا: اے اللہ! میرے اس رونے دھونے پر آپ رحم نہیں فرماتے؟ اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی اور فرمایا: اے داؤد! تجھے اپنا رونا یاد ہے اور اپنی غلطی تجھے یاد نہیں؟‘‘۔