روایت:’’چاول کھاتے وقت کثرت سے درود پڑھنا چاہئے، اس لئے کہ یہ ایسے جوہر سے ہے، جس میں ہمارے نبی ﷺ کا نور رکھا گیا ہے، جب یہ نور آپ ﷺ سے جدا ہوا تو پھٹ کر اور تقسیم ہوکر دانہ دانہ ہوگیا‘‘۔
حکم: حافظ سیوطی l نے اسے ’’قطعی باطل‘‘روایات میں شمار کیا ہے، اسی طرح علامہ محمد بن درویش حوت l نے بھی اسے ’’من گھڑت‘‘کہا ہے، اس لئے اسے رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] انظر مفاتيح الجنان شرح شرعة الإسلام:ص:268،المطبعة العثمانية،الطبعة1317هـ .
’’شرعۃ الاسلام‘‘کی مکمل عبارت شرح کے ساتھ ملاحظہ ہو: ’’(ويكثر الصلوة على النبي صلى الله عليه وسلم) إكثارا عند (أكل الأرز) [ كذا في الأصل]، بفتح الهمزة، وضم الراء المهملة، وتشديد الزاء المعجمة، (فإنه من جوهر) أي: خلق في أصل فطرته من جوهر، (أودع) على صيغة المجهول (نور نبينا صلى الله عليه وسلم) قبل ظهور آدم عليه السلام (فيه، فلما فارقه النور) إلى جبهة آدم عليه السلام (انشق وانفت) أي: انكسر، (فصار حبا)‘‘.
[2] حضرت لکھنوی l نے علامہ محمد بن ابو بکر جُوغی کا ترجمہ ان الفاظ سے ذکر کیا ہے:
’’[محمد بن أبي بكر] الواعظ، ركن الإسلام، المعروف بإمام زاده الجُوْغِي، نسبة إلى جوغ، بضم الجيم الفارسية، ثم الواو، ثم الغين المعجمة، قرية من قرى سمرقند، كان إماما فاضلا أديبا كاملا، يفتى ببخارى صاحب بيان فصيح اللسان واسع التقرير كامل التحرير، وكان يعظ الناس، ويتكلم من علوم الصوفية، أخذ العلم عن مجد الأئمة محمد بن عبد الله السُرْخَكَتي، وعن شمس الأئمة بكر بن محمد الزَرَنْجَرِي، وأخذ طريق الخلاف عن منشئ النظر رضي الدين النيسابوري، وأخذ طريق التصوف عن خواجه يوسف الهمداني، وتفقه عليه برهان الإسلام الزَرْنُوْجِي صاحب تعليم المتعلم، وعبيد الله بن إبراهيم المحبوبي، ومحمد بن عبد الستار الكَرْدَرِي، وله شرعة الإسلام .
(قال الجامع:) قد طالعت شرعة الإسلام، فوجدته كتابا نفيسا مشتملا على المسائل الفقهية والآداب الصوفية، إلا أنه مشتمل على كثير من الاحاديث المختلقة، والأخبار الواهية المنكرة‘‘. (الفوائد البهية في تراجم الحنفية:ص:161،قديمي كتب خانه ـ كراتشي) .
[3] نزهة المجالس:2/3۶0،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
’’نزھۃ المجالس‘‘کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’لطيفة: رأيت في كتاب شرعة الإسلام: يستحب إكثار الصلاة على النبي عند أكل الأرز، لأنه كان جوهرا في الجنة، أودع الله فيه نور محمد صلى الله عليه وسلم، فلما خرج منه النور تفتت، فصار حبا‘‘.
[4] الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والأصول والنحو والإعراب وسائر الفنون:۲/۵۱، ت:عبد اللطیف حسن،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة۱۴۲۱هـ .
