التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)

روایت: ’’إذاسلِم رمضان سلِمت السنة، وإذا سلِمت الجمعة سلِمت الأيام ‘‘.

اگر رمضان شریف ٹھیک رہا،تو پورا سال ٹھیک رہےگا، اور اگر جمعہ ٹھیک رہا تو پورا ہفتہ ٹھیک رہے گا۔

حکم: شدید ضعیف، بیان نہیں کر سکتے،بعض نے اسے صراحتاً من گھڑت کہاہے۔

تفصیل

روایت بطریق ابو خالدقُرشی

روایت پر ائمہ کا کلام

روایت ابومُطیع حکم بن عبد اللہ بلخی(المتوفی ۱۹۹ھ) پرائمہ کاکلام

حوالہ جات

[1]  حلية الأولياء: ۷ /۱۴۰، دار الكتب العلمية- بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۹ هـ .

[2] شعب الإیمان:۵ /۲۸۵، رقم:۳۴۳۴، ت: عبد العلی عبدالحمید حامد، مکتبة الرشد- ریاض، الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .

[3]  الکامل في ضعفاء الرجال:۵ /۲۸۸، ت: یحيی مختار غزاوي، دارالفکر- بیروت، الطبعة الثالثة: ۱۴۰۹ هـ .

[4]  الموضوعات: ۲ /۱۹۴،ت:عبد الرحمن محمد عثمان، ۲/۱۹۲،مکتبة السلفية- المدینة المنورة، الطبعة الأولى: ۱۳۸۶ هـ .

[5]  كشف الخَفَا:۱ /۱۰۹، رقم: ۲۴۵، ت: يوسف بن محمود الحاج أحمد، مكتبة العلم الحديث ـ دمشق،ط: ۱۴۲۱هـ .

[6]  الفوائد المجموعة: ۱ /۱۴۶، ت: رضوان جامع رضوان، مصطفی نزار- مكة المکرمة.

[7]  امام احمد l  کا  کلام آگے ’’روایت بطریق ابو مطیع بلخی ‘‘کے عنوان کے تحت مذکور ہے۔

[8]  فيض القدير: حرف الألف، ۱/ ۳۷۷، الرقم: ۶۸۵، دارالمعرفة - بيروت، الطبعة الثانية: ۱۳۹۱هـ .

[9]  میزان الاعتدال: ۲ /۶۲۲، رقم:۵۰۸۲، ت: علی محمد البجاوی، دارالمعرفة - بیروت.

[10]  شعب الإیمان:۵ /۲۸۵، رقم: ۳۴۳۴، ت: عبد العلی عبدالحمید حامد،مکتبة الرشد- ریاض، الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .

[11]  تاريخ الإسلام: ۱۳/۱۶۰،رقم: ۷۶، ت: عمر عبدالسلام تدمري، دار الكتاب الغربي - بيروت، الطبعة الأولى:۱۴۱۱ هـ .

[12]  تنزيه الشريعة:۱ /۵۴، رقم:۴۵، ت:عبدالله الغماري، دار الكتب العلمية ـ  بيروت ،ط: ۱۴۰۱ هـ .

[13] لسان الميزان:۳/ ۲۴۶، رقم:۲۶۹۱، ت: عبدالفتاح أبو غدة، دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .

حافظ ذہبی l نے لکھا ہے کہ موصوف فقہ میں بڑی شان رکھتے تھے،نیزحافظ عبد اللہ بن مبارک l،ابو مطیع بلخی کی دین وعلم کی وجہ سے تعظیم کرتے تھے،لیکن نقل روایت میں واہی تھے،عبارت ملاحظہ ہو: ’’تفقه به أهل تلك الديار، وكان بصيرا بالرأي علامة كبير الشأن، ولكنه واه في ضبط الأثر، وكان بن المبارك يعظمه ويجله لدينه وعلمه...‘‘.

