روایت: ’’ ہجرت کے وقت نبی علیہ السلام اپنے گھر سے باہر تشریف لائے، اور صدیق اکبر r کے دروازے پر پہنچے، ہلکی سی آواز میں سلام کیا، صدیق اکبر r فوراً باہر تشریف لائے جیسے پہلے ہی سے جاگ رہے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ سو رہے ہیں، کیا آپ جاگ رہے تھے؟ جواب میں صدیق اکبر r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کچھ دنوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ آپ کو ہجرت کا حکم ملے گا، اور یہ بھی دل مانتا تھا کہ جب آپ ہجرت کےلئے روانہ ہوں گے تو اس غلام کو اپنی غلامی میں اپنے ساتھ لے کر جائیں گے، پھر دل میں یہ خیال آیا کہ اگر یہ حکم رات کو ملا، اور آپ تشریف لائے تو آپ کو جگانے کی تکلیف اٹھانی پڑے گی، چنانچہ جس دن سے خیال آیا، اسی دن سے میں نے رات کو سونا چھوڑ دیا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ آپ کو میرے دروازے پر آکر کھڑا ہونا پڑے‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک صحابیr کا بیوی کی خدمت سے خوش ہوکر ان سے کہنا کہ جو تم مانگو گی میں ضرور دوں گا، اس پر بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا، الحاصل پریشان ہوکر صحابی r بیوی کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے مشورہ کرنے گئے، راستے میں صحابی r کو ٹھوکر لگی، تو بیوی نے یہ کہہ کر طلاق کا مطالبہ چھوڑ دیا: اب تک تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچی تھی، اس لئے میں تمہیں منافق سمجھ رہی تھی، اور اب میں مطمئن ہوگئی ہوں۔
روایت: ’’حضرت علی r جب بھی حضرت ابو بکر صدیق r سے ملتے تو سلام میں پہل کرتے، ایک دفعہ حضرت علی r نے سلام میں تاخیر کی، تو حضرت ابو بکر صدیق r نے سلام میں پہل کی، پھر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ علی r نے آج مجھ سے سلام میں تاخیر کی ہے، رسول اللہ ﷺ کے پوچھنے پر حضرت علی r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے گزشتہ رات خواب میں جنت میں ایک ایسا بڑا محل دیکھا کہ اس جیسا محل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ اس شخص کےلئے ہے جو اپنے بھائی سے سلام میں پہل کرے، تو میں نے چاہا کہ یہ محل ابو بکر r کا ہوجائے، تو میں نے سلام میں تاخیر کی، تا کہ ابو بکر r مجھ سے سلا م میں سبقت لے کر اس محل کے حق دار بن جائیں‘‘۔
حضرت عمر بن الخطاب r کا خواب میں دیکھنا کہ نبی کریم ﷺپر بارش ہورہی ہے، آپ ﷺ کے جہاں قدم مبارک ہیں وہاں حضرت ابوبکر r کا سر ہے، بارش کا جو پانی نبی اکرم ﷺپر آرہا ہےوہ سارا کا سارا ابوبکر صدیقr پر آرہا ہے، نیز حضرت عمر rکا اپنے آپ کو بھی قریب کھڑے دیکھنا، اور ابوبکر rسے چھینٹوں کا اڑکر حضرت عمر r پر پڑنا۔
حکایت: آپﷺ کو عرب کے قافلے کی فریاد پہنچنے کا قصہ جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے عاجز ہوگیا، اور موت کے قریب تھا، اونٹ اور لوگ پیاس سے زبانیں باہر نکالے ہوئے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ کے معجزے سے قافلے والوں کےلئے ایک حبشی غلام کی مشک سے سارے قافلے کا سیراب ہونا، اور پھر غلام کی مشک کا بھر جانا، نیز آپ ﷺ کے معجزے سے اس حبشی غلام کا سفید ہوجانا۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص بازار سے کوئی عمدہ چیز اپنے بچوں کےلئے لائے تو پہلے بچیوں کو دے‘‘۔