روایت: حدیث میں ہے: ’’چیتھڑے، روئی اور ان جیسی چیزوں سے استنجاء کرنا فقر کا باعث ہے‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] انظر حاشية على تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق:۱/۷۸،المطبعة الكبرى الأميرية ـ مصر،الطبعة الأولى 1314هـ .
[2] حلبة المجلي وبغية المهتدي في شرح منية المصلي وغنية المبتدي في الفقه الحنفي:1/80 ،ت:أحمد بن محمد الغلاييني الحنفي،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴36هـ .
[3] علامہ ابن امیر حاج l کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو:
’’قلت: وهذا الترتيب غير بادي الوجه، مع مخالفته لعامة الكتب، وكذا قوله: ولا يستنجي بما سواها من الخرقة والقطن ونحوهما، نعم، الوجه يقتضي كراهة الاستنجاء بالخرقة والقطن والكتان واللبد ونحوهما إذا كانت متقومة عند عدم الضرورة، لما فيه من إضاعة المال من غير ضرورة، كما نصوا على أنه يكره بالحنطة والشعير وعلف الدواب لهذا المعنى، وحمل العبارة المذكورة على إرادة هذا بعيد منها لفظا وسياقا، لكن لا بأس في الجملة يحملها عليها بقرينة قوله: لأنه روي في الحديث: أنه يورث الفقر جمعا بين كلام الشيخ على وجه الصواب، لكن الله أعلم بما ذكره من المروي‘‘.
[4] رد المحتار على الدر المختار:1/553،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار عالم الکتب ـ الریاض،الطبعة۱۴۲۳هـ .
علامہ ابن عابدین l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وما ذكره الزاهدي عن النظم: من أنه يستنجي بثلاثة أمدار، فإن لم يجد فبالأحجار، فإن لم يجد فبثلاثة أكف من تراب، لا بما سواها من الخرقة والقطن ونحوهما، لأنه روي في الحديث: أنه يورث الفقر، اه، قال في الحلية: إنه غير ظاهر الوجه مع مخالفته لعامة الكتب، وكذا قوله: لا بما سواها الخ، فإن المكروه المتقوم لا مطلقا، وما ذكره من الحديث الله أعلم به، اه، ملخصا‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’الواجب يفضل المندوب بسبعين درجة‘‘. واجب مندوب (یعنی نفل) سے ستر درجہ افضل ہے۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’الوضوء على الوضوء نور على نور‘‘. وضوء پر وضو ء کرنا نورعلی نور ہے‘‘۔
روایت:’’نبی ﷺ کا ارشاد ہے: زمین جن چیزوں کو اگاتی ہے، ان میں مرض اور شفاء (دونوں) ہیں، سوائے چاول کے، کیونکہ اس میں شفاء ہے، اس میں کوئی مرض نہیں ہے‘‘۔
روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’قلوب بمنزلہ برتن کے ہیں، اور بہترین برتن وہ ہیں جو خیر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہیں، علم کا جمع کرنا مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی تجھ کو حفاظت کرنی پڑتی ہے، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، مال کا نفع اس کے زائل ہونے (خرچ کرنے) سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن علم کا نفع ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے‘‘۔
روایت:’’روي في الأخبار: وهو أن الله تعالى إذا أنزل الرحمة على الجماعة ينزلها أولا على الإمام، ثم يتجاوز عنه إلى من بحذائه في الصف الأول، ثم إلى الميامن، ثم إلى المياسر، ثم إلى الصف الثاني‘‘. اخبار میں مروی ہے: اللہ تعالی جب جماعت پر رحمت نازل فرماتے ہیں تو سب سے پہلے امام پر نازل فرماتے ہیں، پھر رحمت امام سے آگے بڑھ کر اس شخص کی جانب بڑھتی ہے جو پہلی صف میں امام کے مقابل ہو، پھر دائیں جانب، پھر بائیں جانب، پھر دوسری صف کی جانب بڑھتی ہے۔