روایت:’’نبی ﷺ کا ارشاد ہے: زمین جن چیزوں کو اگاتی ہے، ان میں مرض اور شفاء (دونوں) ہیں، سوائے چاول کے، کیونکہ اس میں شفاء ہے، اس میں کوئی مرض نہیں ہے‘‘۔
حکم: باطل، من گھڑت۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] نزهة المجالس:2/3۶0،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
[2] زاد المعاد في هدي خير العباد:۴/۲۶۲،ت:شعيب الأرنؤوط وعبد القادر الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثالثة۱۴18هـ .
[3] الآداب الشريعة:3/۱۲،ت:شعيب الأرناؤوط، وعمر القيام،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثالثة۱۴19هـ .
[4] الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والأصول والنحو والإعراب وسائر الفنون:۲/۵۱، ت:عبد اللطیف حسن،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة۱۴۲۱هـ .
مذکورہ سوال وجواب کا تفصیلی سیاق:
علامہ ابراہیم ناجی l’’نزہۃ المجالس‘‘کی روایات ذکر کرنے کے بعد ان الفاظ سے حافظ سیوطی l سے استفسار فرماتے ہیں:
’’والمسؤول من موالينا وساداتنا علماء الإسلام، وحسنات الليالي والأيام، جمل الله تعالى بوجودهم، وأفاض على المسلمين من بركاتهم وجودهم إمعان النظر فيما سطر في هذه الكراسة، هل يجوز أن يدون في كتاب ويسمى نزهة المجالس ومنتخب النفائس، ويتداوله من لا معرفة له تميز بين الصحيح والسقيم، ويكتبه أو يستكتبه، ويقرأ وينقل منه على الكراسي والمنابر، وماذا يجب على من استهدف وجمعه بعد أن طلبه خادم السنة الفقير إبراهيم الناجي، ونصحه ونهاه وفارقه قائلا: رجعت عنه كما رجع الإمام الشافعي عن القول القديم، ثم عاد إلى ما كان عليه، ودعا الناس إليه، وهل يؤمر بإعدامه، وما وجد من نسخه، مع أن ما اختصر من الكتابة منه خشية الإطالة من هذه المقولة أكثر مما كتب، أم يبقى على حاله؟ أمعنوا في الجواب، بوأكم الله زلفى وحسن المآب‘‘.
حافظ سیوطی l اس کے جواب میں فرماتے ہیں:
’’بسم الله الرحمن الرحيم، الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى! وبعد: فقد وردت هذه الأحاديث من دمشق من محدثها الشيخ برهان الدين الناجي، وصحبتها كتاب يتضمن أنه أنكر على رجل أودعها تصنيفا له، وأنها باطلة، وسأل في الكتابة بذلك، فرأيت كثيرا منها كما قال، وفيها أحاديث واردة بعضها مقبول، وبعضها فيه مقال، وها أنا أتكلم عليها حديثا حديثا‘‘.
اس کے بعد حافظ سیوطی l نے چالیس احادیث پر مشتمل کلام ذکر کیا، جن میں زیر بحث روایت کو ذکر نہیں کیا، پھر فرماتے ہیں:
’’وما عدا ذلك من الأحاديث المسؤول عنها، فمقطوع ببطلانه، والله أعلم‘‘.
[5] الفتاوى الحديثية:ص:174،دار المعرفة ـ بيروت .
[6] كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس:2/124،رقم:1982،مكتبة القدسي ـ القاهرة،الطبعة1351هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’آپﷺ کا ارشاد ہے: ’’ كلوا الأرز، فإن فيه شفاء وبركة‘‘. چاول کھاؤ، اس لئے کہ اس میں شفاء اور برکت ہے‘‘۔
روایت:’’چاول کھاتے وقت کثرت سے درود پڑھنا چاہئے، اس لئے کہ یہ ایسے جوہر سے ہے، جس میں ہمارے نبی ﷺ کا نور رکھا گیا ہے، جب یہ نور آپ ﷺ سے جدا ہوا تو پھٹ کر اور تقسیم ہوکر دانہ دانہ ہوگیا‘‘۔
روایت:’’آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نعم الدواء الأرز، صحيح سليم من كل داء‘‘. چاول کتنی اچھی دواء ہے، صحیح ہے، ہر مرض سے محفوظ ہے‘‘۔
روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے جبریل e نے بتایا کہ اللہ تعالی نے جب آدم eکی تخلیق کی، اور اس کے جسم میں روح داخل کردی، تو مجھے حکم دیا کہ میں جنت کا سیب لے کر اسے آدم eکے حلق میں نچوڑ دوں، سو میں نے اسے ان کے منہ میں نچوڑ دیا، پھر اللہ تعالی نے پہلے قطرے سے اے محمد! آپ کو پیدا کیا، اور دوسرے سے ابو بکر rکو، تیسرے سے عمر rکو، چوتھے سے عثمان rکو، اور پانچویں سے علی rکو، پھر آدم eنے پوچھا: یہ کون ہیں جن کا آپ نے اکرام کیا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد کے پانچ شیوخ ہیں، اور فرمایا: میری تمام مخلوق کے مقابلہ میں میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ اکرام والے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: پھر جب آدم e سے نافرمانی سرزد ہوگئی تو عرض کیا: میرے رب! ان پانچ شیوخ کی حرمت کے وسیلہ سے جن کو آپ نے فضیلت دے رکھی ہے آپ میری توبہ قبول فرما لیں، سو اللہ تعالی نے آپ کی توبہ قبول کرلی‘‘۔
روایت:’’آپﷺ کا ارشاد ہے: میں ایک لطیف جوہر تھا، میں عرش کا طواف کر رہا تھا کہ اللہ تعالی کی مجھ پر نظر پڑگئی، سو مجھے حیاء آئی اور پسینہ آگیا، تو مجھ سے پسینہ کے سات قطرے ٹپکے، پھر پہلے قطرے سے اللہ تعالی نے ابو بکر r، دوسرے سے عمر r، تیسرے سے عثمان r، چوتھے سے علی r، پانچویں سے گلاب کا پھول، چھٹے سے چاول اور ساتویں قطرے سے کدو کو پیدا کیا‘‘۔