روایت: ’’جس نےچالیس دن تک گوشت کھانا چھوڑدیا اس کےاخلاق برے ہوجائیں گے،اور جوشخص چالیس دن تکگوشت کھا ئے گااس کا دل سخت ہوجائے گا‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] إحياء علوم الدين:۸/۱۵۱۱،دارالشعب ـ قاهرة .
[2] ذیل اللالئ:ص:۳۶۸،رقم:۶۷۱،ت:زیاد النقشبندی،دارابن حزم ـ بيروت،الطبعة۱۴۳۲هـ .
[3] تذكرة الموضوعات:ص:۱۴۶،کتب خانة مجیدية ـ ملتان .
[4] تنزيه الشريعة:۲/۲۶۲،ت:عبد الله بن محمد الغماري،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۱هـ .
حافظ ابونعیم اصبہانیl نے گوشت کھانے سے متعلق ایک موقوف روایت تخریج کی ہے: ’’ حدثنا أبو بكر بن مالك، قال: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، قال:حدثني أبي، قال:حدثنا عبد الأعلى، عن بُرْد، عن نافع، عن ابن عمر: أنه كان لا يدمن اللحم شهرا إلا مسافرا أو في رمضان، وكان يمكث الشهر لا يذوق فيه مِزْعَة اللحم‘‘. حضرت نافع l فرماتے ہیں : عبداللہ بن عمر ؓ رمضان اور سفر کے علاوہ مسلسل ایک مہینے تک گوشت تناول نہیں فرماتے تھے، اورکبھی (عام حالات میں)ایک مہینے تک گوشت کا ٹکڑا تک نہیں چکھتے تھے(الطب النبوی:۲/ ۷۳۶، رقم: ۸۵۰)۔
ملتی جلتی احادیث
روايت: ’’ أذيبوا طعامكم بذكرالله عزوجل والصلاة، ولاتناموا عليه، فتقسوا قلوبكم ‘‘ .
یادِ الٰہی اور نماز سے اپنا کھانا گلایا کرو، کھانا کھا کر سویا نہ کرو، ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے۔
روایت: حضرت سلمانr کو آپ ﷺ کا ترتیب وار چالیس احادیث بیان کرنا ،اور انہیں یاد کرنے پرانبیاء و علماء کے ساتھ حشر کی فضیلت۔
روایت : ’’عید کے دن رسالت مآبﷺ کا ایک بے سہارایتیم بچےکے ساتھ اخلاق کریمانہ سے پیش آنا ‘‘
حضرت جبرائیل eکا رسالت مآب ﷺ کو جہنم کے احوال بیان کرنا،اس پرآپﷺ کا اپنی امت کے بارے میں انتہائی غم زدہ ہونا،حضرت فاطمہR کے پوچھنے پر انہیں تمام احوال بیان کرنا