روایت: ’’ گناہ، کفر کا قاصد ہے‘‘۔
میرا (حضرت جونپوری lکا)خیال یہ ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: اور کیا ×المعاصي بريد الكفر÷. [گناہ، کفر کا قاصد ہے]حدیث یا مفہوم حدیث ہے؟
جواب: ×المعاصي بريد الكفر. قال الجَرَّاحي في كشف الخَفاء (ص: ۲۱۳/۲): المعاصي بريد الكفر. أي: تجر إليه، لم أره من ذكره غير أن ابن حجر المكي في شرح الأربعين قال: أظنه من قول السلف، وقيل: إنه حديث، وهو معنى ما قيل: الصغيرة تجر الكبيرة، وهي تجر الكفر وهو معنى بريد الكفر، فافهم، انتهى÷.
[معاصی، کفر کا قاصد ہے، جَرَّاحی l نے ’’ کشف الخَفاء‘‘ میں کہا ہے: گناہ، کفر کا قاصد ہے، یعنی کفر کی جانب لے جاتا ہے، میں نے ابن حجر مکی l کے علاوہ کسی کو اسے ذکر کرتے نہیں دیکھا، آپ ’’شرح اربعین‘‘ میں لکھتے ہیں: میرا یہ گمان ہے کہ یہ سلف کا قول ہے، اور کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث ہے، اور اس کا معنی یہ ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ چھوٹا گناہ بڑے گناہ کو، اور بڑا گناہ کفر کو کھینچتا ہے، اور یہی ’’برید الکفر‘‘ کا معنی ہے، سمجھ لیجئے، انتہیٰ]
میرا خیال یہ ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے، اور محض کسی کا یہ کہنا کہ یہ حدیث ہے کافی نہیں ہے، جب تک کہ اس کا مخرج معلوم نہ ہوجائے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ : ’’المعاصی برید الکفر‘‘ کیا حدیث ہے؟ ۲/۲۱۴،۲۱۱۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی lنے ’’حليۃ الاولياء‘‘ (۱۰/ ۲۲۹)میں،اور امام بیہقی l نے ’’شعب الايمان‘‘ (۹/۳۸۴، رقم: ۶۸۳۱)میں مذکورہ جملہ کو ابوحفص نیشاپوری(المتوفی ۲۶۴ھ) کے مقولہ کے طورپر سنداً نقل فرمایا ہے،امام بیہقی l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول: قرأت بخط أبي عمرو بن حمدان [قال: سمعت أبی یقول] قال أبو حفص: المعاصي بَرِيد الكفر كما أن الحُمَّى بَرِيد الموت‘‘.علامہ مناوی lنے بھی ’’فيض القدير ‘‘ (۲/ ۳۷۱) میں اسے ’’قال بعض السلف ‘‘ کہہ کر لکھاہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے‘‘، یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے،لیکن علامہ سخاوی l وغیرہ کا خیال ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے۔
امام،محقق،محدث العصر،شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس جونپوری l کا اجمالی تعارف
[میں (حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ’’ مُنَبِّہَات‘‘ نہ تو حافظ ابن حجر عسقلانی l کی تصنیف ہے اور نہ ہی علامہ ابن حجر ہیتمی مکی lکی تالیف ہے]
روایت: ’’جو جماعت یا طالب علم جس قبر ستان کے قریب سے گزرتے ہیں اس قبرستان کے مردوں کا چالیس روزتک قبر کا عذاب معاف ہو جاتا ہے‘‘۔
یہ روایت بے اصل ہے۔
روایت: ’’×الصدق ينجي، والكذب يهلك÷. سچ نجات دیتا ہے، اور جھوٹ ہلاک کرتا ہے‘‘۔
یہ لفظ بھی تلاش کے باوجود اب تک نہیں ملا، البتہ حضرت کعب r کا غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنا اور پھر سچ سچ خدمت نبویہ میں عرض کردینا اس روایت کے معنی کی صحت کی دلیل ہے۔