[14] اہم فائدہ:سابقہ دونوں طریق (یعنی سند ابو خالد قرشی اور سند ابو مطیع بلخی)میں ’’إذا سلم رمضان سلمت السنة‘‘ کے الفاظ کے ساتھ ساتھ ’’إذا سلمت الجمعة سلمت الايام‘‘ کے الفاظ گزرے ہیں،یہ الفاظ (إذا سلمت الجمعة سلمت الأيام)ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے،ذیل میں ضمناً اس سندوروایت کی تحقیق لکھی جارہی ہے، حافظ ابونعیم اصبہانیl ’’حلية الأولیاء‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’حدثنا محمد بن المُظَفَّر، ثنا العباس بن عمران الغَزِّي الكوفي، ثنا أحمد بن جَمْهُور القَرْقَسَانِي، ثنا علي بن المَدِيني، عن يحيى بن سعيد، عن سفيان الثوري، عن هشام بن عروة، عن أبيه عن عائشة قالت: سمعت رسول الله يقول: إذا سلمت الجمعة سلمت الأيام كلها، ومامن سهْل، ولاجبل، ولاشيء إلا ويستعيذ بالله من يوم الجمعة’‘.( حلية الأولياء:۷ /۱۴۰)

آ پﷺ کا ارشاد ہے: اگر جمعہ ٹھیک رہا تو پورا ہفتہ ٹھیک رہے گا، ہر نرم اور ہر پہاڑ جیسی سخت یعنی ہر چیز جمعہ کے دن اللہ كی  پناہ مانگتی ہے۔

فائدہ: واضح رہے کہ’’ احمد بن جمہور‘‘ کی مذکورہ روایت میں’’إذا سلم رمضان سلمت السنة‘‘ کے الفاظ نہیں، نیز سابقہ متن پر اضافہ بھی ہے، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں،یہ روایت بھی سفیان ثوری عن ہشام عن عروہ عن عائشہr مرفوعاً کےطریق سے ہے، سابقہ دونوں سندیں (سند ابوخالد قرشی اور سند ابومطیع بلخی) بھی اسی (سفیان ثوری الی عائشہr) طریق سے تھی۔  

روایت پر ائمہ کرام l کا  کلام

حافظ ابو نعیم اصفہانی l کا کلام

’’غريب من حديث الثوري، لم نكتبه إلا من حديث أحمد بن جمهور‘‘.( حلية الأولياء:۷ /۱۴۰) ثوری l کی ا حادیث میں سے یہ روایت غریب (اصطلاحی لفظ)ہے، یہ روایت ہم نے صرف احمد بن جمہور سےلکھی ہے۔

امام سیوطی l کا کلام

موصوف نے ’’اللألي المصنوعة‘‘ (۲/۸۸)میں صاف لکھا ہے کہ اس روایت کی سند میں احمد بن جمہور ’’متهم بالكذب‘‘ ہے۔

علامہ شوکانی l کا کلام

’’.....ورواه أبونعيم في الحلية بإسناد آخر من غير طريقه فيه أحمد بن جمهور، وهو متهم بالكذب‘‘. (الفوائد المجموعة:۱/۱۴۶) ’’....اور ابو نعیم lنے ’’حلية الأولیاء‘‘ میں اس روايت کوطریق عبدالعزیز بن ابان كےعلاوه ایک دوسری سند سے ذکر کیا ہے،جس میں احمد بن جمہور ’’متهم بالكذب‘‘ (شدید جرح)ہے‘‘۔

زیر بحث سند میں ائمہ رجال نے احمد بن جمہور کو کلام کامدار بنایا ہے،مناسب معلوم ہوتا ہے کہ احمد بن جمہور کے بارے میں حافظ ذہبی l کے کلام کو ذکر کیا جائے، تاکہ روایت کاحکم سمجھنے میں آسانی ہو۔

احمد بن جمہور کے بارے میں کلام

حافظ ذہبlی ’’میزان الاعتدال‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’أحمد بن جمهور الغَسَّاني شيخ متهم بالكذب‘‘.(میزان الاعتدال:۱ /۸۸، رقم: ۳۲۳)احمد بن جمہورشیخ متهم بالكذب ہے۔

حاصل یہ ہےکہ اس روایت میں موجود راوی احمد بن جمہور کو حافظ ذہبی l، امام شوکانی l نے متہم بالکذب کہا ہے، اس لئے اس روایت کو مذکورہ سند سے بھی رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں، واللہ اعلم۔