مذکورہ سوال وجواب کا تفصیلی سیاق:
علامہ ابراہیم ناجی l’’نزہۃ المجالس‘‘کی روایات ذکر کرنے کے بعد ان الفاظ سے حافظ سیوطی l سے استفسار فرماتے ہیں:
’’والمسؤول من موالينا وساداتنا علماء الإسلام، وحسنات الليالي والأيام، جمل الله تعالى بوجودهم، وأفاض على المسلمين من بركاتهم وجودهم إمعان النظر فيما سطر في هذه الكراسة، هل يجوز أن يدون في كتاب ويسمى نزهة المجالس ومنتخب النفائس، ويتداوله من لا معرفة له تميز بين الصحيح والسقيم، ويكتبه أو يستكتبه، ويقرأ وينقل منه على الكراسي والمنابر، وماذا يجب على من استهدف وجمعه بعد أن طلبه خادم السنة الفقير إبراهيم الناجي، ونصحه ونهاه وفارقه قائلا: رجعت عنه كما رجع الإمام الشافعي عن القول القديم، ثم عاد إلى ما كان عليه، ودعا الناس إليه، وهل يؤمر بإعدامه، وما وجد من نسخه، مع أن ما اختصر من الكتابة منه خشية الإطالة من هذه المقولة أكثر مما كتب، أم يبقى على حاله؟ أمعنوا في الجواب، بوأكم الله زلفى وحسن المآب‘‘.
حافظ سیوطی l اس کے جواب میں فرماتے ہیں:
’’بسم الله الرحمن الرحيم، الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى! وبعد: فقد وردت هذه الأحاديث من دمشق من محدثها الشيخ برهان الدين الناجي، وصحبتها كتاب يتضمن أنه أنكر على رجل أودعها تصنيفا له، وأنها باطلة، وسأل في الكتابة بذلك، فرأيت كثيرا منها كما قال، وفيها أحاديث واردة بعضها مقبول، وبعضها فيه مقال، وها أنا أتكلم عليها حديثا حديثا‘‘.
اس کے بعد حافظ سیوطی l نے چالیس احادیث پر مشتمل کلام ذکر کیا، جن میں زیر بحث روایت کو ذکر نہیں کیا، پھر فرماتے ہیں:
’’وما عدا ذلك من الأحاديث المسؤول عنها، فمقطوع ببطلانه، والله أعلم‘‘.
[5] أسنى المطالب:ص:۹۹،رقم:۴۲۶،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[6] أسنى المطالب:ص:۸۸ ،رقم:۳۶۶،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’نبی ﷺ کا ارشاد ہے: زمین جن چیزوں کو اگاتی ہے، ان میں مرض اور شفاء (دونوں) ہیں، سوائے چاول کے، کیونکہ اس میں شفاء ہے، اس میں کوئی مرض نہیں ہے‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’الوضوء على الوضوء نور على نور‘‘. وضوء پر وضو ء کرنا نورعلی نور ہے‘‘۔
روایت:’’آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نعم الدواء الأرز، صحيح سليم من كل داء‘‘. چاول کتنی اچھی دواء ہے، صحیح ہے، ہر مرض سے محفوظ ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے اناروں میں سے ہر ایک انار میں جنتی انار کا ایک دانہ ہوتا ہے‘‘۔
روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے جبریل e نے بتایا کہ اللہ تعالی نے جب آدم eکی تخلیق کی، اور اس کے جسم میں روح داخل کردی، تو مجھے حکم دیا کہ میں جنت کا سیب لے کر اسے آدم eکے حلق میں نچوڑ دوں، سو میں نے اسے ان کے منہ میں نچوڑ دیا، پھر اللہ تعالی نے پہلے قطرے سے اے محمد! آپ کو پیدا کیا، اور دوسرے سے ابو بکر rکو، تیسرے سے عمر rکو، چوتھے سے عثمان rکو، اور پانچویں سے علی rکو، پھر آدم eنے پوچھا: یہ کون ہیں جن کا آپ نے اکرام کیا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد کے پانچ شیوخ ہیں، اور فرمایا: میری تمام مخلوق کے مقابلہ میں میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ اکرام والے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: پھر جب آدم e سے نافرمانی سرزد ہوگئی تو عرض کیا: میرے رب! ان پانچ شیوخ کی حرمت کے وسیلہ سے جن کو آپ نے فضیلت دے رکھی ہے آپ میری توبہ قبول فرما لیں، سو اللہ تعالی نے آپ کی توبہ قبول کرلی‘‘۔