روایت: کھانا کھانے کے بعد میٹھا کھانا سنت ہے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] سنن الترمذي:۴/ ۲۸۳،رقم:۱۸۴۸،ت:إبراهيم عطوة عوض،مطبعة مصطفي البابي ـ مصر،الطبعة الأولى ۱۳۸۲هـ .
’’سنن الترمذی‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو:’’حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا العلاء بن الفضل بن عبد الملك بن أبي سوية أبو الهذيل، حدثنا عبيد الله بن عكراش، عن أبيه عكراش بن ذؤيب، قال: بعثني بنو مرة بن عبيد بصدقات أموالهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقدمت عليه المدينة، فوجدته جالسا بين المهاجرين والأنصار، قال: ثم أخذ بيدي فانطلق بي إلى بيت أم سلمة فقال: هل من طعام؟ فأتينا بجفنة كثيرة الثريد والوذر، وأقبلنا نأكل منها، فخبطت بيدي من نواحيها، وأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين يديه، فقبض بيده اليسرى على يدي اليمنى ثم قال: يا عكراش! كل من موضع واحد فإنه طعام واحد.
ثم أتينا بطبق فيه ألوان التمر، أو من ألوان الرطب عبيد الله شك، قال: فجعلت آكل من بين يدي، وجالت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الطبق وقال: يا عكراش! كل من حيث شئت، فإنه غير لون واحد، ثم أتينا بماء فغسل رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه، ومسح ببلل كفيه وجهه وذراعيه ورأسه وقال: يا عكراش! هذا الوضوء مما غيرت النار. قال أبو عيسى: هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث العلاء بن الفضل، وقد تفرد العلاء بهذا الحديث، ولا نعرف لعكراش عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا هذا الحديث‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: حضرت جابر r کے بیٹوں کا آپ ﷺکی دعا کی وجہ سے ذبح کے بعد دوبارہ زندہ ہونا
روایت: 1 جمعہ کے دن یا رات کے علاوہ انتقال کرنے والے گناہ گار مسلمان سے جمعہ کے دن اور رات کے آنے پر عذاب اٹھا لیا جاتا ہے، پھر یہ عذاب قیامت تک نہیں لوٹتا 2 جمعہ کے دن اور رات میں کافر سے بھی عذاب اٹھا لیا جاتا ہے، مگر اس کے بعد لوٹا دیا جاتا ہے۔
روایت : حضرت ابوہریرہ r کے سامنے ایک عورت کا زنا، پھر ولد ِزنا کے قتل کا اقرار کرنا، بالآخر اس کی توبہ کا قبول ہونا۔
روایت: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے رسول! کیا میرا کالا رنگ اور میرے چہرے کی بد صورتیمیرے جنت میں داخلے سے مانع ہے‘‘، اس قصہ میں یہ بھی ہے کہ یہصحابی r اپنے نکاح کا سامان خریدنے بازار گئے، جہاں جہاد فی سبیل اللہکی آواز لگی تو یہ نکاح کا سامان لینے کے بجائے سامانِ جہاد خرید کر جہادمیں شریک ہو ئے اور وہاں شہید ہوگئے، اس قصہ کے آخر میں ہےکہان کی شہادت کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’میرا اس سے چہرا پھیرنااس وجہ سے تھا کہ میں نے حور عین بیویوں کو دیکھا جوکھلی پنڈلیوں اورآشکارہ پازیب کے ساتھ تیزی سے اس کی جانب آرہی تھیں، چنانچہ میں نے حیاء کی وجہ سے ان سے چہرا پھیر لیا ‘‘۔
روایت: حضرت آدمe کا، حضرت حواء علیا السلام کےمہر میں آپﷺپر درود پڑھنا